انجمن ترقی گوجری ادب ڈوڈہ کے اشتراک منعقدہ 5 روزہ ورکشاپ اختتام پذیر | ملک کی دس ریاستوں سے آئے 30 دانشوروں،قلمکاروں و فنکاروں نے شرکت کی

ڈوڈہ //انجمن ترقی گوجری ادب کے اشتراک سے کل بھارتی قبائلی زبانوں کے فروغ کیلئے ڈوڈہ ضلع کے مختلف علاقوں میں منعقد پانچ روزہ ورکشاپ اختتام پذیر ہوئی جس میں ملک کی دس ریاستوں سے آئے 30 سے زائد دانشوروں، قلمکاروں، ادیبوں و فنکاروں نے شرکت کی۔قبائلی زبان کے مشہور قلمکار اشونی کمار پنکج کی سربراہی میں آئے وفد نے ڈوڈہ، بھدرواہ جائی، گندوہ ڈھڈکائی، چلی گلی کا دورہ کر کے گوجر بکروال و خانہ بدوش طبقہ سے بھی ملاقات کی۔ورکشاپ کے کوآڈینیٹر و معروف گوجری شاعر جان محمد حکیم نے اپنے افتتاحی کلمات میں پروگرام میں شامل سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قبائلی علاقوں سے متعلق تفصیلی خاکہ پیش کیا۔اس موقع پر بولتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہر سرکار قبائلی طبقہ کے لوگوں کو اپنے حقوق سے محروم رکھتی ہے۔ انہوں نے جنگلی اراضی و پہاڑوں پر رہائش پذیر قبائلی لوگوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے و ان کی زبانوں میں بچوں کو تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قبائلی لیڈر جے پال منڈا کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر عمل درآمد کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ ورکشاپ کے دوران سرکار سے اپیل کی گئی شیڈول ٹرائب کی آبادی والے علاقوں میں اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے آفیسران و ملازمین کو ہی تعینات کیا جائے تاکہ وہ ان کا دکھ درو درپیش مسائل کا آسانی سے حل تلاش کر سکیں۔ ورکشاپ کی چیف ایگزیکٹو وندنہ ٹٹے نے قبائلی خواتین کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرکاریں ووٹ بنک کی خاطر اس سماج کے اس پسماندہ طبقہ کو سبز باغ دکھا کر اقتدار حاصل کرتیں ہیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو ہمیشہ کے لئے بھول جاتے ہیں.۔ریسورس پرسن دیپک باڑا نے کہا کہ قبائلی طبقہ کی فلاح و بہبود کی خاطر الگ سے بجٹ تیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکمران جماعتیں قبائلی لوگوں کو اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور کر رہیں ہیں۔انہوں نے قبائلی طبقہ کے لوگوں سے اتفاق و اتحاد برقرار رکھنے و اپنے حق کی آواز کو بلند کرنے کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس دوران گوجری لوک گیت و دیگر تمدنی پروگرام پیش کئے گئے جبکہ گوجری شعراء نے اپنے کلام سے بھی سامعین کو محظوظ کیا۔ انجمن ترقی گوجری ادب نے جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں میں اس طرح کا ورکشاپ منعقد کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا پروگرام تھا جس میں ملک کی نامور شخصیات نے شرکت کی اور گوجر بکروال و خانہ بدوش کنبوں کے تئیں اپنے خیالات و مشوروں سے نوازا۔اس موقع پر ٹرسٹ کی جانب سے پرائمری ہیلتھ سینٹر جکیاس میں ایک مفت طبی کیمپ کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں وادی کشمیر کے نامور معدے کے معالج ڈاکٹر نیاز احمد جان نے مریضوں کی طبی جانچ کی۔