امن کے باوجود ناگالینڈ، آسام میں فوج مستعد رہے گی

 نئی دہلی//مرکز اور ناگالینڈ حکومت نے 21 سالہ ناگا امن معاہدے پر احتیاط کے ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت وہ مسئلے کے فوری حل کے حق میں ہیں لیکن کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اب فوج کو وہاں پوری طرح مستعد رکھا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی اس حکمت عملی کے تحت حال ہی میں فوجی کمانڈروں کی سطح پر تقریبا 20 ڈویژن ہیڈکواٹروں کو بند کرنے کے فیصلے کے باوجود دیماپور (رنگاپھاڑ) میں ابھی فوج محاذ سنبھالے رہے گی۔ فوج کی سات کمان ہیں جن میں سے کولکتہ میں واقع مشرقی کمان کی دو کور کمان ایک ناگالینڈ کے دیماپور (رنگاپھاڑ) اور دوسری آسام کے تیز پور میں ہے ۔ناگالینڈ میں ابھی نیشنلسٹ ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (این ڈي پي پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت ہے ۔ریاستی حکومت کے ذرائع کے مطابق علاقے میں سے فوجی اہلکاروں کی تعداد میں کچھ کمی کے مقصد سے وزارت دفاع ،مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ تال میل کرکے کور کمان کی 'تنظیم نو' کرنے کی سمت میں قدم اٹھا رہی ہے ۔ اس سے اعلی فوجی افسر آپریشن ولے علاقوں میں تعیناتی سے 'آزاد' ہو جائیں گے اور حکومت کا خیال ہے کہ اس سے اخراجات میں بھی کچھ کمی آئے گی۔ اس ڈویژن یا بریگیڈ کے سطح پر تعیناتی کے فیصلے بھی آساني سے اور تیزی کے ساتھ کئے جا سکیں گے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آسام اور آس پاس کے علاقوں میں نسبتا پرسکون حالات کے باوجود مودی حکومت تیز پور میں کور کمان کو موجودہ شکل میں ہی کام کرنے دے گی۔اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذر ائع کے مطابق کانگریس کے لیڈر پی چدمبرم کی صدارت والی وزارت داخلہ سے متعلق پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے حکومت سے ناگالینڈ کے سب سے زیادہ فعال باغی تنظیم (نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ، آئی ایم) دھڑے کے ساتھ امن عمل میں تیزی لانے کو کہا ہے ۔ کمیٹی نے حکومت کو کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے فوج کو تیار رکھنے کے لئے بھی کہا ہے ۔ اس نے سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کو الرٹ رہنے کو کہا ہے ۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی ہے کہ جب حکومت اور تمام فریق تیار ہیں تو این ایس سی این (آئی ایم) کے ساتھ امن عمل مکمل کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے ۔مجلس قائمہ نے حکومت سے معاہدے کے تحت ہتھیار ڈالنے والے ناگا باغیوں کے لئے بہتر بحالی منصوبہ تیار کرنے کا بھی درخواست کی ہے ۔یو این آئی