انتخابی عمل جدوجہد مخالف ہتھیار

سرینگر // حریت (ع) چیئر مین میرواعظ عمرفاروق نے انتخابی عمل کوجدوجہد مخالف آزمودہ ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر میں کوئی بھی الیکشن حق خودارادیت کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔میرواعظ عمر فاروق نے کشمیری عوام کو جموںوکشمیر میں ہو رہے انتخابی عمل سے مکمل طور لاتعلقی اختیار کرنے اور ان انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا  کہ کشمیر میں کوئی بھی انتخابی عمل یہاں کے عوام کی تحریک حق خودارادیت کا نعم البدل نہیں ہوسکتا اور اس تحریک کا واحد مقصد یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو یہاں کی عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ طور حل کیا جائے۔جامع مسجدمیں نماز جمعہ سے قبل اپنے ٹیلیفونک خطاب میں انہوں نے کہا کہ طاقت، تشدد ، دھونس دبائو ، مار دھاڑ اور اندھا دھند گرفتاریوں سے یہاں کے عوام کی جائز آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ نام نہاد انتخابی عمل کے ڈرامے میں رنگ بھرنے کیلئے ریاستی حکمرانوں نے پوری حریت اور مزاحمتی قیادت ،کارکنوں اور بڑی تعداد میں نوجوانوںکو جیلوں اور گھروں میں محبوس کردیا ہے ۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ووٹ ڈالنے سے گریز کریں کیونکہ بھارت اس نام نہاد عمل کو یہاں کے عوام کی مبنی برحق جدوجہد کیخلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے ۔میرواعظ نے عوام سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے دیئے گئے پروگرام پر من و عن عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ سرینگر میں 9  اور اسلام آباد میں 12 اپریل کو الیکشن کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے اس لئے وہ 8 اپریل کی شام سے 9 اپریل کی شام تک مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کرکے اس انتخابی عمل کو ناکام بناکر تحریک مزاحمت کے تئیں اپنی بھر پور وابستگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔میرواعظ نے اس موقعہ پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے مرتب کردہ قرارداد عوام کی تائید و حمایت کیلئے پیش کی۔