امرناتھ یاتریوں کی ہلاکت کےخلاف بانہال بند

بانہال // گذشتہ دنوں بٹینگو، اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر ہوئے حملے اور اس میں سات امرناتھ یاتریوں کے بیہمانہ قتل کے خلاف بانہال میں مکمل ہڑتال کی گئی اور دکانیں اور تمام کاروباری ادارے اور مقامی ٹریفک بند رہا۔ بند کی کال ٹریڈرس ایسوسی ایشن بانہال نے دی تھی۔ اس سلسلے میں بانہال کے ٹورسٹ بنگلہ میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹریڈرس ایسو سی ایشن بانہال ، تاجر برداری اور لو پیڈ ایمپلائز فیڈریشن کے عہدار موجود تھے۔ اس واقع کے خلاف مرکزی جامع مسجد کمیٹی بانہال ، کولیشن آف سیول سو سائٹیز بانہال نے بھی سخت مذمت کی ہے اور اس بے دردانہ قتل کی آزادانہ انکوائری کی مانگ کی ہے۔ اس سلسلے میں ہوئی میٹنگ میں تاجروں اور ملازمین کی انجمن نے یک زبان ہوکر ہندو یاتریوں کے ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اوراس واقع کی ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ یہ قتل وغارت مہمان نواز کشمیریوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے اور میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا سرکار کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں ٹریڈرس ایسوسی ا یشن بانہال کے صدر شمس الدین راہی نے کہا کہ ہم بے گناہوں کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کشمیریت کو بدنام کرنے والوں کو بے نقاب کرکے انہیں سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہ ہم کشمیر میں ہونے والے کسی بھی خون خرابے اور قتل وغارت گری کی مذمت کرتے ہیں اور سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے عناصر کو بے نقاب کریں جو اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں۔ اس واقع پر کولیشن آف سیول سو سائٹیزاور مرکزی جامع مسجد بانہال کی انتظامیہ کمیٹی نے بھی ان ہلاکتوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اس کیلئے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جس میں کولیش آف سول سو سائٹیزکے ممبران کو بھی شامل کیا جائے۔ کولیشن سو سائٹیز اور انسانی حقوق کے رکن عبدالغنی تانترے نے بانہال کے تاجروں کو اس سانحہ پر ہڑتال کرنے کیلئے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سات یاتریوں کی ہلاکتوں سے کشمیر کی مذہبی رواداری ، بھائی چارے اور کشمیریت کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کو انجام دیکر کشمیر اور کشمیریوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہم اس کی مذمت اور اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔