! امتحانات کے نتائج اور حقائق

قوموں اور ملکوں کی ترقی و تنزلی میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کے مترادف ہے۔کسی بھی قوم کی خوش حالی اور بدحالی کا اندازہ لگانا ہو تو اس قوم کے تعلیمی ڈھانچے کو دیکھنا اور پرکھنا  ضروری ہوتا ہے ۔بڑے بڑے لیڈروں،مفکروں اور دانشوروں نے بھی ملک اور قوم کی مجموعی ترقی کو کلاس رومز سے جوڑا ہے ۔ اسی تعلیمی ڈھانچے میں ایک اہم اور خاص مرحلہ امتحانات اور ان کے نتائج کا مرحلہ ہوتا ہے۔یہ امتحانات صدیوں سے ممتحن دیتے آرہے ہیں اور ان امتحانات کے قاعدے قانون بھی وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتے آئے ہیں ۔ کبھی منفی تو کبھی مثبت چیزیں دیکھنے کو ملتی ہے ۔مگر کبھی کبھی ہم جس چیز کی خود مانگ کرتے ہیں، وہی چیز بعد میں ہمیں برائی اور خامی دکھائی دیتی ہے۔
پچھلے کئی برسوں سے ایک طرف ہمارے بچوں کے قابل رشک نتائج سامنے آرہے ہیں جب کہ اسکول اور کالج کووڈ کی وجہ سے آف لائن تعلیم کے لئے بند تھے اور کئی لوگ ان نتائج پر معترض بھی ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ کووڈ کی وجہ سے ہمارے بچوں کو سو میں سے ستر نمبرات ہی حاصل کرنے تھے یعنی سیلبس میں تیس فی صد چھوٹ ۔اس کے بعد جب ہم انٹرنل نمبرات کی اور متوجہ ہوتے ہیں تو یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ اُن بچوں کو بھی یہ نمبرات ملے، جن کو دو سال سے کبھی دیکھا بھی نہیں گیا۔کووِڈ کی وجہ سے سالانہ امتحانات سے بیس دن قبل ہی ان بچوں کو بھی ماس پروموشن کے تحت کامیاب قرار دیا گیا ،جو ابھی پچھلے کلاس کا ہی امتحان دے رہے تھے ۔ امتحانی پرچوں کا طرز بھی اب بدل چکا ہے مگر پھر بھی بچوں کی محنت اور قابلیت کو ہرگز بھی نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں ۔محنت اپنا رنگ ضرور لاتی ہے، البتہ اس امتحانی مرحلے کے دوران ہمیں کئی چیزوں کی طرف خلوص اور سنجیدگی سے دیکھنا اور سوچنا ہوگا تاکہ ہر طبقے کے ساتھ انصاف ہو سکے ۔ ہمیں اس معاملے میں اپنی نئی پود سے کوئی شکوہ نہ ہو ،کیونکہ ممتحن بھی ہمارے ہی بچے ہیں،امتحان لینے والے بھی ہم،اور پرچے اور نتائج تیار کرنے والے بھی ہم۔ لنگویج سبجکٹس میں سو میں سے سو آئیںگے یا نہیں،یہ بحث اپنی جگہ!مگر محنتی اور فرماں بردار طالب علم شاندار کامیابیوں پر مبارکبادی کے مستحق ہیں ۔ ہاں! اس کامیابی کو دیگر بچوں کے لئے وبال بنانا کوئی دانشوری اور عقلمندی نہیں ہے، جو آج کل کا فیشن اور ٹرینڈ بن چکا ہے۔ حالانکہ ان شاندار کامیابیوں کے جشن کے پیچھے کئی مرتبہ خلوص اور خوشی کم جب کہ اشتہاری کاروبار اور تجارت زیادہ کارفرما ہوتی ہے ،جو ہمارے کئی اور طالب علموں کے لئے درد سر اور مایوسی کا سبب بن جاتا ہے۔ حالانکہ ان طالب علموں کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ یہ سو میں سے صرف ساٹھ نمبرات لیتے ہیں یا کبھی کبھار ایک امتحان میں کامیاب نہیں ہوتے ہیں ،اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ لفظ فیل(Fail) کا متبادل ڈھونڈا جائے اور بچوں کے مارکس کارڈ اور گزٹ شیٹس پر اس لفظ کو لکھنے سے گریز کیا جائے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ بچے امتحان دینے کے لئے اہل نہیں ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ ان میں شامل ہوتے ہیں اور پھر کئی دیگر برائیوں کا سبب بن جاتے ہیں ۔یہ حساس معاملات کافی توجہ طلب ہیںاور جب تک یہ معاملات ایسے ہی رہیں گے، تب تک سوالات اٹھتے رہیں گے۔تعلیم و تعلم ایک مسلسل عمل کا نام ہے ۔کامیاب امیدوار ہوں یا جو پہلی بار کامیاب نہیں ہوئے ہوں ۔ نااُمید ہونے کی ضرورت ہے نہ آسمان پر اُڑنے کی ضرورت ہے ۔ایک کلاس کے نتائج محض ایک کلاس کے نتائج ہوتے ہیں ۔اس مسلسل عمل کو ساری و جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔جوں ہی یہ عمل رُک جاتا ہے، ماضی کی کامیابی بھی بے سود اور بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔بقول شاعر  ؎
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
(بونہ گام شوپیان،حال۔ باغ مہتاب سرینگر،رابطہ۔9622483080)