امت مسلمہ کا فطری مزاج تب اور اب!

کسی بھی قوم کی ترقی اُس کی اخلاقی حالت اور کردار پر منحصر ہوتی ہے،یعنی یہ کہ وہ اپنے اختیار کردہ اصولوں پر کتنا یقین رکھتی ہے اور پھر ان اصولوں کے مطابق کتنا عمل کرتی ہے۔ہمارے پاس خدا کے فضل و کرم سے ایمان کی دولت پائی جاتی ہے۔اگریہ ایمان ہمارے دلوں کی گہرائیوں میں جاگزیں ہوجائے تو ہمارے کردار میں اُس کی جھلک نمایاں نظر آئے گی اور اگر یہ جھلک نظر نہیں آتی تو اس کا مطلب صرف یہی ہوسکتا ہے کہ ہم صرف ظاہری حالت پر انحصار کئے ہوئے ہیں اندرونی حالت پر ہماری کوئی توجہ نہیں۔ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اُس کے بتائے ہوئے طریقوں سے کریں ،اس میں اپنی طرف سے کوئی رنگ آمیزی ،جدت طرازی اور مبالغہ آرائی نہ کریں۔پھر عبادت بندے اور اْس کے پروردگار کے درمیان کی چیز ہے ،اس سے معاشرے یا با الفاظ دیگر دوسرے لوگوں پر اثر نہیں پڑتا ،معاشرہ یا دوسرے لوگوں کا واسطہ تو معاملات سے پڑتا ہے اور معاملات کی کسوٹی پر ہی وہ کھرے کھوٹے کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور انہی سے ان پر مثبت یا منفی اثر بھی پڑسکتا ہے۔اگر عبادات کی روح ضائع کرکے ہم صرف ظاہری دین داری پر زور دِئے رہتے ہیں اور معاملات میں معیار سے بالکل گِرے ہوئے ہیں تو ہم اپنے ساتھ اپنے دین کی تصویر بھی مسخ کررہے ہیں۔جب تک ہم اپنے اخلاق و کردار کو دْرست نہیں کرتے ہمارے مسائل بھی حل نہیں ہوسکتے۔اسلام اللہ تعالیٰ کا دین ہے اور اگر اپنے دین کو عام انسانی اخلاقی معیار سے بلند تر ثابت نہیں کرتے تو پھر بات ہی کیا رہ جاتی ہے؟دین میں معاملات یعنی حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے ،جائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی جائز آمدنی سے کھائے پئے بغیر دعا تک قبول نہیں ہوتی ،کسی کا قرض ہو تو شہید تک کے لئے معاف نہیں ہوتا ،کسی کا حق اگرچہ مسواک کی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو، مارنا جائز نہیں۔دیانت،امانت اور خوش اخلاقی پرتو انتہائی زور دیا گیا ہے ،دوسروں سے اپنے حق سے کچھ کم لینے پر راضی رہنا اور دوسروں کے حقوق کو پوری طرح ادا کرنا بلکہ کچھ زیادہ دینے کی کوشش کرنا بہترین صفت اور کامیابی کی ضمانت ہے۔اس طرز عمل سے بہت سے مسائل بہ آسانی خود بخود حل ہوجاتے ہیں ،پھر ایمانداری ایک ایسی خصوصیت ہے جو آخر میں اپنی قدر کرانے پر مجبور کردیتی ہے اور اگر کسی ملت کے بارے میں فی الواقع یہ یقین پیدا ہوجائے کہ اُس کے پیروکار بے ایمانی اورغداری نہیں کرسکتے تو ان کے دلوں میں کشادگی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ روز گار کے دروازے بھی ہر جگہ کھْلنے لگتے ہیں لیکن اس کے لئے ہمیں اپنی اور اْمت کی افادیت ثابت کرنی لازمی ہے۔
اْمت مسلمہ کے افراد کا امتیازی وصف یہ رہا ہے کہ وہ رات میں عبادت گزاراور دن میں شہسوار ہوا کرتے تھے یعنی ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اْن کا تعلق انتہائی مضبوط اور مستحکم ہوتا تھا اور دوسری طرف دنیا کی تگ و تاز میں بھی سب سے آگے رہتے تھے اور یہی اْمت کا ’’فطری مِزاج‘‘ہے یعنی اندرونی طور پر نیکی اور تقویٰ اور خوشحالی اور تنگدستی میں باہمی ہمدردی و تعاون اور بیرونی طور پر نیکی کی سر بلندی اور بْرائی کی روک تھام کے لئے مستقل طور پر متوجہ اور چوکس رہنا۔اپنی اصل کے اعتبار سے یہ اْمت نہ بھلائی کے کام سے بے پروا ہوسکتی ہے اور نہ بْرائی پر خاموش رہ سکتی ہے بلکہ بْرائی سے نفرت اور اْس کا ازالہ ہی اس کا صحیح کردار ہے۔جس اْمت نے توحید کا عَلم بلند کرکے قیصر و کسریٰ جیسے ظالموں کے پنجے توڑ کر سِتم رسیدہ عوام کو گلے لگایا ،آج وہ اْمت کہاں ہے؟ اْس کی آواز عالمی سطح پر کہاں سْنائی دیتی ہے؟ یہ بات فرادِ واحد کے لئے بھی ضروری ہے اور جماعت کے لئے بھی اہم کہ وہ ہر کام غور و خوض کے بعد سوچے سمجھے طریقے سے کرے ،وقتی اِشتعال میں آکر اپنی راہ کھوٹی نہ کرے ،نہ اپنے طے شدہ راستے سے ہٹے۔کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اْس کے عواقب و مضمرات پر اچھی طرح سے غور کرلے اور یہ دیکھ لے کہ اْس کے دوررس اثرات کیا مرتب ہوں گے کہ ہم بہت جلد اشتعال میں آکر غلط قدم اْٹھا لیتے ہیں اور آخر ِ کار ہمیں بسا اوقات ذلت و پسپائی اور ناکامی و رسوائی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،گویا ہم ایسے اشتعال پذیر بن چکے ہیں کہ ہمارے دشمن جب چاہیں ہمیں اشتعال میں مْبتلا کرکے ہم سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔کتنے ایسے مسائل ہیں جو اسی طرح اشتعال پذیری اور شوریدہ سری کے نتیجے میں بگڑے اور ہمیں بے اندازہ جانی و مالی نقصان کا شکار ہونا پڑا۔مسلمان کو تو صبر و تحمل سے کام لینے کی تعلیم دی گئی تھی اور سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے اور پھر قدم اْٹھانے کے بعد پامردی اور استقامت سے کام لینے کا درس دیا گیا تھا لیکن ہم ہیں کہ آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک جاتے ہیں اور پانی کے چھینٹوں سے بْجھ جاتے ہیں۔جتنی جلدی غصہ آتا ہے اتنی ہی جلدی ہم بھول جاتے ہیں،نہ ہماری حمایت قابلِ اعتبار رہی ہے اور نہ مخالفت ،پانی کے بْلبلے کی طرح اٹھتے ہیں اور جھاگ کے مانند بیٹھ جاتے ہیں ،اسی طرح اشتعال پزیری کا ثبوت ہم موقع بہ موقع اپنے ردِ عمل کی صورت میں دیتے رہتے ہیں۔قوموں کی زندگی میں دور اندیشی اور منصوبہ بندطریقے سے کام کرنے کی بنیادی اہمیت ہے اور ہمیں گویا ان ہی چیزوں سے دشمنی ہے۔ہمارا ماضی اگر چہ غلطیوں سے پْر ہے لیکن ان غلطیوں سے سبق سیکھنے اور عبرت حاصل کرنے کے آثار اب بھی نمایاں نظر نہیں آتے اور مختلف صورتوں میں اب بھی اْن کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔انجام ِ کار ملت کی بھَلائی کے نعروں پر اْٹھائی جانے والی تحریکیں طرح طرح کی مشکلات اور پیچیدگیوں کے پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہیں،نہ تو ہماری آواز ہی میں کوئی اثر ہے اور نہ ہی آج تک ہم کسی مسئلے پر باضمیر اور ملت پرور ہونے کا ثبوت دے سکے ہیں بلکہ ضمیر فروشی اور بے غیرتی کی داستانیں رقم کرتے رہتے ہیں۔
رابطہ :احمد نگر ،موبائل نمبر:96973343305