انتظام افسانہ

ساریہ سکینہ

بس سٹاپ پر ہریا کا ڈھابہ صبح آٹھ بجے کھلتا تو ہر چھوٹی بڑی آنے جانے والی گاڑی اس کے سامنے رکتی اور اس میں سے مسافر اتر کر ہریا کے ڈھابے کی چائے پی کر دن کی شروعات کرتے۔ ڈھابے پر راجو، جو کہ ملازم تھا، بڑا ہی خوش اخلاق تھااور ہر ایک خریدار سے بہت ہی اچھے طریقے سے پیش آتا۔
شام کے تقریبا چار بجے تھے آج ڈھابے پر زیادہ بھیڑ نہیں تھی، راجو چائے بنا رہا تھا ۔ ڈھابے کے اندر لگے کھمبے پر ریڈیو لٹکا ہوا تھا ۔جس پر گلو کار لتا اور رفیع کے پرانے گانے بج رہے تھے۔ اتنے میں نرمل ڈھابے کے اندر داخل ہو گیا۔ نرمل اور راجو ایک ہی گاؤں سے تھے، نرمل گاؤں کے بیچ میں رہتا تھا اور راجو نئی سڑک کے پاس۔ نرمل اپنے گاؤں سے سائیکل پر بس سٹاپ تک آتا تھا۔ وہ شہر میں کسی دکان میں کام کرتا تھا۔ وہاں سائیکل پر جانا ممکن نہ تھا اس لیے سائیکل کو ہریا کے ڈھابے کے باہر رکھتا اور وہاں سے گاڑی میں سوار ہو کر شہر جاتا اور واپسی پر پھر سائیکل سے اپنے گاؤں چلا جاتا۔
نرمل ڈھابے میں داخل ہوتے ہی سامنے والی میز کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا۔ میز پر اخبار دیکھ کر نرمل نے اخبار ہاتھوں میں لیا اور کھول کر پڑھنے لگا۔ راجو کی نظر نرمل پر پڑی تو ہاتھ ہلا کر کہا ۔
رام رام نرمل بھییا۔۔۔
رام رام راجو۔۔۔ ایک چائے لانا لیکن شکر کم ڈالنا۔۔۔ نرمل نے مسکراتے ہوئے کہا۔
راجو نے سر ہلاتے ہوئے ہاں کہا۔ نرمل اخبار پڑھنے لگا تو اس کی نظر اخبار میں چھپی ایک کہانی پر گئی ۔یہ کہانی بڑی ہی دلچسپ تھی اس میں کسی بوتل کا ذکر تھا جس میں ایک جن رہتا تھا اور جو چراغ والے جن کی طرح اپنے مالک کی تین خواہشات کو پورا کرتا تھا۔ کہانی ختم ہوتے ہوتے راجو نے چائے لائی اور نرمل کے سامنے میز پر رکھی اور کہا۔
یہ لیجئے بھیا ۔۔۔ آپ کی شکر کم چائے۔۔۔
نرمل کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی اس نے راجو کی اور دیکھا تو راجو نے پوچھا ۔
بھیا کیا بات ہے۔۔۔ آپ مسکرا کیوں رہے ہیں۔۔۔۔ ؟
اخبار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، کچھ نہیں۔۔۔۔ اس کہانی کو پڑھ کر سوچتا ہوں کہ کیا آج کے دور میں بھی چمتکار ہوتے ہوں گے۔۔۔؟
ارے بھیا ۔۔۔۔۔۔کاہے کے چمتکار کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ ساری باتیں کتابوں اور کہانیوں میں ہی ہوتے ہیں ۔۔۔یہاں تو سارے دن جان گھسکتی ہے تب جا کے ایک نوالے کی صورت بنتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی یہ کیا کم چمتکار ہے کہ اتنی قلیل آمدنی میں بھی ہمارا گزارا چلتا ہے ۔۔۔
نرمل نے مسکراتے ہوئے کہا، ہاں میں جانتا ہوں ۔۔۔
اتنے میں ڈھابے کے مالک ہریا نے راجو کو آواز لگائی اور کہا، چل بیٹا چائے بنا خریدار جمع ہو رہے ہیں۔۔۔
نرمل چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اخبار پڑھنے لگا چائے ختم ہوتے ہی اس نے ہریا کو چائے کے پیسے دیئے اور ڈھابے سے اتر کر اپنی سائیکل پکڑی اور کھیتوں کے بیچ سے گزرنے والی کچی سڑک کا رخ کیا ۔یہ سڑک اس کے گاؤں کی اور جاتی تھی ۔
گھر کی اور جاتے ہوئے سائیکل پر سوار نرمل باہر سے بڑا ہی خوش معلوم ہو رہا تھا مگر اس کے اندر کیا چل رہا تھا وہ بس وہی جانتا تھا۔ کوئی ذہنی تناؤ اس کے اوپر گھیرا ڈال رہا تھا۔ مگر وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا اس گھیرے سے بچنے کی۔ اسی لئے وہ اپنے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ لے کر راستے پر ہر آنے جانے والے اور کھیتوں پر کام کرنے والوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ بات کر رہا تھا۔
گھر پہنچتے ہی نرمل نے آنگن کا دروازہ کھولا تو سائیکل کو وہیں اندر دیوار کے پاس کھڑا کر دیا اور آنگن کے بیچوں بیج ایک پانی کے ہینڈ پنپ پر ہاتھ پیر دھو لئے اور سیدھا رسوئی گھر میں گھس گیا۔ رسوئی گھر میں گھستے ہی اس نے چٹائی زمین پر بچھائی اور ماں نے تھالی سامنے رکھ کر کھانا پروسا۔ کھانا کھاتے ہوئے نرمل نے ماں سے پوچھا ، ماں چھٹکی کہاں ہے ۔۔۔؟
بیٹا وہ پاس میں اپنی سہیلی سے ملنے گئی ہے ۔۔۔ اب شادی کی تاریخ نزدیک آرہی ہے نا ۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ پیسوں کا کچھ انتظام ہوا۔۔۔؟ ماں نے پوچھا۔
نرمل نے سر ہلاتے ہوئے نا کہا۔ یہ سنتے ہی اس کی ماں کے چہرے پر مایوسی کے بادل چھا گئے ۔ تو نرمل نے اس کا دل رکھنے کے لیے کہا ،
تو دل چھوٹا مت کرماں ۔۔۔! میں کوئی نہ کوئی انتظام ضرور کر لوں گا ۔۔۔۔۔ اور چھٹکی کی شادی دھوم دھام سے کریں گے، دیکھ لینا۔
پر بیٹا کیسے انتظام کر لو گے ۔۔۔۔۔۔؟
ماں ۔۔۔! میں اپنے مالک سے مانگ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بڑے بھلے آدمی ہیں وہ ضرور مدد کریں گے ۔۔۔ اگر ویسا بھی نہ ہوا تو دوسرا کچھ انتظام دیکھ لیں گے ۔۔۔ تو پریشان نہ ہو۔
دوسرا کون سا انتظام تجھ سے ہو پائے گا بیٹا ۔۔۔۔۔۔؟
کچھ نہ ہو پایا تو مکان گروی رکھ دیں گے ۔
ماں نے چونک کر کہا، کیا کہہ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ گروی ۔۔۔۔۔؟ لے دے کر ہمارے پاس بس یہی مکان تو رہ گیا ہے۔ اس کو گروی رکھ دیں گے تو ہمارے پاس پھر کیا رہ جائے گا ۔۔۔۔۔۔ ؟ اور تو اور پھر اصل اور سود کیسے چکاؤ گے ۔۔۔۔؟
نرمل نے مسکرا کر کہا، اس کا بھی انتظام ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔ تو فکر نہ کر ۔
رات بہت ہو گئی تھی گھر میں سب سو گئے تھے اور نرمل صرف کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس کو نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ اٹھ کر باہر آنگن میں چلا گیا اور وہیں چارپائی پر پیٹھ کے بل لیٹ گیا۔ آسمان صاف تھا اس لیے تارے صاف صاف نظر آرہے تھے۔ نرمل ان کو دیکھ کر من ہی من میں سوچنے لگا۔
یہ آسمان کتنا سیاہ و تاریک ہے اور اس پر یہ تارے کتنا چمک رہے ہیں ۔ ان کو جیسے کسی کا خوف ہی نہیں ہے۔۔۔ کتنے خوش و خرم نظر آرہے ہیں ۔۔۔۔۔ نرمل نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا، ان آسمان والوں کو تو کسی کا غم نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ سارا غم اور پریشانی تو زمین والوں کے حصے میں ہی آگئی ہے ۔۔دن میں روزگار کا غم اور رات کو سکون کی نیند کا غم ۔ غرض ہر شے میں غم عیاں ہوتا ہے یہاں ۔۔۔۔ یہ سوچتے سوچتے نرمل کو نیند پڑ گئی۔
صبح نیند سے جاگا تو احساس ہوا کہ اسے بہت تیز بخار آگیا ہے۔ وہ کھڑا بھی نہیں ہو پا رہا تھا۔ چارپائی سے پیر نیچے کئے تو چکر کھانے لگا تو ماں نے آ کر اسے سنبھالا اور پھر اس کو نزدیکی ہسپتال میں لیا جہاں پر ڈاکٹر نے کہا کہ اسے آرام کی سخت ضرورت ہے۔ اسی حالت میں تقریبا 20 دن نکل گئے۔ ابھی بھی آرام کی ضرورت تھی لیکن یہاں پر شادی سر پہ آ چکی تھی اس لئے اب اور آرام کرنا مناسب نہ سمجھا۔اسلئے 21ویں دن صبح منہ دھو کر ناشتہ کیا اور سائیکل نکال کر گاؤں کی کچی سڑک سے ہو کر ڈھابے کے پاس پہنچ گیا اور وہاں سائیکل رکھ کر سٹاپ سے شہر کی بس پکڑ لی۔ پورے سفر کے دوران اس کے دل میں یہ خیال تھا کہ آج مالک سے پیشگی کی رقم مانگ لونگا۔ دکان پر پہنچتے ہی دکان کے مالک نے کہا، کہ مجھے کچھ کام سے جانا ہے تم دکان کا خیال رکھنا ۔
جی مالک ۔۔۔۔ آپ بے فکر ہو کر جائیے میں خیال رکھوں گا ۔۔۔۔۔ مگر مالک ۔۔۔۔۔۔۔ نرمل نے ہچکچا کر کہا ۔
ہاں بولو ۔۔۔۔
وہ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔
میں کام سے فارغ ہو کر واپس آ جاؤں تو پھر آرام سے بات کر لینا۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔۔۔؟
جی مالک ۔۔۔
مالک کام سے باہر چلا گیا اور نرمل حسب معمول اپنا کام انجام دیتا رہا ۔ اس کی نظر باہر کی اور ہی تھی کہ مالک آئے گا تو اس سے بات کر لوں ۔ دوپہر ہو گئی تھی کہ دکان کا مالک آگیا ۔ اس کے بیٹھتے ہی نرمل نے پانی کا گلاس مالک کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ مالک نے ایک ہی گھونٹ میں سارا گلاس ختم کر دیا اور گلاس نرمل کے ہاتھ میں دے دیا۔ نرمل اب پیشگی کی رقم کی بات کرنے والا تھا لیکن مالک کا مُوڈ آج ٹھیک نہ پایا، اس لیے بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔
گھر واپسی پر نرمل دل ملول ہو کر ہریا کے ڈھابے کے پاس پہنچا تو بہت دنوں کے بعد ڈھابے کے اندر چلا گیا۔
راجو کی نظر نرمل پر پڑی تو اس نے کہا، رام رام بھیا ۔۔۔
لیکن نرمل اپنے ہی حال میں مست، اپنی پریشانیوں میں گم تھا۔ تو راجو نے بھی بھانپ لیا کہ نرمل کچھ پریشان ہے۔ وہ نرمل کے پاس گیا اور پریشانی کا سبب پوچھا تو نرمل نے جواب دیا کہ بہن کی شادی ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ پچھلے سال بارش کی وجہ سے مکان میں کافی نقصان ہو گیا تھا اور جو بھی جمع پونجی تھی وہ اس کی مرمت میں ختم ہو گئی تو راجو نے کہا، میرے پاس ایک طریقہ ہے جس سے تمہاری پریشانیاں ختم ہو سکتی ہیں۔۔۔۔
کون سا طریقہ ۔۔۔۔۔۔۔؟
راجو نے اخبار کھول کر نرمل کو دکھایا۔ اس پر نرمل کی پسندیدہ اداکارہ تھی جو کسی بینک کے اشتہار پر تھی ۔ اشتہار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راجو نے کہا، دیکھو بھیا ۔۔۔ اس اشتہار میں جو بینک ہے اس کی ایک شاخ ہمارے گاؤں کے پاس نئی سڑک پر کھلی ہے،جہاں پر میرا گھر ہے۔ اس میں بہت ساری سکیمیں ہیں ہم گاؤں والوں کے لیے ۔۔۔۔ راجو نے کہا ۔
وہ بات تو صحیح ہے لیکن اس وقت بینک میرے لئے کیا کر سکتا ہے۔ اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ میں مکان کو گروی رکھ کر بہن کی شادی کروں گا۔۔۔۔۔۔۔ نرمل نے کہا۔
اچھا مکان گروی رکھو گے ۔۔۔ تو پھر اصل اور سود کیسے چکاؤ گے ۔۔۔ اس کا کچھ سوچا ہے آپ نے ۔۔۔؟
یہی سوچ کر تو میرا کلیجہ سوکھتا ہے ۔۔۔
اب سنو بھیا ۔۔۔ میرے پاس ایک ترکیب ہے ۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔! کیا۔۔۔۔؟ کہو ۔۔۔
دیکھو بھیا آپ مکان گروی نارکھ دو۔۔۔
ہاں پھر ۔۔۔۔؟
پھر جتنا آپ کی بہن کی شادی میں خرچہ ہوگا اس سے دگنی قیمت آپ زمیندار سے لے لینا۔۔۔۔۔۔
دگنی قیمت ۔۔۔۔۔۔ ؟ نرمل نے چونکتے ہوئے پوچھا ۔
ہاں ! دگنی قیمت ۔۔۔۔۔۔۔ اب سنیئے ۔۔۔۔ شادی پر جتنا خرچ ہوگا وہ نکال کر باقی بینک میں جمع کرنا پھر دیکھنا ایک ہی سال کے بعد آپ سارے قرضے چکا پائیں گے۔۔۔۔
نرمل راجو کی باتیں غور سے سن رہا تھا اور من ہی من میں سوچ بھی رہا تھا کہ آج راجو کتنا بدلا بدلا سا لگ رہا ہے۔ پچھلی دفعہ جب ملا تھا کچھ اور کہہ رہا تھا اور آج کچھ اور۔
راجو نے مزید کہا ۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ اب دیکھنا اگلے سال ایک تو سارے قرضے اتریں گے اور تو اور میرے پاس اپنی چائے کی دکان ہوگی۔ دیکھنا اور گھر سے میں سائیکل پر نہیں موٹر بائیک پر آیا جایا کروں گا۔۔۔۔۔۔ مینیجر صاحب نے ایسا ہی کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا ایسا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نرمل نے حیران ہو کر پوچھا۔
راجو نے نرمل کو اسی وقت اپنے ساتھ بینک جانے کے لیے کہا تو وہ اس کے ساتھ چلا گیا۔ بینک میں داخل ہوتے ہی دونوں مینیجر کے کمرے میں داخل ہو گئے۔ منیجر نے مسکراتے ہوئے چہرے سے خیر مقدم کیا۔ اور سامنے کرسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کے لیے کہا۔ مینیجر صاحب کا لب و لہجہ اتنا نرم اور شیرین تھا کہ نرمل تو اس کا قائیل ہی ہو گیا۔
کہو راجو آج کیسے آنا ہوا ۔۔۔؟ منیجر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
منیجر صاحب یہ نرمل ہے اس کو یہاں کھاتا کھولنا ہے ۔۔۔ آپ نے کہا تھا ہم جیسے لوگوں کے لیے کچھ خاص سکیمیں ہیں آپ کے بینک میں ۔۔۔۔ جس میں رقم ایک ہی سال میں دگنی ہوتی ہے ۔۔۔ اسی سکیم کے تحت یہ کھاتا کھولنا چاہتے ہیں ۔
ہاں ہاں ضرور ۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔ کتنی رقم کا کھاتا کھولنا ہے۔۔۔؟ نرمل سے مخاطب ہو کر پوچھا۔
جناب ! مجھے اپنا مکان گروی رکھنا ہے جو رقم ملے گی وہ یہاں جمع کروں گا۔۔۔ مگر جناب ! کیا واقعی رقم ایک ہی سال میں دگنی ہوگی۔۔۔ ؟ نرمل نے پوچھا۔
مینیجر صاحب کوئی جواب دے پاتے کہ دروازے پر ایک عورت اور ایک آدمی مینجر صاحب سے اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے ۔ مینیجر صاحب نے اجازت دی تو آدمی دوڑتے ہوئے مینیجر صاحب کے پاس گیا اور ہاتھ جوڑے ہوئے اس کو خوب دعائیں دینے لگا، کہ اس نے اس آدمی کی زندگی کے ساری پریشانیاں ختم کر ڈالی ، کہ اب وہ کسی کا قرضدار نہیں ہے بلکہ اب وہ خود دوسروں کی حاجت روائی کرنے لگا ہے۔
اس کے بعد عورت آگے بڑھی تو اس نے مٹھائی کا ڈبہ مینیجر کی اور بڑھایا اور کہا ۔ صاحب منہ میٹھا کیجئے ۔۔۔ میری بیٹی کی شادی ہو گئی اور میرے مکان کی مرمت بھی ہو گئی ۔۔۔ یہ سب آپ کی کرپا ہے صاحب ۔۔۔ آپ ہمارے لیے فرشتے سے کم نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ نے ہماری زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔۔۔
یہ عورت مسکرا رہی تھی مگر اس کے آنکھوں میں آنسوں تھے ۔ ان آنسوؤں کو دیکھ کر نرمل کو اپنی ماں یاد آگئی اور اس کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں ۔ راجو نے کہنی مارتے ہوئے آنکھوں سے بتایا دیکھا جو میں کہہ رہا تھا وہ سب سچ تھا ۔۔۔
منیجر صاحب نے یہ سب باتیں بڑی اطمینان سے سنی اور پھر کہا۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔ آپ یہ سب کہہ کر مجھے شرمندہ کر رہے ہیں۔۔۔ دراصل غریب مستحق لوگوں کی مدد کرنا ہمارے بینک کا پہلا اصول ہے۔
راجو نے نرمل کو اشارے سے کھڑا ہونے کے لیے کہا ۔ وہ دونوں کھڑے ہو کر مینیجر صاحب سے رخصتی لینے لگے اور کہا کہ کل وہ پیسے لے کر کھاتا کھولنے کے لیے آجائیں گے۔ دونوں وہاں سے نکل گئے اور اپنے گھر کی اور روانہ ہو گئے۔
نرمل بہت خوش تھا اس کو تو جیسے اندھیرے میں ایک روشنی کی جگمگاتی کرن نظر آرہی تھی ۔ وہ اب صبح کا انتظار کر رہا تھا کہ صبح کب ہوگی اور وہ بینک میں کھاتا کھولے گا۔ اس کو بار بار بینک پر ہوا واقعہ یاد آرہا تھا کہ کس طرح وہ عورت اور آدمی مینجر صاحب کے شکر گزار تھے۔
اگلی صبح نرمل نے مکان کے کاغذات نکالے اور زمیندار کے پاس چلا گیا۔ وہاں پہنچتے ہی زمیندار کے منشی سے معلوم ہوا کہ زمیندار کسی ضروری کام سے شہر چلے گئے ہیں تو رات کو دیر سے واپس لوٹیں گے۔ منشی نے زمیندار سے ملنے کی وجہ پوچھی تو نرمل نے بتایا کہ مکان گروی رکھنا ہے ۔ منشی نے کہا کہ وہ کل آئے کام ہو جائے گا لیکن ایک گواہ ساتھ لانے کے لیے بھی کہا۔ نرمل نے حامی بھری اور وہاں سے چلا گیا۔
گھر پہنچتے ہی موسم نے کروٹ لی اور ہوائیں تیز چلنے لگیں۔ شام کو کھانے سے فارغ ہو کر نرمل کمرے میں ہی چارپائی پر لیٹ گیا۔ صبح اٹھا۔ تو بارش بہت تیز ہو رہی تھی۔ اب نرمل تھوڑا پریشان سا ہو گیا تھا کہ بار بار اس کے کام میں رکاوٹ کیوں پڑ رہی تھی۔ ناشتہ وغیرہ کر کے وہ زمیندار کی اور نکلا تو اس نے کاغذات ایک لفافے میں لپیٹ کر تھیلے میں بھرے اور پھر اپنی قمیض کے اندر رکھا تاکہ بارش سے کاغذات گیلے نہ ہو پائیں۔
نرمل نے ٹھان لیا تھا کہ آج وہ کسی بھی حال میں بینک میں کھاتا کھول کر ہی رہے گا کیونکہ وہ اب ایک اچھا ذریعہ بن چکا تھا اس کی پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کا۔
نرمل نے چھاتا لیا اور بارش میں پیدل ہی ہریا کی دکان کی اور نکلا۔ بارش بہت تیز ہو رہی تھی اس لیے سائیکل پر جانا ممکن نہ تھا۔ وہ راجو کو ساتھ لے کر زمیندار کے پاس گواہ کے طور پر لینا چاہتا تھا۔ تھوڑی دور چلتے ہوئے اس کو راستے میں ہریا ملا۔ ہریا نے بتایا کہ آج ڈھابہ بند ہے کیونکہ راجو کے والد کی موت واقع ہوئی ہے۔ نرمل کو یہ سن کر بہت ہی افسوس ہوا اور وہ بھی ہریا کے ساتھ راجو کے گھرچلا گیا جو کہ بینک کے پاس نئی سڑک پر تھا۔
راجو کے گھر پہنچے تو دیکھا وہاں بہت ہی بھیڑ جمع ہوئی تھی اور لوگ چھاتے کھولے ہوئے سڑک پر کھڑے تھے۔ پولیس بھی آئی ہوئی تھی۔ نرمل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ماجرہ کیا ہے۔ پولیس لوگوں سے پوچھتاچھ کر رہی تھی ۔ نرمل گھر کے اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ راجو کے والد نے خودکشی کی تھی۔ اس کی ماں اور بہن پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ راجو وہیں دیوار کے ساتھ سن ہو کر رہ گیا تھا۔ نرمل اس کے پاس گیا تو راجو کی نظر اس پر پڑی اور وہ زار زار رونے لگا۔
پولیس راجو کی ماں سے پوچھتاچھ کر رہی تھی تو اس نے روتے ہوئے بتایا۔ صبح کو راجو کے والد ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے تھے تو ایک خبر نے چونکا دیا، کہ اُس مشہور اداکارہ کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جس نے بینک کے اشتہار میں کام کیا تھا کیونکہ وہ بینک فراڈ تھا۔ راجو کے والد یہ خبر سنتے ہی دوڑتے ہوئے نئی سڑک کے بینک کے پاس گئے تو دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔وہ لوگ گاؤں والوں کے سارے پیسے لوٹ کر کہیں غائب ہو گئے۔ راجو کے والد کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ اب کیا کرتے کیونکہ راجو کے کہنے پر انہوں نے مکان گروی رکھا تھا اور جو بھی جمع پونجی تھی وہ سب اسی بینک میں جمع کی تھی، اس امید سے کہ ایک ہی سال میں وہ رقم دگنی ہو جائے گی۔ لیکن وہ لوگ سب کچھ لوٹ کر چلے گئے۔ راجو کے والد کا ذہنی تناؤ اس قدر بڑھ گیا کہ انہوں نے اپنے آپ کو رسی سے ٹنگا کر مار ڈالا۔ نرمل یہ ساری باتیں سن رہا تھا۔ وہ اب اپنی پریشانیاں بھول چکا تھا ۔ راجو نے نرمل کو بتایا کہ وہ بینک والے سارے لوگ دھوکے باز تھے اور وہ سارے پیسے لے کر راتوں و رات فرار ہو گئے۔ پولیس نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ عورت اور آدمی، جو منیجر کو دعائیں دے رہے تھے ، دراصل انہی کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ وہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے وہاں پر ڈرامہ کیا کرتے تھے۔

ساریہ سکینہ
حضرتبل، سرینگر
[email protected]