امریکہ میں گن کنٹرول پر بحث جاری، دوسری آئینی ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ

واشنگٹن // امریکہ کی سپریم کورٹ کے ایک سابق جج نے تجویز دی ہے کہ ملک میں آتشیں اسلحے سے ہونے والی ہلاکتوں پر قابو پانے کا موثر ترین حل یہ ہے کہ آئین میں کی جانے والی دوسری ترمیم ختم کردی جائے۔ستانوے سالہ سابق امریکی جج جان پال اسٹیونز نے 'نیویارک ٹائمز' میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے خاتمے کے لیے نئی آئینی ترمیم لانے سے بہتر کوئی ایسا راستہ نہیں جس کے ذریعے 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن' (این آر اے) کی قانون سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت ختم کی جاسکے۔اپنے مضمون میں سابق جج نے کہا ہے کہ 'این آر اے' دوسری آئینی ترمیم کی بنیاد پر امریکہ میں گن کنٹرول سے متعلق ہونے والی کسی بھی مجوزہ قانون سازی کو آئین سے متصادم قرار دے کر اسے ناکام بنادیتی ہے لہذا بہتر ہے کہ اس آئینی ترمیم کو ہی ختم کردیا جائے۔امریکہ کے آئین میں دوسری ترمیم دسمبر 1791 میں کی گئی تھی جس کے تحت امریکی شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا قانونی حق حاصل ہے۔سپریم کورٹ کے سابق جج جان پال اسٹیونز جو 35 سال سے زائد عرصے تک سپریم کورٹ کا جج رہنے کے بعد 2010  میں ریٹائر ہوگئے تھے۔سپریم کورٹ کے سابق جج جان پال اسٹیونز جو 35 سال سے زائد عرصے تک سپریم کورٹ کا جج رہنے کے بعد 2010ء￿  میں ریٹائر ہوگئے تھیجان پال اسٹیونز 2008میں سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل تھے جس نے قرار دیا تھا کہ دوسری آئینی ترمیم امریکی شہریوں کو اپنے دفاع کے لیے بندوق رکھنے کا حق دیتی ہے۔ تاہم جج اسٹیونز نے بینچ کے اس فیصلے کے خلاف رائے دی تھی۔اپنے مضمون میں جان پال اسٹیونز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کایہ فیصلہ 'این آر اے' کے پروپیگنڈے کا انتہائی طاقت ور ہتھیار ہے۔'این آر اے' کا شمار امریکہ کی طاقت ور اور بااثر ترین انجمنوں اور لابنگ گروہوں میں ہوتا ہے جو ماضی میں گن کنٹرول سے متعلق کسی بھی مجوزہ قانون سازی کی سخت مخالفت کرتی رہی ہے۔پچاس لاکھ ارکان پر مشتمل 'این آر اے' نے 2016ء￿  کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کو بھی بھاری عطیات دیے تھے اور صدر ٹرمپ واضح کرچکے ہیں کہ ان کا 'این آر اے' سے محاذ آرائی کا کوئی ارادہ نہیں۔جان پال اسٹیونز کے اس مضمون کے فوراً بعد اس پر تنقید شروع ہوگئی ہے اور خود وائٹ ہاوس نے دوسری آئینی ترمیم ختم کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔صدر ٹرمپ کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دوسری آئینی ترمیم برقرار رکھنے کی حامی ہے اور چاہتی ہے کہ تمام امریکیوں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے بجائے صرف خطرناک افراد کو آتشیں اسلحہ حاصل کرنے سے روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں گزشتہ ماہ ایک سابق طالبِ علم کی فائرنگ سے 17 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات پر بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے اور کئی حلقے حکومت سے گن کنٹرول سے متعلق مو?ثر اقدامات متعارف کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی سمیت امریکہ کے کئی شہروں میں لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین نے گن کنٹرول کے حق میں بڑے بڑے مظاہرے کیے تھے جن میں حکومت سے آتشیں اسلحے پر کڑی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔لیکن امریکہ میں آتشیں اسلحے پرپابندی کا معاملہ خاصا حساس ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلحے کے حصول یا اسے رکھنے پر کسی پابندی کی مخالف ہے۔گن کنٹرول کے حامی دوسری آئینی ترمیم کے خاتمے کا اس سے قبل بھی مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن یہ اتنا آسان نہیں۔آئینی ترمیم کے خاتمے کے لیے ایک اور آئینی ترمیم لانا ہوگی جس کی منظوری کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی ارکان کی حمایت چاہیے یا پھر تمام ریاستی اسمبلیوں کے دو تہائی ارکان کو آئینی کنونشن طلب کرنا ہوگا۔اگر ایسا ہو بھی جائے تو بھی آئینی ترمیم کو آئین کا حصہ بننے کے لیے امریکہ کی 50 میں سے تین چوتھائی یعنی کم از کم 38 ریاستوں کی منظوری درکار ہوگی۔(ایجنسیز)