!انتظامی بدحالی نکتۂ عروج پر

مانٹیسکیو (Montesquieu)ایک فرانسیسی ماہر سیاسیات گزرے ہیں۔ انہوں نے۱۷۷۴ ء میں اپنی کتاب قوانین کی روح(The Spirit of the Laws) میںایک شہرہ آفاق نظریہ پیش کیا ، جس کوسیاسیات ہی نہیں بلکہ انتظامیہ کے طالب علم بھی بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق اگرطاقت و اختیارات (Power and Authority ( کو کسی ایک شخص یا افراد کے ایک مجمع کے حوالے کیا جائے ، تو اس کا مطلب تاناشاہی ہے۔اس قسم کے کسی خدشے کو دفن کرنے کے لئے اُنہوں نے طاقت یا اختیارات استعمال کرنے کو ریاست کے تین اہم اداروں میں تقسیم کیا ہے : عاملہ (Executive)مقننہ (Legislative) عدلیہ (Judiciary)۔ ان تینوں اداروں کا آپس کے معاملات میںکوئی عمل دخل نہ ہوگا بلکہ اپنے اپنے حدود کار میں کام کرے گا۔ ایسا کرنے سے ہر ایک ادارے کی اپنی الگ پہچان ہو گی اور ایک دوسرے کے کام کاج میں کسی کو رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ 
مانٹیسکیو کے بعد ایک اور فرانسیسی ماہِ سماجیات ایمائل ڈرکائم (Emile Durkheim) نے ۱۸۹۳ ء میںاپنی کتاب سماج میں محنت کی تقسیم in Society) Division of Labour) لکھی۔ یہ اُنہوں نے اپنے تحقیقی مقالات سے ترتیب دی ۔ ودر جدید میں فرد اور سماج کے مابین تعلقات کے حوالے سے اس کتاب کو سماجیات میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک اور غیر مختلف نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق افراد کو سماجی حیثیت پر بنائے رکھنے اور زیادہ سے زیادہ پیداوار صاف و شفاف طریقے سے برآمد کرنے کے لئے افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ محنت و مزدوری بانٹنا ٖضروری ہے۔ اس سے ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھے گا اور سماج کے پیش کردہ فلاحی قوانین کی پاسداری ہوگی۔ ہر کوئی قانون کی پاسداری کرکے سکھ شانتی سے زندگی جی پائے گا۔ مانٹیسکیو اور ڈرکائم کے ان افکارو نظریات کا اگر ایک سرسری جائزہ لیا جائے، تو یہ کہنا بے جاہ نہ ہوگا کہ دونوں نظریات ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور دونوں کا محور ایک ہی سوچ کے ارد گرد گھومتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انتظامیہ کو کس طرح سے بدعنوانیوں سے پاک رکھا جائے، ریاست ک  تعمیر وترقی میں ہر کوئی کس طرح اپنا رول نبھائے ، امن وامان کا ماحول کس طرح عام کیا جائے اور لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کس طرح سے کی جائے۔علاوہ ازیں، پہلا فکری نظام اگر انتظامیہ سطح کی بات کر رہا ہے تو دوسرا عملی نظام انفرادی سطح کے معاملات کا احاطہ کر رہا ہے۔ 
ویسے بھی یہ بات عقل کے عین مطابق ہے کہ سماجی و گروہی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران کام کو جتنا زیادہ افراد کے بیچ بانٹا جائے، اتنی ہی زیادہ پیداواریت بڑھے گی اور ہر کوئی اپنا کام بحسن خوبی انجام دے سکے گا۔ انسانی فطرت بھوک، حرص، طمع و لالچ پر مبنی ہے، خاص کر ایسے لوگوں کی جنہیں نہ کسی بعد از موت زندگی کا احساس ہے نہ کسی بلند و برتر طاقت کی۔ طاقت کے نشے میں انسان کھبی بھی چور ہو سکتا ہے اور وہ اپنی نفسا نی خواہشات کی تسکین کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے موجودہ دور کے علماء و فلاسفہ نے مندرجہ بالا نقطہ نگاہ سامنے رکھا کہ کیسے انسانوں کی بے جا خواہشات پر اس قدر لگام کسی جائے کہ وہ ایک قانون کے تابع چلیں۔ کم وبیش موجودہ دور کی ’’مہذب‘‘ اقوام بھی انہی رہنماء اصولوں کے مطابق اپنے اپنے ممالک کا نظام کار چلا رہے ہیں۔ 
ان معنوں میں دیکھا جائے تو ہماری ریاست کا حال ادارہ جاتی تقسیم کار کے باوجود ہر جگہ معاملہ زیرو زبر ہے کہ ہم عملی طور ہر محاذ پر شتر مرغ  کی چال چل رہے ہیں اور بے چارے کاغذی گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ یہاں پر کوئی نئی ہی قسم کی مخلوق عملی میدان میں ہے۔ پچھلے ہفتوں کی اخباری رپورٹاوںاور سوشل میڈیا کی ٹرینڈنگ اسٹوریز (trending stories)اس بات کی گواہی دینے کے لئے کافی ہیں کہ یہاں قانون کی مالا قانون توڑنے والوں کو ہی پہنائی جارہی ہے، یہاں سیاسی اثر رسوخ کی بنیادوں پر راتوں رات لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، یہاں اعلیٰ عہدے دار روزگار کے مواقع پیدا کر نے کے بجائے ا نہیں خٹم کر تے ہیں ، یہاإ سیاسی اثر و رسوخ والے عام آدمی کا استحصال کرتے ہیں، یہاںپر سیاسی چمچے سرکاری مراعات کو اپنے گھر کی جاگیر سمجھتے ہیں، یہاں پر ’’خاص الخاص‘‘ چہیتوں کو کاغذ کی ’’آدھی پرچی ‘‘پر منصب ِ جاہ دیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں مثالیں ایک نہیں ہزاروں ہیں ۔ یہاں بڑی بڑی رقومات کا گھپلا کیا جاتا ہے،   سرکاری ہیرا پھیری سے غیر قانونی طورلاکھوں کروڑوں کی چور بازاریاں کی جارہی ہیں۔ سرکاری احکامات اور قوانین ہوں یا ’’فلاحی‘‘ اسکیمیں ، ان کے مطابق یہاں پر کسی کو غریب نہیں ہونا چاہے ، کسی کو بے روزگاری کے ہاتھوں شکست خوردہ نہیں ہونا چاہے تھا، کسی کی تعلیم رکنی نہیں چاہے تھی، عوام کو تمام سرکاری سہولیات میسر ہونے کی بنا پر خوش حال زندگی جینے میں کوئی اڑچن پیش نہیں آنی چاہے تھی مگریہ سب خواب اس سسٹم کے کاغذی گھوڑے ہیں یا ہاتھی کے دانت ہیں ۔
 قانون نے ہرایک عوامی سمئلے کیء تعلق سے احتجاج کا حق عوام کو دیا ہے۔ عوام احتجاج اور مظاہرے کر کے اپنے مسائل کا منصفانہ حل مانگ سکتے ہیں، لیکن ہماری بد نصیب ریاست کا حال یہ ہے کہ یہاں پر عوام کی ہر جائز ومعقول مانگ کو سیاسی نظر سے دیکھا جاتا ہے، حتیٰ کہ کسی انسان کے انفرادی عمل کو بھی سیاسی تھرمامیٹر سے ناپا جاتاہے۔ چنانچہ ریاستی عوام پچھلے ستر سال سے متواترتختۂ مشق بنا ہوا ہے، اس لئے  کسی غیر سیاسی مسئلہ کو حل کئے جانے کی آواز بھی بیک جنبش قلم ناجائز اور قوم دشمن ٹھہر ائی جاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پانی یا بجلی کی خاطر اگر آپ اپنے دل کو تسکین دینے کے لئے ہی صدائے احتجاج بلندکرنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو امن و امان میں خلل ڈالنے والا ’’شر پسند‘‘  پکارکر جیل کی سلاخیں دیکھنی ہوں گی ۔ خواتین اپنے گھر میں پانی سے خالی مٹکوں کو لے کر جب مجبواََ سڑک کی راہ لیتی ہیں تاکہ متعلقہ سرکاری عہدہدار تک اپنا کھڑا پہنچایں تو انہیں پانی کے بدلے سرکاری دنڈے کھانے پڑتے ہیں۔اپنی اعلیٰ اسناد کو لے کر جب ایک بے روز گار نوجوان چلّاتا ہے کہ اُس کے حق پر شب و خون مارا گیا تو اُ سے سماج دشمن کہہ کراَن سنا کیاجاتا ہے۔ ’’عوامی خدمت گار‘ ‘کو اپنی موٹی تنخواہ سے پیٹ بھرتا محسوس نہ ہو تو وہ کمیشن یاچائے کے نام پر اپنی پیٹ کی بھوک دوسروں کی جیب تک وسعت دیتا ہے۔ یہ قانون شکنی ، بدعنوانی ، بے ضمیری ہی سہی مگر یہ اُن چور اچکوں کا پیدائشی حق مانا جاتا ہے۔گویا چوری، لوٹ کھسوٹ، غبن و دھوکہ دہی، فراڈ جیسے الفاظ اب اتنے ’’نارمل‘‘ ہو گئے ہیں کہ ان میں ملوثین کوئی مجرم ہی نہیں۔ سرکاری ملازم چاہے چھوٹا ہو یا بڑا کسی سرکاری کاغذ کو صبح ہاتھ لگانے سے پہلے دس بار سوچتا ہے کہ اس کاغذ کو آگے چلانے سے سائل کی جیب سے کس میز والے کے لئے’’ کتنی چائے اور کتنا پانی ‘‘کا بجٹ پاس ہوگا۔ خون کے آنسو رُلا دینے والی یہ ساری داستان اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ ہمارے یہاں ’’عوامی خدمت گار‘‘ اصل میں ہر شہنشاہ کانام ہے۔ یہ ایک عجیب وغریب چیستان ہے کہ آپ کے اوپر کوئی ظلم ہو رہا ہے مگر آپ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے،  لیکن ظلم کی کسی اور شکل سے بھی آپ پر ظلم ہو رہا ہے مگر آپ اس کو دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں اور اس کو سماجی اتنااعتبار دیتے ہیں کہ گناہ  کی یہ شکل’ ’نارمل‘‘  طرز عمل مانا جاتا ہے یا زمانے کا دستور سمجھا جاتا ہے ۔ آخر پرعالمی انتظامی پیمانے (Worldwide Governance Indicators) نامی ایک بین لاقوامی منصوبہے کی بات ۔ یہ پلان دنیا کے تقریباََ تمام ممالک میں انتظامی صورتحا ل کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اس کے حوالے سے کسی انسانی سماج میں چھ پیمانوں پر انتظامی کی تاثیرکو ناپا پر کھا جا تا ہے، ان میں سب سے پہلے رائے دہی اور احتساب(Voice and Accountability) ہے، اس کے بعد سیاسی استحکام و تشدد کی عدم موجودگی (Political Stability and Absence of Violence)ہے، اس کے بعد سرکاری اثر پذیری (Government   Effectiveness) ، اس کے بعد فلاحی اداروں کا بہترین اہتمام (Regulatory Quality) ، اس کے بعد قانون کی حکمرانی(Rule of Law) اور آخر میں بدعنوانیوں پر روک تھام(Control of Corruption ) ہے۔ ان سب پیمانوں اور کسوٹیوں کو لے کر اگر ہماری ریاست کا انتظامی صیغوں کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا جائے تو ایک حساس انسان کے رونکٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
موبائل 9622939998
ای میل[email protected]