انسانیت کُش عزائم کا عکاس

 
 
 
سرینگر//انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ایام فاطمیہؑ کی مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ہفتہ کاو¿پورہ سمبل میں مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام اورقدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مجلس عزا منعقد ہوئیں۔اس سلسلے میں ماگام بڈگام میں بھی اتوار 5 مارچ 2017 کو مجلس عزا کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغاسید حسن نے حضرت فاطمہ الزہراؑ کے سیرت و کردار کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی ۔اس موقعہ پر آغا حسن نے حکومت ہند کی طرف سے کشمیر میں تعینات فورسز کو پیلٹ گنوں سے لیس کرنے کیلئے پیلٹ گنوں کی بھاری تعداد میں فراہمی کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کا یہ فیصلہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت کُش عزائم کی نشاندہی کررہا ہے۔ کشمیری عوام کو زیر کرنے کیلئے وحشی درندوں کیلئے مخصوص ہتھیار فورسز کو فراہم کرکے بھارت واضح طور پر یہ عندیہ دے رہا ہے کہ وہ کشمیری قوم کو انسان تصور نہیں کرتا۔ انہوںنے کہا کہ 2016 کی پُرامن ہمہ گیر عوامی احتجاجی تحریک کے دوران پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال سے بھاری تباہی اور شدید انسانی مسائل نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور بھارت سے پیلٹ گنوں کے استعمال پر شدید احتجاج کیا گیا تھا، لیکن بھارت نے فورسز کو مزید 5000 پیلٹ گن فراہم کرنے کا فیصلہ کرکے عالمی تشویش کو یکسر مسترد کیا اور کشمیر میں اپنے انسانیت سوزایجنڈے کو جاری رکھنے کیلئے ایک بار پھر اپنے عزائم کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے انسانیت سوز عزائم کے باوجود کشمیری عوام اپنی تحریک حق خود ارادیت کو آگے بڑھانے میں کسی بھی خوف و تردد کا شکار نہیں ہونگے۔ آغا حسن نے کہا کہ کشمیریوں کی سیاسی بے چینی کا علاج مہلک ہتھیار اور فوجی دباو¿ نہیں بلکہ بنیادی مسئلے کے حل کیلئے فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل سے ہی خطے میں دیر پاامن کا خواب شرمندہ¿ تعبیر ہوسکتا ہے۔