انسانیت پرستی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہندوستان کی قدیم اقدار کا مرکز | امرت کال ثقافتی نشاۃ ثانیہ کا دور سنسکرت زبان میںجدید دور کے چیلنجوں کا حل فراہم کرنے کی صلاحیت موجود:ایل جی سنہا

عظمیٰ نیوز سروس

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر شری کاشی ودوت پریشد، جموں کے یوم تاسیس سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں، لیفٹیننٹ گورنر نے انجمن کے تمام اراکین کو قدیم اقدار، شاندار اور بھرپور جامع ثقافت، علمی نظام کو تقویت دینے کے لیے سنسکرت کے فروغ اور ترقی کے لیے ان کی سرشار کوششوں کے لیے مبارکباد دی۔

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا”ہندوستان کو ہمیشہ ایک زندہ رہنما اور ایک متحرک توانائی کے میدان کے طور پر سمجھا جاتا رہا ہے جس نے ایک دنیا، ایک خاندان اور تمام مذاہب، فرقوں اور روحانی سلسلوں کا احترام کرنے کا پیغام دیا۔ انسانیت پرستی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے نظریات ہماری قدیم اقدار کا بنیادی حصہ ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی فلاح ہمارے باباؤں، اولیاء اور عرفان کا اولین مقصد ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے ضمیر کو بیدار کرنے، سماجی اصلاحات کو فروغ دینے اور ریاضی، کیمسٹری، طب، ادب اور فنون میں علم کا خزانہ فراہم کرنے کے لیے وقف کر دیا اور دنیا کو مالا مال کیا۔ایل جی نے کہا”سنسکرت ہماری عظیم تہذیب کے آدرشوں اور اقدار کا ماخذ ہے اور اس میں جدید دور کے چیلنجوں کا حل فراہم کرنے کی صلاحیت ہے‘‘۔انہوں نے جموں و کشمیر شری کاشی ودوت پریشد، مختلف تنظیموں اور افراد پر زور دیا کہ وہ سنسکرت اور قدیم اقدار کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مضبوط کریں۔انہوں نے کہا کہ قدیم ہندوستان ٹیکنالوجی اور تحقیق میں باقی دنیا کے مقابلے میں بہت آگے تھا۔انکا کہناتھا کہ امرت کال ہندوستان کی ثقافتی نشاۃثانیہ کا دور ہے،پوری دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے،ہر شہری کو اس سفر کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرنا چاہیے اور ہم میں سے ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنے کا یکساں موقع ہے تاکہ ہمارا عظیم ملک ‘وشوا گرو’ کی اپنی پرانی شان کو دوبارہ حاصل کر سکے ۔اس موقع پر موجود مختلف معززین کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے یقین دلایا کہ سنسکرت کی تمام خالی اسامیوں کو ایک سال کے اندر پْر کر دیا جائے گا، اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کو حرف بہ حرف لاگو کیا جائے اور ہر یونیورسٹی میں ہندوستانی فلسفہ پڑھایا جائے۔جموں و کشمیر میں شاردا یونیورسٹی کے قیام پر لیفٹیننٹ گورنر نے یونیورسٹی کے لیے ایک قابل عمل روڈ میپ تیار کرنے پر زور دیا اور اس کوشش میں تمام ضروری تعاون کا یقین دلایا۔