انتخابات سے قبل آخری پارلیمانی اجلاس آج سے

نئی دہلی// قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے عہد میں عام انتخابات سے قبل پارلیمنٹ کا آخری سیشن جمعرات سے شروع ہو رہا ہے جس میں مودی حکومت عبوری بجٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اہم زیر التواء بل کو منظور کرائے گي وہیں اپوزیشن پورے دم خم کے ساتھ رافیل طیارے سودے سمیت مختلف ایشوز پر اسے گھیرنے کی پرزور کوشش کرے گا۔  لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن اور پارلیمانی امور کے وزیر نریندر تومر پارلیمنٹ سیشن بغیر کسی رکاوٹ سے چلانے کے لئے تمام پارٹیوں کے رہنماؤں کے ساتھ رائے مشورہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے مختلف مسائل پر ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں کوئی خاص کام کاج نہیں ہوسکا جبکہ لوک سبھا میں بھی ہنگاموں کے درمیان ہی کچھ کام کاج ہو سکا تھا۔ 13 فروری تک چلنے والے بجٹ سیشن کا آغاز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر کے خطاب کے ساتھ ہو گا۔ اس سے اگلے دن یعنی یکم فروری کو عبوری بجٹ پیش کیا جائے گا. وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے امریکہ میں علاج کرانے کی وجہ سے ان کی جگہ وزیر خزانہ کی ذمہ داری ادا کر رہے مسٹر پیوش گوئل عبوری بجٹ پیش کریں گے ۔ این ڈی اے حکومت میں یہ پہلا موقع ہے جب مسٹر جیٹلی بجٹ پیش نہیں کر پا رہے ہیں۔عام انتخابات کو دیکھتے ہوئے مودی حکومت کے آخری بجٹ کو لے کر گزشتہ کچھ دنوں سے یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ اس بار بھی مکمل بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ان قیاس آرائیوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مسٹر جیٹلی نے کہا کہ اس بار کا بجٹ مطالبات زر (ووٹ اون اکاؤنٹس ) سے کچھ زیادہ ہو گا۔ مسٹر جیٹلی کے اس بیان پراپوزیشن کا زبردست رد عمل ہوا اور اسے پارلیمانی روایت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔عبوری بجٹ کی جگہ مکمل بجٹ پیش کئے جانے کی اطلاعات پر اپوزیشن کے سخت مخالفت کو دیکھتے ہوئے آخر کار آج حکومت نے واضح کر دیا کہ پارلیمنٹ میں عبوری بجٹ ہی پیش کیا جائے گا۔ دس میٹنگوں کے مختصر سیشن میں جہاں حکومت تین طلاق، عام طبقہ کے لئے 10 فیصد ریزرویشن کو لاگو کرنے سے متعلق بل، قومی شہریت ترمیمی بل، شمال مشرق کی چار ریاستوں میں خود مختار کونسلوں کے حقوق بڑھانے سے متعلق آئینی ترمیمی بل اور کمپنی قانون ترمیمی بل جیسے اہم زیر التواء بل کو منظور کرانے پر زور دے گی۔وہیں عام انتخابات سے پہلے متحد ہو رہے اپوزیشن رافیل سودے ، رام مندر، فرضی کمپنیوں کے گھوٹالے ، کسانوں کی قرض معافی ، بے روزگاری اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی تقرری میں ریزرویشن سے متعلق مسائل پر حکومت کو گھیرے گا۔ اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس گزشتہ سیشن کی طرح اس بار بھی رافیل کے معاملہ پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے مطالبہ پر اڑی ہوئی ہے ۔ اسی درمیان رافیل سودے کے بارے میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کی طویل عرصہ سے منتظر رپورٹ بھی اسی سیشن میں پیش کئے جانے کا امکان ہے ۔ کیگ کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن حکومت کوسختی سے گھیرے گا۔ مرکزی حکومت کی سپریم کورٹ میں پٹیشن کے بعد رام مندر کے معاملہ میں نیا موڑ آ گیا ہے ۔ ایودھیا معاملہ کی سماعت کے درمیان حکومت نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ متنازعہ زمین کے آس پاس پڑی غیرمتنازع اراضی اس کے مالکان کو واپس کیا جانا چاہئے ۔ اپوزیشن نے اسے حکومت کی انتخابی چال قرار دیا ہے . اس معاملہ پر برسراقتدار اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمنٹ میں تیکھی تکرار ہو سکتی ہے ۔ کسانوں کا معاملہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر اپوزیشن حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی بنا رہا ہے ۔

 

عبوری بجٹ میں ہوگی تحفوں کی بارش

مرکز متوسط طبقہ اور کسانوں کو لبھانے کی کوشش میں 

یو این آئی
 
نئی دہلی// لوک سبھا انتخابات سے قبل پیش ہونے والے عبوری بجٹ میں حکومت کسانوں اور متوسط طبقے کو متوجہ کرنے کے لئے ان پرتحفوں کی بارش کر سکتی ہے ۔ مودی حکومت کے پانچ سال کی مدت میں یہ پہلا موقع ہوگا جب مرکزی وزیر ارون جیٹلی بجٹ پیش نہیں کریں گے ۔ وہ بیماری کی وجہ امریکہ میں علاج کرا رہے ہیں اور ان کی جگہ وزارت خزانہ کا عہدہ سنبھال رہے پیوش گوئل یکم فروری کوعبوری بجٹ پیش کریں گے ۔ اس بجٹ میں حکومت کسانوں اور متوسط طبقے پر اپنا فوکس رکھے گی۔ کسان ملک کی آبادی میں 60 فیصد کی حصہ داری رکھتے ہیں اور اس کے بعد مڈل کلاس سب سے بڑا کلاس ہے ۔ لہذا، مانا جا رہا ہے کہ الیکشن سے پہلے ان دونوں طبقوں کو لبھانے کیلئے حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ مسٹر جیٹلی نے پہلے ہی کہا ہے کہ اس بار کا عبوری بجٹ‘ مطالبات زر سے کچھ زیادہ’ ہوگا۔ ان کے اس بیان سے یہ قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ حکومت جون-جولائی تک کے لئے لے مطالبات زر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اعلانات بھی کر سکتی ہے ۔ گزشتہ چار سال میں حکومت نے کسانوں کی قرض معافی جیسے کسی پیکیج کی بجائے اب تک ان کی آمدنی بڑھانے اور دیہی معیشت میں بنیادی اصلاحات کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ اس نے مختلف فصلوں کی کم از کم سپورٹنگ پرائز میں اضافہ کے طور پر گزشتہ ایک سال میں کسانوں کو ضرور کچھ راحت دی ہے ، لیکن ملک کے گاؤں اور کسانوں کی حالت دیکھتے ہوئے اس کا اب تک کوئی بہت فائدہ نظر نہیں آ رہا ہے ۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی اجلاس میں کسانوں اور زراعت کے سلسلہ میں ایک تجویز پیش کی گئی تھی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ سمیت ہر مقرر نے اپنی تقریر میں کسانوں کے مسائل پر طویل بات کی۔ اس سے صاف ہے کہ حکومت‘ان داتا’ کے ساتھ ہی ووٹ بینک کے طور پر بھی کسانوں کی اہمیت کو سمجھتی ہے ۔ زراعت کے وزیر پرشوتم روپالا نے حال ہی کہا تھا کہ کسانوں کے لئے بڑے پیکج کے بارے میں جلد ہی اعلان ممکن ہے ۔ پہلے امید کی جا رہی تھی کہ اس پیکیج کو پہلے کابینہ کی منظوری دینے کے بعد بجٹ میں جگہ ملے گی، لیکن اب لگتا ہے کہ اس کا اعلان براہ راست بجٹ میں کیا جائے گا۔ حکومت نے گزشتہ چار سال کے دوران ذاتی انکم ٹیکس میں کوئی بڑی راحت نہیں دی ہے ۔ جو راحت ملی ہے وہ بھی معیاری چھوٹ کے طور پر دی گئی ہے ۔ مانا جا رہا ہے کہ اس بجٹ میں انکم ٹیکس کی حد میں بڑا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ میڈیا میں آئی کچھ رپورٹوں میں اس کی حد پانچ لاکھ روپے کئے جانے کے بھی قیاس لگائے گئے ہیں۔ صنعتوں کو گڈز ایند سروس ٹیکس(جی ایس ٹی) میں بڑی راحت کی امید کم ہے . انکم ٹیکس میں چھوٹ اور جی ایس ٹی میں حالیہ دنوں میں کئی اشیاء کو نچلے سلیب میں رکھنے سے حکومت کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کسانوں کے لئے اگر ریلیف پیکیج کا اعلان ہوتا ہے تو اس کا بھی اثر سرکاری خزانے پر پڑے گا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں حکومت پہلے ہی ہدف سے چوک چکی ہے ۔ ایسے حالات میں انڈسٹری کے لئے انکم ٹیکس میں چھوٹ کی توقع کم ہی ہے ۔ ریل بجٹ کو لے کر مانا جا رہا ہے کہ الیکشن سال میں حکومت کرایہ بڑھانے کا خطرہ نہیں لے گی۔ بنیادی ڈھانچوں اور صلاحیت میں اضافہ پر اس کا زور رہے گا۔ریلوے ٹریکوں کے دوگنا کرنے ، ڈبلنگ اور ٹریپلنگ پر حکومت اخراجات بڑھا سکتی ہے ۔ اس کے لئے آمدنی بڑھانے کے لئے عام لوگوں پر بوجھ ڈالے بغیر غیر کرایہ آمدنی وسائل کے بارے میں اعلانات ہوسکتے ہیں۔ ریلوے کے وزیر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ‘میک ان انڈیا’ کے تحت لوکو-لیس ‘ٹرین -18’ کی پیداوار بڑھائی جائے گی اور اس کے لئے بجٹ میں التزام ہوگا۔ جنرل زمرہ کے مسافروں کے لئے بھی اعلان کیا جا سکتا ہے ۔