انسانی حقوق کے عالمی دن پر مزاحمتی جماعتیں اوربشری حقوق کے ادارے سراپا احتجاج

سرینگر //انسانی حقوق کے عالمی دن پر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹینیو گیوٹرس کے نام ایک میمورنڈم روانہ کیا ۔میمورنڈم میں مشترکہ قیادت نے کہا ہے ”حقوق انسانی کے عالمی دن کی 70ویں سالگرہ پر ہم جموں کشمیر کے عوام اس میمورنڈم کے ذریعے آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دن دنیا کے تمام عوام کی برابری ، آزادی اور انسانی حقوق کو تسلیم کرتا ہے اور اس پر دستخط کرنے و تسلیم کرنے والوں میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ تاہم حکومت ہندوستان کا طرز عمل خاص طور پر جموں کشمیر کے حوالے سے اس کے قطعی برعکس ہے“۔میمورنڈم کے مطابق 1989سے ہندوستام کی سرکاری فورسز کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائد افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے ، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے حقوق کے حصول کےلئے احتجاج کرنے پر مقید کردیا گیا،ن کو عقوبت خانوں میں زبردست ذہنی و جسمانی تشدد کا شکار بنایا گیا۔ جموں کشمیر کے عوام حصول حق خودارادیت کےلئے جب احتجاج کرتے ہیں تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی حق سے دست بردار ہوجائیں ۔ جموں کشمیر کے عوام کی حصول حق خودارادیت کی یہ تحریک پچھلے 70سال سے جاری ہے اور ان کا یہ حق اقوام متحدہ کے چارٹر اور کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ ہندوستانی سرکاری فورسز جنہیں افسپا اور دیگر ایسے ہی قوانین کے تحت غیر قانونی اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ کشمیر میں کھلے عام سنگین جرائم کا ارتکار کر رہے ہیں۔ عوام کو زیر کرنے کےلئے قدم قدم پر پابندیاں اور بندشیں عائد کی جاتی ہیں۔ انہیں جیلوں میں مقید رکھا جاتا ہے ۔ یہاں کی مزاحمتی قیادت کو یاتو جیلوں میں یاپھر اپنے گھروں میں مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے اور اس طرح ان کو عوام کی رہنمائی کرنے و ان کے حقوق کےلئے آواز بلند کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کو ہراساں کرنے کےلئے ہندوستان کی تحقیقاتی ایجنسیوں خاص طور پر این آئی اے کا سہارا لے کر ان کے افراد خانہ و حامیوں کو گمراہ کن الزامات کے تحت بے بنیاد کیسوں میں ملوث کرکے جیلوں میں مقید رکھا گیا ہے جہاں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے ،CASOجیسے فوجی آپریشن کی آڑ میں فورسز لوگوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ اور مکینوں کو زدکوب کرتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں پیلٹ اور گولیوں کا شکار بنایا جاتا ہے۔ حکومنت ہندستان نے کشمیر کے نہتے عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے مذہبی حقوق سے بھی کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ حکومت ہندوستان مسلسل کشمیر کے بنیادی مسئلے اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے نیز اس مسئلے کے پر امن، منصفانہ حل سے انکاری ہے۔ وہ صرف ظلم و تشدد کا سہارا لے کر عوام کے حق خودارادیت کو غصب کرنا چاہتی ہے۔ تنازعے کے تسلسل کی ہی وجہ ہے کہ سال2017میں ہی جموں کشمیر میں361 لوگ اپنی جان سے گئے جبکہ اس دوران ہزاروں لوگ کشمیر کے گلی کوچوں میں بھارتی افواج و پولیس کی گولیوں، پیلٹ اور شیلوں کا نشانہ بن کر زخمی ہوگئے جن میں بیشتر عام لوگ ہی تھے۔2016کے عوامی انقلاب کے دوران بھی قریب 152 کشمیری معصوم بھارتی جبر کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ ہزاروں لوگ آنکھوں کی بینائی اور دوسرے اعضاءسے محروم کئے گئے۔اس دوران ہزاروں لوگ قید کئے گئے اور ہزاروں کو ٹارچر کے مراحل سے گزارا گیا۔ آج بھی مختلف جیلوں کے اندر قرین1900 معصوم جیلوں میں انڈر ٹرائل ہیں جبکہ جیلوں خاص طور پر دہلی کے تہاڑ جیل سے قیدیوں خاص طور پر کشمیری قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز مظالم ڈھانے کا سلسلہ بھی دراز تر کیا گیا ہے۔آج بھی جموں کشمیر کی 14 جیلوں میں قریب2364 قیدی اور1929 انڈر ٹرائل قید ہیں جبکہ ان میں 347افراد کو سزا سناکر نیز118 لوگوں پر پی ایس اے لگاکر اسیر رکھے جارہے ہیں۔ہم جموں کشمیر کے عوام‘ آپ کو اور آپ کے ذریعے اقوام متحدہ کے تمام ممبرممالک سے درخواست کرتے ہیں کہ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے اور حکومت ہندستان کو کشمیری عوام پر ظلم و تشدد ڈھانے سے روکا جائے ۔ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور مسئلہ کشمیر کے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ایک منصفانہ حل تلاش کرلیاجائے ساتھ ہی ساتھ کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں ہوئے ظلم و تشدد کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرائی جائے ۔اقوام متحدہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن مقرر کرے تاکہ تمام دنیا کے عوام مسئلہ اور کشمیری عوام پر ہو رہے مظالم سے باخبر ہو کر اس کے خلاف آواز بلند کر سکے۔