انتہا پسندی کے خلاف ’صفررواداری‘پالیسی اپنانے کی ضرورت | اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے وزیرخارجہ ایس جے شنکرکاخطاب

سرینگر//بھارت نے انتہاپسندی کے خلاف صفررواداری پالیسی اپنانے کی اقوام عالم سے اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے وزیرخارجہ ایس جے شنکرنے پاکستان کی تنقید کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو فوری طور ختم کیاجائے اور افغانستان میں دیرپاامن کے قیام کے لئے ان کی فراہمی کو فوری طور بند کیاجائے۔ سی این آئی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی تقریر کے دوران ، وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان ، فوری طور پر تشدد کو کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے افغانستان میں مستقل اور جامع جنگ بندی چاہتا ہے۔ انتہاء پسندی کے خلاف 'صفر رواداری' کی پالیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، وہ پاکستان کا حوالہ دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی انتہاء پسند تنظیم کے ذریعہ کسی دوسرے ملک کو دھمکی دینے یا حملہ کرنے کے لئے استعمال نہیں کی جائے گی۔ انتہا تنظیموں کو امداد ، مالی مدد اور دیگر مواد فراہم کرنے والوں کو اس کا جوابدہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرا افغان مذاکرات افغانستان میں جاری تشدد کو کم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس لئے ضروری ہے کہ عالمی برادری اور سلامتی کونسل مستقل اور جامع جنگ بندی کے لئے دباؤ بنائیں تاکہ تشدد میں فوری کمی واقع ہو اور عام شہریوں کی زندگیوں کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان، افغان حکومت اور طالبان کے مابین جاری مذاکرات کو تیز کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔اس سلسلے میں ، ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ امن کی بحالی کے لئے یہ بات بہت اہم ہے کہ مذاکرات میں شامل فریقین کو اچھے جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان فریقین کے مابین سیاسی حل اور افغانستان میں مستقل جنگ بندی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے۔ جے شنکر نے اقوام متحدہ کے قائدانہ کردار کی حمایت کی اور اسے دیرپا حل تلاش کرنے میں اہم قرار دیا۔