امریکی وسط مدتی انتخاب :ایوان نمائندگان ٹرمپ کی جماعت سے چھن گیا

واشنگٹن// امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد نتائج کی آ?مد کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک کے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق سینیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کو برتری حاصل ہے تاہم ایوان نمائندگان ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کی سینیٹ کی 35، ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ری پریزینٹیٹوز) کی تمام 435 نشستوں اور 36 امریکی ریاستوں میں گورنرز کے انتخاب کے لیے پولنگ ہوئی۔ اب تک کے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق 24 ریاستوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی ری پبلکن اور 19 میں ان کی مخالف ڈیمو کریٹس کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ سینیٹ کی 100 میں سے 94 نشتوں کے نتائج جاری کردیے گئے ہیں جس کے مطابق سینیٹ میں ری پبلکنز پارٹی نے 51 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کرلی۔ اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ووٹ دینے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی سینیٹ میں ڈیمو کریٹس پارٹی 43 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کی 435 میں سے 416 نشستوں کے نتائج جاری کردیے گئے۔ یہاں پر ڈیموکریٹس کا پلہ بھاری رہا اور ڈیمو کریٹس نے 222 نشستیں اپنے نام کرلیں۔ ایوان نمائندگان میں ڈیمو کریٹس نے ری پبلکنز کی 13 نشستیں چھین لیں جس کے بعد ری پبلکنز نے 199 نشستیں حاصل کیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار انتخابات میں خواتین کی بھی بڑی اکثریت کامیاب ہوئی اور 92 نشستوں پر خواتین نے فتح حاصل کرلی۔ خیال رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا انعقاد صدارتی انتخابات کے 2 سال بعد ہوتا ہے۔ مڈ ٹرم انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ری پریزینٹیٹوز) کے لیے نمائندے چنے جاتے ہیں۔ سینیٹرز کو 6 سال کی مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔
 

۔2 مسلمان خواتین نے کانگریس میں جگہ بنالی

واشنگٹن //  امریکی وسط مدتی انتخابات میں تاریخ رقم ہوگئی اور دو مسلمان خواتین چھتیس سالہ صومالی نڑاد الہان عمر  اور فلسطینی نڑاد رشیدہ نے کانگریس میں جگہ بنالی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی وسط انتخابات خواتین کے نام رہا اور امریکی تاریخ میں پہلی بار خواتین کی بڑی اکثریت کامیاب ہوئی، نوے سے زیادہ خواتین الیکشن جیت گئیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار دو مسلمان خواتین ایوان نمائندگان میں پہنچ گئیں، دونوں مسلمان خواتین کا تعلق ڈیموکریٹس جماعت سے ہے۔ چھتیس سالہ الہان عمر نے ریاست منی سوٹا سے کامیابی حاصل کی، انھوں نے 72 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مدمقابل ری پبلکن امیدوار صرف 22 فیصد ووٹ حاصل کرسکے۔ صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں پیدا ہونے والی الہان 8 سال کی عمر میں خانہ جنگی کے بعد امریکا آئی تھیں، انھوں نے بین الاقوامی امور میں ڈگری حاصل کی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا اور دو ہزار سولہ کے انتخابات میں وہ مینسوٹا اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔