امسال ستمبر تک1176 کروڑ روپے بجلی فیس وصول ،42000صارفین کی سپلائی منقطع

سرینگر//مرکزی سیکریٹری بجلی آلوک کمار نے بدھ کو جموں وکشمیر میں پاور سیکٹر سے متعلقہ مختلف کاموں اور مسائل کی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ابتداً ، پرنسپل سیکریٹری پی ڈی ڈی روہت کنسل نے جموںوکشمیر میں ڈسٹری بیوشن ، ٹرانسمیشن اور ہائیڈرو پروجیکٹس میں پاور سیکٹر کی پیش رفت پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کی خریداری کے واجبات کولیکوڈیڈکرنے کیلئے بجلی کی خریداری کے واجبات کو کلیئر کرنے کی خاطر مرکزی حکومت سے 11029.47کروڑ روپے کے قرضے حاصل کئے ہیں۔ اِس کے علاوہ روہت کنسل نے سیکریٹری کو یہ بھی بتایا کہ مختلف تعمیلات کی گئی ہیں جن میں ترمیم شدہ ٹیرف ،پری پیڈ میٹرنگ ، بجلی کی خریداری کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ 41781 ناد ہندگان کو بجلی کی سپلائی منقطع کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 4106.63 لاکھ روپے کے بقایاجات کی وصولی او روسیع معائینہ مہمات شامل ہیں۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ محصول کی وصولی میں 23.16 فیصدکا اِضافہ ہوا ہے جس میں گزشتہ سال 954 کروڑ روپے اور اس برس ستمبرکے آخیر تک1176 کروڑ روپے کی وصولی ہوئی ہے ۔روہت کنسل نے کہا کہ جے اینڈ کے پی ڈی ڈی کی بنیادی توجہ آمدنی میں اضافہ ، نقصانات کو کم کرنا اور محکمہ پاور کے ملازمین کی حوصلہ اَفزائی کرنا ہے جس کے لئے ایک پائلٹ ترغیبی سکیم ریونیو بڑھانے کی سکیم (آر اِی ایس ) تجویز کی گئی ہے ۔سیکرٹری کو اِی گورنر / آئی ٹی اقدامات کے حوالے سے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمروں کے ڈیجیٹائزیشن ڈیٹابیس ،100 فیصد فیڈر میٹرنگ کا حصول ، سٹیٹ آف دی آرٹ سسٹم کے ذریعے فیڈر ڈیٹا مانیٹرنگ ، جے کے پی ڈی ڈی کے 647 شہری فیڈر ،شکایات کے لئے پاور پورٹل اور صارفین کی دیکھ ریکھ کا مرکز کے بارے میں بتایا گیا ۔سیکرٹری موصوف نے پی ڈی ڈی کے آئی ٹی اثاثوں کو کامیابی سے مربوط کرنے کے لئے جے اینڈ کے پی ڈی ڈی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جے اینڈ کے نے پاور سیکٹر آئی ٹی کے حوالے سے بہت اَچھا کام کیا ہے۔سیکرٹری موصوف نے محکمہ کے آئی ٹی وِنگ کے کام ، اَفرادی قوت اور آلات کی دستیابی کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی۔ انہیں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں کئی گنا اِضافہ ہوا ہے اور جموںوکشمیر ڈیجیٹل ادائیگیوں میں 278 فیصد اِضافے کے ساتھ پورے ہندوستان میں تیسرے نمبر پر ہے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ 1400 میگاواٹ تکمیل کے قریب ہے۔ پکل ڈل (100 میگاواٹ ) ، رتلے(850میگاواٹ) اور کیرو (624 میگاواٹ) زیر تعمیر ہیں جبکہ اِس سال تاریخی مفاہمت نامے پر بھی دستخط کئے گئے۔سیکرٹری کو بتایا گیا کہ کشمیر کے پانپور ٹائون شپ میں9 میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ قائم کیا جارہا ہے ، گریز کو روشن کرنے کے لئے کشن گنگا ڈیم سمال ہائیڈل پروجیکٹ بھی زیر تعمیر ہے ۔ اِس کے علاوہ 12 میگاواٹ کا چھوٹا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کرناہ میں ہے۔زیر تعمیر 100 سال پرانا ورثہ مہورا پروجیکٹ جو 1902 میں تعمیر کیا گیا تھا ،کو بحال کیا جارہا ہے ۔پی ڈی ڈی کے ٹرانسمیشن سیکٹر پر بحث کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جموں وکشمیر نے گزشتہ دو برسوں میں 150 فیصدترقی دیکھی ہے ۔ 1947سے 2019ء تک گزشتہ 70 برسوں کے دوران جموںوکشمیر میں 8394 ایم وی اے ٹرانسمیشن کی گنجائش تھی اور اپریل 2019ء سے 31؍ مارچ 2022 ء تک مزید 3806 ایم وی اے شامل کیا جائے گا۔میٹنگ کو یہ بھی جانکاری دی گئی کہ گزشتہ کئی برسوں سے غیر فعال یا اِلتوأ میں پڑے منصوبوں کو تیزی سے بحال کیا گیا ہے اور مختلف علاقوں کے کل 82 منصوبوں کو یوٹی میں بحال کیا جائے گا۔