امن کے راستے جموں کشمیر سے گزرتے ہیں:محبوبہ مفتی

 کولگام//امن کے راستے جموں کشمیر سے گزرتے ہیں اوریہاں کے لوگوں پردھونس دبائو اور ظلم وجبر جب تک بند نہیں ہوگااورمسئلہ کشمیرکوحل کرنے کی جانب پیش قدمی نہیں ہوگی تب تک بھارت اور پاکستان کے درمیان کتنابھی کاروبار ہومگراس خطے میں امن کاقائم ہونا ممکن نہیں۔ان باتوں کااظہار پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کی صدراور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے چولگام کولگام میں پارٹی ورکروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعہ پرنامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کا راستہ جموں وکشمیر سے ہی گذرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں تب تک امن قائم نہیں ہوسکتا ہے جب تک پاکستان اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر کواِس پارکشمیر کے ساتھ جوڑنے والے راستوں کو کھولا نہ جائے ۔انہوں نے کہاکہ جنرل باجوہ نے بھی کہا ہے کہ رنجشوں کو بھولنا چاہئے لیکن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان امن کا راستہ جموں وکشمیر سے گذرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک نہ جموں وکشمیر میں ظلم بند کیا جائے گا، جو سڑکیں پاکستان اور اْس طرف کے کشمیر کے ساتھ ملتی ہیں، ان کو کھولا جائے گا تب تک امن قائم نہیں ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پہلے بھی وفود یہاں آتے رہے ،باہر سے وفود لاکر یہاں سب کچھ ٹھیک ہونے کی سند حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ یہاں کے لوگوں سے پوچھ کرسند حاصل کی جائے۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے سمن جاری کرنے کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ میں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں اور کسی سے کچھ بھی چھپانے کی کوشش نہیں کرتی ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ واگہ سرحد پر طلباء جن میں ڈاکٹرس اور انجینئرس بھی شامل ہیں، کومختلف النوع سرٹیفکیٹس دکھانے پر روکا جا رہا ہے،جواچھی بات نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان طلبا کو اپنے کالجوں میں جانے کی اجازت دی جانی چاہئے۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئررہنما ڈاکٹرمحبوب بیگ نے محبوبہ مفتی کی استقامت اور عزم کو سراہا،جس کااظہار وہ  پارٹی قیادت پرحملوں کے باوجود مسئلہ کشمیرکوحل کرنے کی وکالت کرکے کررہی ہیں۔