انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرنامہنگا پڑا

جموں//جموں میں درماندہ کشمیری مسافروں کے صبر کا پیمانہ اُس وقت لبریز ہو گیا جب انہوں نے جی جی ایم سائنس کالج کے باہر انتظامیہ کی بدنظمی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی تاہم اس بیچ مقامی کالج کے طلباء کالج سے باہر آئے اور بھارت ماتا کی جے کے علاوہ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے اور درماندہ مسافروں پر پتھرائو کیا اور اس بیچ طرفین کے مابین شدید جھڑپیں بھی ہوئیں ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی روز سے جموں میں پھنسے یہ مسافر جی جی ایم سائنس کالج کے شعبہ جغرافیائی کے قریب اوقاف اسلامیہ کی طرف سے تعمیر ’مفتی محمد سعید ہوسٹل ‘ کے قریب جمع ہوئے جہاں مسافروں کو بذریعہ ہوائی جہاز سرینگر پہنچانے کیلئے رجسٹریشن ہو رہی تھی، بھاری بھیڑ نے اس دوران انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی اور انہیں اپنے اپنے مقامات تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ۔پولیس حکام نے بتایا کہ ’ہزاروں کی تعداد میں وہاں جمع مسافروں نے ضلع انتظامیہ کی بد نظمی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے ۔اس موقعے پر لاٹھی چارج کے بعدکئی مسافروں نے پاکستان اورآزادی کے حق میں نعرے لگائے جس پر  سائنس کالج کے طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور ایک دوسرے پر پتھرائو شروع کر دیا، دونوں طرف سے اشتعال انگیز نعرہ بازی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔کالج کے طلباء کو اس دوران بھارت ماتا کی جے ، وندے مہترم پاکستان مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے بھی سنا گیا۔تاہم کشمیری درماندہ مسافروں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حق پر احتجاج کر رہے تھے تاہم اُن پر نزدیکی کالیج کے طالب علموں نے پتھروں سے حملہ کیاجس سے کئی لوگ زخمی ہوئے۔
اطلاع ملتے ہی بھاری تعداد میں پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچے ، پولیس نے متحرک گروپوں کو قابو کرنے کے لئے ہلکا لاٹھی چارج کیا جس میں دو مسافروں سمیت 6افراد زخمی ہوئے ، تاہم ان میں سے کسی کو بھی ہسپتال پہنچانے کی نوبت نہیں آئی۔ ڈی آئی جی جموں وویک گپتا، ڈی سی رمیش کمار، چار ایس پی اور تین ڈی ایس پی کی قیادت میں فورسز کی بھاری تعداد موقعہ پر خیمہ زن ہے۔ڈی آئی جی وویک گپتا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کشیدگی کو کم کر کے امن و قانون کی بحالی ان کی پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کشمیری مسافر مہمان ہیں انکی حفاظت اور امن و قانون بنائے رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے ، اس موقعہ پر میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاسکتا‘۔ ایڈیشنل ڈی سی جموں رچھپال سنگھ نے رابطہ قائم کرنے پر بتایا ’جموں ہوائی اڈہ پر صرف ایک طیارہ دستیاب تھا جس کی صلاحیت بہت محدود تھی، مسافروں سے بارہا اپیل کی گئی کہ وہ نظم و ضبط بنائے رکھیں تا کہ یہ طیارہ زیادہ سے زیادہ پروازیں بھر سکے لیکن افراتفری پھیل گئی جس سے مسافروں کو ائر لفٹ کرنے کا سارا نظام ہی بگڑ گیا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں میں 2500سے زائد مسافر درماندہ ہیں ، حکام نے انہیں گھر پہنچانے کے لئے ائر فورس کا ’گلوب ماسٹر‘ طیارہ کا انتظام کیا جس میں بیک وقت صرف200مسافروں کی صلاحیت ہے۔مسافروں کو ائر لفٹ کرنے کا سلسلہ گزشتہ روز شروع کیا گیا تھا لیکن آج افراتفری پھیل گئی جس کے بعد مسافر مشتعل ہو اٹھے اور نتیجہ کے طور پر سارا سلسلہ واقعات پیش آیا۔ مابعد انتظامیہ نے درماندہ مسافروں کو 6ایس آر ٹی سی بسوں میں مفتی محمد سعید ہوسٹل سے کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ادھر جموں سے کئی ایک درماندہ مسافروں نے کشمیر عظمیٰ کو فون پر بتایا کہ اُن کے ساتھ جموں میں زیادتی کی گئی ہے ۔درماندہ مسافروں کے مطابق جموں میں وہ کام کے سلسلے میں آئے تھے اور بھوکے پیاسے اُن پر لوگوں نے پتھر برسائے ۔اشمقام پہلگام کے ایک نوجوان بلال احمد کے مطابق اُن پر نہ ہی پتھر برسائے گے بلکہ درماندہ ہوئی خواتین کے کپڑے بھی پھاڑے گئے ۔انہوں نے سرکار سے سوال کیا کہ آخر ہمارا قصور ہی کیا تھا ۔

ویڈٰو وائرل

اوقاف بلڈنگ جموں میں درماندہ کشمیری مسافروں پر نزدیکی کالیج کے طالب علموںکے پتھرائو کا ایک ویڈیو بھی ویڈیو سوشل میڈیا پر وایئرل ہوا۔ جس میں کشمیری درماندہ مسافروں کو اپنی جان بچاتے ہوئے اْدھرادھر بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اڑھائی منٹ لمبی اس ویڈیو میں کشمیری مسافروں کو ایک دوسرے کو طالب علموں کی طرف سے سنگباری سے بچنے کی صلاح دیتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے ۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے کشمیری مسافر اپنے ایک ساتھی کے ہاتھ سے پتھر لے رہے ہیں جو سنگباری کررہے طالب علموں پر ایک واپسی پتھر پھینکنے کی کوشش کررہا تھا۔ویڈیو میں ایک کشمیری خاتون، جس کی گود میں ایک بچہ بھی ہے، ڈر کے مارے بیہوش ہوتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اس صورتحال میں بعض کشمیریوں کو'' اللہ اکبر'' کے نعرے بلند کرتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے تاہم کئی اْنہیں صبر سے کام لینے کی صلاح بھی دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ہزاروں کشمیری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جموں میں کشمیر شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں درماندہ پڑے ہیں۔