انتظامیہ کے دعوے سراب…بجلی ، پانی،راشن ودیگرسہولیات ندارد

گول//مقدس ماہ صیام سے قبل انتظامیہ کی جانب سے میٹنگوں میں محکمہ جات کو دی گئی ہدایات پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے جس وجہ سے ماہ صیام کا آج دوسرا دن بھی گزر گیا لیکن ابھی تک لوگوں کو بجلی ، پانی ، راشن میسر نہیں ہو سکا اور اس طرح سے انتظامیہ کی جانب سے تمام دعوے سراب ثابت ہو رہے ہیں ۔ اس کے پیش نظر گزشتہ روز دوپہر کے وقت گول بازار میں لوگوں نے ایک زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا ۔اس دوران سراپااحتجاج لوگوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ماہ صیام میں بجلی ، پانی ، راشن و دیگر سہولیات کا فقدان ہے اور انتظامیہ میٹنگوں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے دعوے کر رہے ہیں ۔ مظاہرے کی قیادت گول کے نوجوان سماجی کار کن شہباز مرزا کر رہے تھے ۔ اس موقعہ پر انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی ۔ مظاہرین نے کہا کہ ماہ صیام آتے ہی بجلی کی آنکھ مچولی ہو رہی ہے اور لوگ کافی پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماہ صیام سے قبل اگر چہ سب ڈویژن گول و ضلع انتظامیہ رام بن کی جانب سے تمام محکمہ جات کی میٹنگیں بلائی گئیں اور بالخصوص ماہ صیام میں بجلی ، پانی ، راشن و دیگر سہولیات کو بہتر بنانے کے دعوے بھی کئے گئے لیکن گول سب ڈویژن میں یہ تمام سہولیات ندارد ہیں اور عوام در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں نے اس موقعہ پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک دو دن کے اندر اندر یہ بگڑا ہوا نظام نہیں سدھرے گا تو ہمیں مجبوراً سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا پڑے اور ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی ۔