انتظامیہ اور ڈاکٹروں میں ٹکرائو ،صدر ہسپتال کے وارڈ خالی

 سرینگر //گورنمنٹ میڈیکل کالج انتظامیہ اور ہڑتال کے عادی جونیئر ڈاکٹروں کے درمیان جاری رسہ کشی کا خمیازہ غریب مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ جی ایم سی کے تحت کام کرنے والے 8بڑے اسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریضوں اور حاملہ خواتین مختلف اسپتالوں کے دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہیں۔لل دید اور صدر اسپتال سرینگر میں مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ مذکورہ اسپتالوں میں مریضوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں اور حاملہ خواتین کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال ٹھوکریں کھانے کیلئے بھیجاجارہا ہے۔تنخواہوں میں اضافہ، نان پریکٹیسنگ الائونس اور دیگر مانگوں کو لیکر جی ایم سی سرینگر کے جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال چوتھے روز میں داخل ہوگئی ہے تاہم جونیئر ڈاکٹروں اور کالج انتظامیہ کے درمیان رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے جس کا سب سے بڑا خمیازہ غریب مریضوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے تحت کام کرنے والے بیشتر اسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے ہو کا عالم پیدا ہوگیا ہے اور عام طور پر مریضوں سے بھرے وارڈوں میں اُلو بول رہے ہیں۔ صدر اسپتال سرینگر میں داخل مریضوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے اکثر مریضوں کی چھٹی کردی گئی ہے جبکہ کئی مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ کپوارہ سے تعلق رکھنے والے ایک مریض منظور احمد نے بتایا ’’ ڈاکٹروں نے جمعرات کو تشخیصی ٹیسٹوں کیلئے بلایا تھا مگر ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے تشخیصی ٹیسٹ ممکن نہ ہوسکے ۔‘‘صدر اسپتال کے شعبہ میڈیسن میں سینئر ڈاکٹروں نے شعبہ ایمرجنسی و حادثات میں آنے والے مریضوں کا علاج و معالجہ جاری رکھا ہے مگر ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے یہاں بھی آنے والے مریضوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔  صدر اسپتال کی طرح ہی لل دید اسپتال سرینگر میں حاملہ خواتین کو کئی مشکلات درپیش ہے۔ بٹہ مالو کے رہنے والے منظور احمد نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا ’’ ڈاکٹروں نے وارڈ کی ایک مریضوں کو زچگی کیلئے جے وی سی منتقل کیا مگر وہاں ڈاکٹروں نے کیس میں درپیش مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مریضوں کو واپس لل دید اسپتال منتقل کیا مگر یہاں موجود جونیئر ڈاکٹروں نے مریضہ کو نہ صرف او پی ڈی سے دھکے دیکر باہر نکالا بلکہ  علاج و معالجہ کرنے سے بھی صاف انکار کیا ہے۔ صدر اسپتال سرینگر کی طرح ہی بون اینڈ جوئنٹ سرینگر ،سی ڈی اسپتال سرینگر اور دیگر اسپتالوں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں تھی۔