انتونیو گوتیرس کی بڑی آئل کمپنیوں پر تنقید

ڈیووس //قوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے تیل کی بڑی کمپنیوں کو گلوبل وارمنگ میں ان کے کردار سے متعلق بڑے جھوٹ بولنے پر نپے تلے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور ورلڈ اکنامک فورم پر زور دیا کہ انہیں جوابدہ بنانا چاہیے ۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر سے آئے کاروباری اور سیاسی شعبے کی ایلیٹ کلاس سے بھرے ہوئے کمرے میں خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتیرس نے تیل اور تمباکو کمپنیوں کے اقدامات کو ماحولیات کے لیے ایک جیسا تباہ کن قرار دیا جب کہ سگریٹ کمپنیاں منفی اثرات کے باعث بڑے مقدمات کی زد میں ہیں۔انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ہمیں گزشتہ ہفتے معلوم ہوا کہ فوسل فیول پیدا کرنے والی کچھ کمپنیاں 1970 کی دہائی میں ہی اس بات سے پوری طرح واقف تھیں کہ ان کی پیدا کردہ مصنوعات ہمارے سیارے کی حدت بڑھا رہی ہیں۔وہ ‘سائنس’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دے رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایکزوموبل نے موسمیاتی تبدیلی میں فوسل فیول کے کردار پر اپنے ہی سائنسدانوں کی تحقیقات کے نتائج کو مسترد کر دیا۔انتونیو گوتیرس نے کہا کہ بالکل تمباکو کی صنعت کی طرح، انہوں نے اپنی سائنسی تحقیقات کو نظر انداز کیا، انہوں نے سگریٹ کمپنیوں کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مصنوعات کے خطرناک اثرات کو پوشیدہ رکھا۔انہوں نے کہا کہ تیل کی کچھ بڑی کمپنیوں نے بڑے جھوٹ بولے اور تمباکو کی صنعت کی طرح ان ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے ۔