انتخابات میں حصہ لینے والے ہوشیار

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے پارٹی کارکنوں اور لیڈران کیلئے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی ورکر یا پھر لیڈر کو تنظیم کی بنیادی رکنیت سے خارج کیا جائے گا ۔پارٹی نے اس دوران ہندوپاک وزرائے خارجہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی منسوخی کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سال2014  کے بعد پڑھے لکھے نوجوانوں میں جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہونے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔نوائے صبح سرینگر میں نیشنل کانفرنس کی جانب سے جاری دو روزہ مجلس عاملہ کا اجلاس منگل کو اختتام پذیر ہوا۔اجلاس میں موجود پارٹی لیڈران نے اس دوران ریاست کی موجودہ صورتحال ، آرٹیکل 35Aکیخلاف ہو رہی سازشوں ، جی ایس ٹی کے اطلاق سے ہونے والے نقصان کے علاوہ پنچایتی و بلدیاتی انتخابات سے دوری، تنظیمی امورات اور پارٹی سرگرمیاں کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا اس دوران تمام لیڈران نے پی ڈی پی سرکار پر الزام عائد کیا کہ اگر پی ڈی پی نے 2014کے الیکشن کے بعد بی جے پی کے ساتھ لوگوں کے خواہشات کے برعکس ہاتھ نہ ملایا ہوتا تو ریاست میں آج یہ صورتحال نہ ہوتی ۔اجلاس میں موجود پارٹی کے ایک لیڈر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس اجلاس میں بہ اتفاقِ رائے 4قراردادیں منظور کی گئیں۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ریاست کی وحدت، انفرادیت سالمیت اور خصوصی پوزیشن کا ہر حال میں دفاع کرتی رہے گی اور ریاست کے سیکولر کردار کو برقرار کھنے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ بھی قرار پایا گیا کہ نیشنل کانفرنس اْن عناصر کے ناپاک ارادوں اور سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے اپنا رول نبھاتی رہے گی جو ریاست کی سیکولر کردار کو پارہ پارہ کرنے کی جی توڑ کوششیں کررہے ہیں۔ اجلاس میں نیورک میں ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان مجوزہ مذاکرات کی منسوخی کو بدقسمتی سے تعبیر کیا گیا۔ اور یہ بات قرار پائی گئی کہ ہندوستان اور پاکستان کو معطل شدہ مذاکراتی عمل فوراً سے پیش تر بحال کرنا چاہئے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات کا حل ڈھونڈ نکالاجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا موقف یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام حل طلب معاملات کا حل بات چیت میں مضمر ہے۔ورکنگ کمیٹی نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے عزم کا اعادہ دہراتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس دفعہ35اے اور دفعہ370 کی رکھوالی کیلئے اپنے موقف پر چٹان کی طرح قائم ہے اور اس کے ساتھ چھڑ چھاڑ کی اجازت کس کو بھی نہیں دی جائے گئی ۔اس دوران اجلاس میں ریاست کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔اجلاس میں لیڈران نے کہا کہ 2014کے بعد ریاست کی سیکورٹی صورتحال بد سے بدتر ہوتی گئی ، پڑھے لکھے نوجوانوں میں جنگجوئوں کی صف میں شامل ہونے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ گیا۔ اجلاس میں عام شہریوں اورپولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں پر زبردست تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ زمینی سطح پر عدم تحفظ کے شکار ہیں، عام لوگوں کیخلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال، انسانی حقوق کی پامالیاں، بے تحاشہ گرفتاریوں اور شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں سے مرکزی حکومت کے تمام دعوے سراب ثابت ہوجاتے ہیں۔اجلاس میں لیڈران نے کہا کہ موجودہ صورتحال اور ریاست میں سیاسی انتشار و خلفشار کی بنیادی وجہ پی ڈی پی کی طرف سے 2014میں عوامی منڈیٹ کے عین برعکس جاکر بھاجپا کیساتھ اتحاد کرنا ہے۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر جو اس میٹنگ میں موجود تھے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ریاست کے حالات کے پیش نظر انتخابات کرانے کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں جہاں قتل عام ، مار دھاڑ ،پکڑ دھکڑ ، تھانہ وخانہ نظر بندی سے لوگ پریشان ہیں وہاں نیشنل کانفرنس انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتی ۔انہوں نے اس دوران بتایا کہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات کا انتباہ دیا ہے کہ جو بھی پارٹی کا ورکر یا پھر لیڈر ان انتخابات میں حصہ لے گا اُس کو پارٹی کی رکنیت سے خارج کیا جائے گا ۔