امن ہی عظیم دولت ہے حق نوائی

فاروق شاہین

تم امن کے چند لمحوں کے عوض
جان میری لیجئے سوغات میں
امن ایک ایسا لفظ ہے جس کے اندر سکون ،خوشی اور نزاکت ہے۔یہ ایسا جذبہ ہے جس میں روح کی شانتی مترشح ہے۔دل ،دماغ ،جسم اور روح امن کے ساتھ براہ راست وابستہ ہیں ۔اس کی ہی وجہ سے ان میں توازن (Balance )قائم ودائم ہے۔ امن کی فضا میں پلنے والے جاندار فطرت کی ہم آہنگی میں نش ونما پارہے ہیں ۔ان کی صبحیں خوشگوار اور ان کی شامیں پُرسکون گزرتی ہیں ۔ہر دن اور ہر شب میں شادیانے ہی شادیانے ہیں،یہ جنگل میں ہوں یا بستیوں میں ۔چرند پرند کی اپنی دنیا ہے، ان کے اپنے اصول ہیں زندہ رہنے کے۔ اپنی کالونیوں میں بسنے کے انھیں اپنے طریقے ہیں ۔یہ قدرت کی طرف سے بنائے گئے اصولوں کے تابع اپنے کام سرانجام دیتےہیں ۔کوؤں کا جھنڈ ہو یا کبوتروں کی برادری ،مویشیوں کے ریوڈ ہوں یا بندروں کا رہن سہن،شہد کی مکھیاں ہوں یا چونٹیوں کا فوجی دستہ،ان جیسی بے شمار اشیا ءاور جاندار جن کا رہن سہن اور زندگی گزارنے کا اپنا ضابطہ بند طریقہ ہے، اک نظام (system) ہے ،اس نظام کو انھوں نے کبھی نہیں بدلا،یہ ربط وضبط وہ ہمیشہ سے ہی بنائے رکھےہوئے ہیں ۔ان کے کھیل نرالے ہیں ،ان کے اصول دلربا ہیں ۔ان میں اتحادکا جو جذبہ پایا جاتا ہے وہ قابل دید بھی ہے اور قابل تقلید بھی ۔اس لئے یہ قدرت کی فضاء میں آزاد ہیں ۔پرندے تو پوری دنیا کو اپنا وطن سمجھ رہے ہیں ،ان کی کوئی سرحد نہیں ہے،یہ سرحدوں سے بالاتر ہیں، ان کی آزادی پر کس کو رشک نہیں آئے گا ۔ان کے ہاں حاکم اور محکوم کا تصور بھی نہیں ہے ۔یہاں ذات پات اور اونچ نیچ کے بندھن بھی نہیں ہیں،یہ سراپا پیار اور امن کے سفیر ہیں،ان کی آواز میں مدھر سنگیت ہے، ان کی پرواز میں نزاکت ہے۔
یہی سنگیت اور یہی نزاکت حضرت انسان میں آجائے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔پیدا ہوتے وقت یہ نہ کسی ذات سے ،نہ کسی ملک یا قوم سے اور نہ کسی دھرم سے تعلق رکھتا ہے،نہ یہ کسی سرحد کے دائرے میں قید ہوتا ہے،یہ آزاد فضا میں جنم لیتا ہے، یہ اپنی بھرپور مستی میں جی رہا ہوتا ہے ۔مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ مختلف دائروں میں قید ہوتا جارہا ہے۔اس کی آزادیاں سلب ہوتی جارہی ہیں،اس کی فضائیں اور ہوائیں تبدیل ہوتی جارہی ہیں،ایسے میں اس کا ذہن محدود ہوتا جاریا ہے۔
اس ذہن کی محدودیت میں یہ دن بدن جدید سے جدید تر ہوتا جارہا ہے۔اسی جدیدیت کا نتیجہ ہےکہ انسان ہی انسان کا دشمن بن بیٹھا ہے ۔یہ روز بروز طاقتور بننا چاہتا ہے، صرف اس لئے کہ دوسرے انسان کو پچھاڑ سکے،کمزورکرسکے ،اس پر اپنا دباو بنائے رکھ سکےاوراس کے لئے آگے بڑھنے کی راہیں مسدود کرسکے۔اس طرح کا سوچ ہمارے سماج کے ہر شعبے میں پایا جاتا رہا ہے۔بھائی بھائی سے کمپیٹشن کررہا ہے ۔ہمسایہ ہمسائے سے ،رشتہ دار دوسرے رشتہ دار سے اور دوست دوست سے ۔اس کمپیٹیشن کے پیچھے جو جذبہ کارفرما ہے، وہ نیک نیتی پر مبنی نہیں ہے۔ صرف ضد،بغض ،حسد ،جھوٹ اور سب سے بڑھ کر انا پرستی۔ یہ ایسی بیماریاں ہیں جو ذہنی تکلیف کا باعث بنتی ہیں ،جس سے انسانی سوچ تعمیر کے برعکس تخریب کی طرف مائل ہوجاتی ہے ۔یہی تخریبی سوچ معاشرے میں انتشار کی وجہ ہے ۔جس سے اندر ہی اندر ذہنوں میں حسد کا لاوا پکتا ہے ۔جب یہ لاوا اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو شدید ٹکراو کی صورتحال پیدا ہونےکا احتمال عملی طور پیدا ہوتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ ان بیماریوں سے پاک کس طرح ہوسکتا ہےاور جڑ سے ہی یہ بیماریاں کیسے ختم ہوسکتی ہیں ؟
☜ سب سے پہلے ہمیں فطرت کے ہم آہنگ خود کو بنانا ہوگا ۔ حسد کے بجائےرشک کا جذبہ خود میں پیدا کرنا ہے ۔ایکدوسرے کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرنا ہے ۔دوسرے کی کامیابی دیکھ کر خود محنت کرنی چاہئے۔خود کو بنانے کےلئے خود پر محنت کرنی ہے ۔ اپنے لئے وہی شعبہ چن لینا ہے،جس شعبے میں اپنا من لگے تبھی تو کامیابی کی منزل حاصل کرنا آسان ہے ۔
جذبۂ ایثار ایسا جذبہ ہے جو ان بیماریوں کو قلع قمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے ۔ایثار عربی لفظ ہے ،اس کا معنی ہے دوسروں کے فائدے کے لئے اپنے آپ کو تکالیف اور مصائب میں ڈالنے کے ہیں ۔اس کا یہ بھی مطلب لیا جاسکتا ہے کہ دوسرے کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا یا دوسرے کو نفع پہنچانا ۔یہ جذبہ اگر ہمارے معاشرے میں پیدا ہوجائے تو انس ومحبت کی ہوائیں گھریلو زندگیوں میں گردش کرتی نظر آئیں گی ۔غریب اور کمزور لوگ ذہنی آسودگی محسوس کریں گے ۔ضد،حسد،کینہ ،بغض ،جھوٹ اور انا پرستی سے نجات مل جائے گی ۔معاشرہ امن کی طرف بڑھے گا ،ہمدردی اور پیار ہمارے دلوں سے پھوٹ پھوٹ کے اُبھرے گا ۔دوست دوست کی مدد کے لئے دوڑ پڑے گا ۔رشتہ داروں سے نفرت کے بجائے الفت کی خوشبو دل ودماغ سے نکل کر زبان سے باہر آکر ایک معطر فضا قائم کریں گی ۔ہماری عبادت میں خشوع وخضوع آئے گا ۔ہمارے گھروں میں سکون وشانتی آئے گی ۔جب شانتی کا ماحول گھروں میں پلتا ہے تو بچے،جوان اور بزرگ مستقبل کے سنہرے خواب دیکھاکرتے ہیں، یہ سنہرے خواب صرف ذاتی زندگیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے ہر فرد کے لئے یہ خواب دیکھے جاسکتے ہیں ۔جس سے معاشرہ ترقی کے زینے طے کرے گااور سماج میں ایک ذہنی انقلاب پیدا ہوگا جو قوم کو ایک مثبت سوچ عطا کرے گا ،جو ہمیں آزاد فضاؤں میں عظمت ورفعت سے سرشار کرے گا۔
(مصنف اردو اور کشمیری زبان کے نوجوان شاعر،محقق اور نقاد ہیں )
[email protected]
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)