انجمن اوقاف جامع مسجد کے حسابات واضح اور صاف و شفاف

 سرینگر//انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے کہا ہے کہ کشمیر میں اسلام کی آمد کی تاریخ کے ساتھ ہی یہاں اہالیان کشمیر کی تربیت اور اشاعت اسلام، حفاظت اسلام کے میدان میں میرواعظین کشمیر بالخصوص میرواعظ محمد صدیق اللہ شاہ، میرواعظ علامہ رسول شاہ، میرواعظ احمد اللہ شاہ ، میرواعظ عتیق اللہ شاہ، میرواعظ علامہ محمد یوسف شاہ، میرواعظ شہید ملت مولوی محمد فاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب سے اہالیان کشمیر کو دین اسلام کی روح سے آشنا کرکے ان میں عمل کا جذبہ پیدا کرنے کے علاوہ قوم کو جہالت اور ناخواندگی کے دلدل سے نکال کر انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے اور کشمیری عوام کو درپیش سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے تئیں حق و انصاف کی آواز بلند کرتے رہے ۔ انجمن کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی بعض پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے اس عظیم خاندان خاص طور پر موجودہ میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق جو انجمن کے صدر ہیں کیخلاف ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جھوٹ پر مبنی گمراہ کن اور بے بنیا د پروپیگنڈے کی شدید مذمت کی جاتی ہے ۔بیان کے مطابق اس گھنائونے منصوبے اور سازش کا مقصد جہاںاہالیان کشمیر کے سب سے بڑے مذہبی رہنما میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کی کردار کشی اور ان کے تئیں غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے وہاںانکی زیر نگرانی چلنے والے ان دینی ، تعلیمی، سماجی اور فلاحی اداروں جن میں انجمن اوقاف بھی شامل ہے کو بدنام کرکے کشمیری عوام کے جذبات کو بھی مجروح کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر عوام کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ انجمن اوقاف جامع مسجد کے بانی سابق میرواعظ کشمیرمولوی محمد فاروق تھے جنہوں نے 1970 میں تاریخی اور مرکزی جامع مسجد کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے ، اسکی دیکھ ریکھ اور انتظام و انصرام اور روز مرہ کے اخراجات کو شایان شان طور پر چلانے کیلئے اوقاف کو اپنے رفقاء کے ہمراہ قائم کیا تھا چونکہ اس عظیم مقصد کیلئے بھاری رقومات درکار تھیں جس کیلئے شہید رہنما نے جامع مسجد کے ارد گرد دکانات کی تعمیر کیلئے محب وطن اور دیندار کشمیری عوام اور جن افراد کو دکانوں کی ضرورت تھی ،ان سے پیشگی رقوم حاصل کرکے 281 دکانات اور کمرے تعمیر کرائے تاکہ اس آمدنی اور لوگوں کے عطیات سے جامع مسجد کے اخراجات اور مصارف اور اوقاف کے ملازمین اور عملہ جات کی تنخواہ  اور جامع مسجد کی شان و شوکت کو بحال رکھنے وغیرہ میں صرف کی جاسکے ۔بیان کے مطابق حد تو یہ ہے کہ اس بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈے میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کی ان دکانات کو میرواعظ کی ذاتی ملکیت قرار دیکر اس سے حاصل شدہ آمدنی میرواعظ کے کھاتے میں دکھائی جا رہی ہے۔بیان کے مطابق پچاس سال قبل شہید رہنما نے میرواعظ منزل راجوری کدل میںایک عمارت تعمیرکرائی تھی جس کے نیچے کچھ دکانات اور اوپری منزل میں جموںوکشمیر بنک کی شاخ ہے جو شہید رہنما کی ذاتی ملکیت تھی اور ان کی شہادت کے بعد انکے وارثوں میں تقسیم کی گئی ہے لیکن تعجب اور حیرت ہے کہ یہ قوتیں اس نجی آمدنی کو بھی انجمن اوقاف کی آمدنی کے مد میں شمار کررہی ہیں۔ اسی طرح کئی اور فرضی جائیدادوں کی کہانی گڑھ کر اُسے میرواعظ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اسی طرح انجمن اوقاف کے علاوہ میرواعظ جن تعلیمی اور فلاحی اداروں کے سربراہ ہیں ان کی جائیداد اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو بھی میرواعظ کی ذات کی طرف منسوب کیا جارہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انجمن اوقاف یہ بات واضح کرنا چاہتا ہے کہ انجمن ہر سال جمعتہ الوداع کے مقدس موقعہ پر آمدنی و خرچ کا گوشوارہ عوام کی اطلاع کیلئے شائع کراتا ہے اور وقتاً فوقتاً انجمن کے حسابات کو Audit کرایا جاتا ہے، انجمن کے حسابات بالکل واضح اور صاف و شفاف ہیں اور کوئی بھی شخص انجمن کے دفتر میں آکر اسے جانچ سکتا ہے۔ بیان کے مطابق جہاں تک بھارتی تفتیشی ایجنسی NIA کا سوال ہے تو اس نے انجمن اوقاف کے عہدیداروں کے نام نوٹس جاری کرکے ان سے پوچھ گچھ کی اور بعد میں انہیں انجمن اوقاف کا ریکارڈ زبانی طور پر انہیں پیش کرنے کو کہا۔ چنانچہ اس سلسلے میں انجمن کے صدر میرواعظ نے اوقاف کے ممبران کی ایک خصوصی میٹنگ طلب کی جس میں قانونی مشیر(Legal Advisor) کی رائے کے مطابق یہ فیصلہ لیا گیا کہ متعلقہ ایجنسی کوتحریری طور پر آگاہ کیا جائے کہ وہ مطلوبہ ریکارڈ کی تفصیل باضابطہ طور پر لکھ کر بھیجیں تاکہ انجمن متعلقہ ریکارڈ انہیں پیش کرسکے۔بیان کے مطابق انجمن اوقاف تمام حق و صداقت اور صحافتی مسلمہ اصولوں پہ یقین رکھنے والوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اصل حقائق پر مبنی اس وضاحتی بیان کو من و عن شائع کرکے عوام کو صحیح صورتحال سے باخبر کریں۔