انسانی حقوق سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تصور کی بنیاد ہے :مودی

 نئی دہلی//وزیراعظم نریندر مودی نے سماج کے استحصال کے شکار، مظلوم اورمحروم طبقات کے لوگوں کو سماجی آزادی، امن اور انصاف کو یقینی بنانے کے لئے حقوق انسانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ''سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تصور کی بنیاد ہے ۔''مسٹر مودی نے اتوار کو آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ماہانہ پروگرام ''من کی بات'' میں کہا کہ ''ایک سماج کی شکل میں ہمیں انسانی حقوق کی اہمیت کو سمجھنے اور سماج کے رویہ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ یہی سب کا ساتھ، سب کا وکاس کی بنیاد ہے ۔انہوںنے کہا کہ سنسکرت کی ایک کہاوت ہے جس کا مفہوم یہ کہ سوراج کے بنیاد میں انصاف ہوتا ہے ۔ جب انصاف کا ذکر ہوتا ہے تو انسانی حقوق کا تصور اس میں پوری طرح سے جاگزیں رہتا ہے ۔ استحصال زدہ ، مظلوم اور محروم لوگوں کی آزادی ، امن اور ان کے لئے انصاف کو یقینی بنانے کے لئے یہ خاص طور سے لازمی ہے ۔انہوںنے کہا کہ ملک نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی بصیرت سے تحریک لے کر 12 اکتوبر 1993 کو قومی انسانی حقوق کمیشن کی تشکیل کی تھی۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جی کے الفاظ میں انسانی حقوق اس ملک کے لئے کوئی اجنبی تصور نہیں ہے ۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے علامتی نشان میں ویدک عہد کا مثالی منتر 'سروو بھونتو سکھنا' یعنی ساری دنیا خوش رہے ۔ تحریر ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ کچھ ہی دنوں میں اس کمیش کے 25 سال پورے ہونے و الے ہیں اور اس سفر میں اس ادارے نے نہ صرف انسانی حقوق کے تحفظ بلکہ انسانی وقار کو بڑھانے کا بھی کام کیا ہے ۔انسانی حقوق کے بارے میں وسیع بیداری پیدا کی ہے اور ساتھ ہی اس کے غلط استعمال کو روکنے میں بھی قابل تعریف رول ادا کیا ہے ۔ اس نے ملک کے عوام میں ایک امید، یقین اور اعتماد کا ماحول پیدا کیا ہے جو ایک صحت مند سماج کے لئے اعلی جمہوری اقدار کے لئے ایک بہت امید افزا واقعہ ہے ۔یو این آئی