انسانی عقل

 انسان کی شخصیت اُس کی سوچ اور عمل سے بنتی اور بگڑتی ہے ،لہٰذا عقل کی تطہیر لازمی ہے۔ دراصل سر تا پا انسان کا پورا جسم ہی عقل کے ماتحت ہے ۔ عقل یا شعور قدیم زمانے سے علماء اور فلاسفہ کا موضوعِ بحث رہاہے۔ اسلام سے قبل جو قدآور فلسفی گزرے ہیںجیسے ارسطو، سقراط، افلاطون،ویمقراطیس اور جالینوس وغیرہ کے یہاں عقل اور شعور پر سیر حاصل بحثیں ملتی ہیں۔انیسویں صدی کے وسط میں جرمنی کے ایک فلسفی نٹشے نے جب ہر حقیقت کو عقل کے معیار پرجانچنے پر کھنے کی کوشش کی تو علامہ اقبال ؒ نے اُس کی سوچ اورشخصیت کا یوں ذکر کیا    ؎ 
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں 
اقبال اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے
   قرآن عقل انسانی کے تراشیدہ تمام مادیت پرستانہ فلسفوں اور غلط تصورات کا رد کرتے ہوئے انسان کو اس کی حقیقت اور مقام سے آگاہ کر تاہے، قرآن نے ہی انسان کو غوروفکر پر بھی اُبھارا۔دوسرے الفاظ قرآن نے ہی انسان کی عقل ،فہم اور شعور کو یہ وسعت عطا کی کہ وہ اپنے رب کو پہچان کر اُس کی اطاعت کرسکے۔قرآن میں ارشاد ہوا ہے:’’بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندرمیں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ،پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیااور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلادئے اور ہوائوں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے،اُن لوگوں کے لئے یقینابہت سی نشانیاں ہیں جو عقل رکھتے ہیں‘‘البقرہ۔164
قرآن نے ’’شعور‘‘ اور ’’عقل‘‘کے ذریعے کائنات پر ٖغور وفکر کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ انسان کو اپنے رب کی معرفت ہوسکے، قرآن نے خالص اُن لوگوں کو باشعور کہا ہے جو ایمان کی دولت سے مالامال ہوکرغور وفکر اور تدبر سے کام لیتے ہوں۔ باقی لوگ عقل اور شعور سے محروم  نہیںہوتے بلکہ اُن کی عقل ( شعور) پر کسی خارجی قوت(مادیت وغیرہ) کا غلبہ ہوتا ہے جو اُن کے شعور کو اُبھر نے نہیں دیتی۔ شعور کی وہ ایمانی سطح جو انسان کو کائنات کے ساتھ ساتھ باقی چیزوں پر غور وفکر کے لئے ابھارے ، اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان پر کائنات کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ اپنی ذات کو دریافت کرتا ہے    ؎
  فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر  مقام ِ رنگ و بو کر
 فون8825090545