انتخابات کو ریاستی درجہ کی بحالی سے نہیں جوڑا جاسکتا

 سرینگر// پیپلزکانفرنس چیئرمین ، سجادغنی لون نے کہا  ہے کہ 24 جون کو نئی دہلی میں منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں شریک تمام لیڈروں نے جموں کشمیر کے لوگوں کے حقیقی درد کی مناسب انداز میں عکاسی کرکے ان کا سر فخر سے اونچا کیا۔ چرچ لین میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ بات عیاں ہے کہ جو لوگ لوگوں کی نمائندگی کے لئے نئی دہلی پہنچیں گے وہ کبھی بھی لوگوں کے جذبات کی بے عزتی نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا ’’میں اجلاس میں شریک ہونے اور تقریر کرنے والے سب لیڈراں کو یکساں نظر سے دیکھتا ہوں اور یکساں طور پر انکی پذیر ائی کرتا ہوں‘‘۔آج کی تاریخ میں ، کوئی فاتح یا شکست خورنہیں تھا، یہ ایک لمبا عمل ہے۔ سجاد لون کا کہنا تھاہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہلی یہاں تک پہنچے اور ہمیں انکی رسائی کیلئے فعال ماحول بنانا ہوگا اور یہ بات روایتی بیان بازی سے نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت انتخابات کی سرزمین ہے اورہر چھ یا آٹھ ماہ بعد ایک الیکشن ہوتا ہے۔ سجاد لون کا کہنا تھا’’ ہمیں روایت خرید کے ایسا ماحول پیدا نہیں کرنا چاہیے جہاں رسائی مشکل ہوجائے۔ اگر یہ (رسائی)مشکل یا تاخیر کا شکار ہوجائے تو ،اس کا خمیازہ جموں کشمیر کے لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔لون نے کہا کہ اس میٹنگ میں شریک ہونے والی ایک جماعت کی حیثیت سے ہم دہلی کو جموں کشمیر میں کام کرنے کیلئے ماحول تیار کرنے کی کوشش میں مدد کرینگے۔انتخابات کے بعد ریاست کی بحالی سے متعلق یقین دہانیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر لون نے کہا ’’میں یہ کہوں گا کہ ریاستی درجیء کو اب بحال کرنا چاہئے۔ خیراتی معاملے کے طور پر نہیں ، بلکہ حق کے معاملے کے طورپر بحال کیا جانا چاہیے، میں انتخابات کو ریاستی درجے کے ساتھ نہیں جوڑوں گا ‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔سجاد نے کہا’’میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں انتخابات کا بائیکاٹ کروں گا اور پارٹی مقابلہ کرے گی بلکہ ہم برابر ہیں، ہم یکساں طور پر لڑیں گے ، انہوں نے کہا  ’’یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ہمیں دوسرے زوایہ سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ مخالفین کو(انتخابات سے) دور رکھنے کی کوشش بھی ایک جال بچھانے کے مترادف ہوسکتا ہے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں ، انہوں نے کہا کہ پارٹی کودعوت دی گئی ہے تو حد بندی کی مشق میں حصہ لے گی ، یہ عمل صوبوں کے اندر اور خطوں میں منصفانہ ہونی چاہیے۔