امانت داری کا تصور اور اُس کی اہمیت

اسلام ایک کامل و مکمل دین اور ابدی ضابطۂ حیات ہے۔ امام الانبیاء، سیّدالمرسلین، خاتم النبین، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت، آپؐ کی سیرتِ طیّبہ اور اسوۂ حسنہ رُشد وہدایت کا سرچشمہ، مینارۂ نور اور منبع ہدایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں انسانیت کے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ آپؐ کی شریعت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں ہر دور کے مسائل کا حل اور ہر عہد کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کا جامع دستور موجود ہے۔ 
یہ دین و دنیا کے تمام مسائل میں انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاں عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت، تہذیب و تمدن، دین و دنیا کے مسائل میں انسانیت کی رہبری فرمائی۔ وہیں بنی نوع آدم کو جامع دستور حیات اور ابدی ضابطۂ زندگی بھی عطا فرمایا۔ جہاں دینی معاملات میں رہنمائی فرمائی۔وہیں اصولِ جہاں بانی و فلسفۂ حکمرانی بھی عطا فرمایا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے نظامِ سیاست، طرزِ حکمرانی کی بنیادبے لاگ عدل، مساوات، انسان دوستی، اعلیٰ اخلاقی اور جمہوری اقدار کے فروغ، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، خدمتِ خلق، رفاہِ عامہ، سرکاری مناصب و ذرائع کے ذمّہ دارانہ استعمال نیز اس حوالے سے خود احتسابی، جواب دہی، احساسِ ذمّہ داری، فرض شناسی، دیانت و امانت کے اعلیٰ اصولوں پر استوار کی۔
امانت داری ایمان کا حصہ ہے‘ جو شخص اللہ اورآخرت پر یقین رکھتا ہے ،وہ امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔ اسے اس بات کا احساس ہو تا ہے کہ اگر میں نے کسی کا حق دبالیا یا اس کی ادائیگی میں کمی اورکو تاہی کی تو میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ یقیناً اس کا حساب لے گا اوراس دن جب کہ ہر شخص ایک ایک نیکی کا محتاج ہوگا، حق تلفی کے عوض میری نیکیاں دوسروں کو تقسیم کردی جائیں گی، پھر میری مفلسی پر وہاں کو ن رحم کرے گا؟ 
اس طرح کے تصورات سے اہل ایمان کا دل کانپ اٹھتا ہے اورپھربندہ خیانت یا حق تلفی کر نے سے باز آجاتا ہے، لیکن جس کے دل میں ایمان ہی نہ ہو یا ماحول اورحالات نے ایمان کی روشنی سلب کر لی ہو تو خیانت کر نے میں ایسے شخص کو کوئی تردد نہیں ہوتا، اسی لیے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امانت داری کو ایمان کی علامت اور پہچان قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: جس میں امانت داری نہیں، اس میں ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدے کی پابندی نہیں اس میں دین نہیں ۔(سنن بیہقی-۱۲۶۹۰)
اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کے متعدد مقامات پر امانت داری کی تاکید فرمائی ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ: تو جو امین بنایا گیا ا سے چاہیے کہ اپنی امانت ادا کرے اورچاہیے کہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرے۔(سورۃ البقرہ: ۲۸۳)اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں امانت داری کو تقویٰ سے جوڑ دیا ہے یعنی جسے موت کے بعد کی زندگی حساب وکتاب اورعدالت الٰہی پر یقین ہو ،جس کے دل میں خوف خدا اوراس کی گرفت کا احساس ہو ،اسے چاہیے کہ امانت میں خیانت نہ کرے جس کا جو حق ہے ،پورا پورا ادا کردے، اس لیے کہ اس دنیا میں خیانت کر نے والا قیامت کے دن چین وسکون سے نہیں رہ سکتا، وہاں ایک ایک کا حق ادا کر نا ہوگا اوربڑی دشواریوں کا سامنا ہوگا، لیکن جسے آخرت پر یقین نہیں ،وہ جوچاہے کرے ،دنیا میں چند روزہ زندگی کے بعد آخراپنے کیے ہوئے پر افسوس ہوگا اور بڑے خسارے میں ہوگا۔ 
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے کہ زمانہ قیامت سے جیسے جیسے قریب ہوگا ،ایمانی قوت کم ہوتی چلی جائے گی، اس کے نتیجے میں امانت داری بھی اٹھ جائے گی اورحال یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی بڑی آبادی ہوگی، مگر امانت دار بندہ پوری آبادی میں ایک آدھ بڑی مشکل سے دستیاب ہوگا اوروہ بھی حقیقت میں امین نہ ہوگا۔ لو گ مثال کے طور پر کہیں گے کہ فلاں قوم میں ایک امانت دار شخص ہے ، آدمی کی تعریف ہوگی کہ کیسا عقل مند ، کیسا خوش مزاج اورکیسا بہادر ہے ، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان داری نہ ہوگی ۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الفتن)
امانت داری کی اس قدر اہمیت کے باوجود آج کے معاشرے میں اسے کوئی وزن نہیں دیا جاتا ، اچھے اچھے لوگ بھی جو عرف میں دین دار سمجھے جاتے ہیں، وہ بھی امانت اور حق کی ادائیگی کا پاس ولحاظ نہیں رکھتے ، انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتاکہ امانت کی حفاظت اور اس کا مکمل طور پر ادا کرنا دینی وشرعی فریضہ ہے، بعض لوگوں میں امانت داری کا جذبہ ہو تابھی ہے تو وہ صرف مال کی حد تک محدود رہتا ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس کسی کا مال رکھا ہو تو وہ اسے ادا کردیتا ہے، عام طور پر لوگوں کا ذہن اسی مالی امانت کی طرف جاتا ہے ، حالانکہ امانت کی اوربھی مختلف قسمیں ہیں، جن کی اہمیت بعض صورتوں میں مالی امانت سے بھی بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ 
ان کی حفاظت بھی ایک مسلمان کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مالی امانت کی ہوتی ہے ، اسی لیے فتح مکہ کے موقع پر خانہٴ کعبہ کی کنجی جب عثمان بن طلحہ بن عبد الدار شیبی کو دینے اوران کی امانت انہیں واپس کر نے کی تاکید کی گئی تو امانت کو جمع کے صیغے کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ ارشاد باری ہے: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچا دیا کرو‘‘۔(سورۃالنساء ۵۸) قابل غور بات یہ ہے کہ کنجی کو ئی اہم مال نہیں ، بلکہ یہ خانہٴ کعبہ کی خدمت کی نشانی ہے جس کا تعلق مال سے نہیں، عہد ے سے ہے، پھر بھی اسے امانت سے تعبیر کیا گیا اورپھر جمع کا صیغہ استعمال کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیاگیا کہ امانت کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں، جن کی ادائیگی تمام مسلمانوں پرلازم ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جس عہدے اورمنصب کا جواہل ہو، اسی کو وہ عہدہ سپرد کیا جائے، اس کے لیے سب سے پہلے غور کر نا چاہیے کہ اس کے ماتحتوں میں کون ایسا شخص ہے، جس میں پیش نظر ملازمت یاعہدے کی مکمل شرطیں پائی جارہی ہیں، ایسا کوئی شخص مل جائے تو وہی اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے، لہٰذا کسی پس وپیش کے بغیر وہ عہدہ اورملازمت اسے سپرد کریا جائے اور اگر مطلوب صلاحیت کا حامل کوئی شخص دستیاب نہ ہو تو موجودہ لوگوں میں جو سب سے زیادہ لائق وفائق ہو، اسے منتخب کیا جائے، غرض یہ کہ حکومت کے ماتحت جتنے بھی عہد ے اورمناصب ہوتے ہیں، وہ امانت ہیں اورارباب حکومت اس کے امین ہیں، اگر حکومت نے اپنے ماتحت کسی شخص کو اس کا مجاز بنایا ہے تو وہ بھی امین ہے ‘ان سب کو چاہیے کہ عہدے اورمنصب پوری دیانت داری سے تقسیم کریں، صلاحیت اورشرائط کو اس کے لیے معیار بنایا جائے نہ کہ قرابت اورتعلق کو۔
اگر کسی شخص کو ذاتی تعلق یا سفارش کی بنیاد پر یارشوت لے کر کوئی عہدہ اورمنصب سپرد کیا جاتا ہے تو یہ خیانت ہے اورتمام ذمہ دار اس خیانت کے مرتکب ہوں گے ، ایک موقع پر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو عام مسلمانوں کی کوئی ذمہ داری سپر د کی گئی ہو، پھر اس نے کوئی عہدہ کسی شخص کو محض دوستی وتعلق کے پیش نظر دے دیا ، اس پر اللہ کی لعنت ہے، نہ اس کا فرض مقبول ہے، نہ نفل یہاں تک کہ وہ جہنم میں داخل ہو جا ئے۔ (مجمع الفوائد :ص: ۳۳۵)
نااہلوں کو عہدے سپر د کر نے سے گناہ تو ہو تا ہی ہے ، دنیوی اعتبار سے بھی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، اس سے مستحقین اورباصلاحیت افراد کے بجائے ناکارہ اورنااہل لوگ عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں ان میں کام کی صلاحیت نہیں ہوتی ، اس لیے پورا شعبہ بگڑ جاتا ہے اورپھر عوام کے لیے یہ اذیت رسانی کا باعث ہوتا ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دیکھو کہ کاموں کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو سپرد کردی گئی جو ان کے اہل اورقابل نہیں تو قیامت کا انتظار کرو۔(صحیح بخاری:۵۹)یعنی جب نااہل افراد کو کوئی ذمہ داری یا عہدہ اور منصب سپرد کیا جائے تو فساد یقینی ہے اوراب دنیوی نظام کو فساد سے کوئی بچا نہیں سکتا ، اس لیے اب قیامت کا انتظار کرو، اس میں خلافت سے لے کر ایک ادنیٰ ملازمت بھی شامل ہے۔
اس خیانت کا تعلق صرف حکومت اورسرکاری عہدوں سے ہی نہیں، بلکہ نجی کمپنی ‘انجمن اورعوامی اداروں سے بھی ہے جو ان اداروں اور کمپنیوں کو مفید اوربافیض بنانا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ جس کام کے جو لائق اوراہل ہے، اسے وہیں رکھا جائے ،کسی بھی وجہ سے اگر کم تر صلاحیت والے افراد کو فوقیت دی جائے تو ادارہ کبھی ترقی نہیں پاسکتا ، دینی مدارس میں بھی تقسیم اسباق اوردیگر امور میں اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے، ورنہ اس سے تعلیمی نظام متاثر ہوگا اورذمہ داران خیانت کے مرتکب ہوں گے۔
جو شخص کسی کا مزدور یاملازم ہو اسے چاہیے کہ مالک اورذمہ دار سامنے ہو یا نہ ہومکمل دیانت داری کے ساتھ کام کر ے، نہ تو وقت میں کمی کرے اورنہ کام میں سستی اورنہ ہی اپنی صلاحیت کو استعمال کر نے سے گریز کرے، ان تینوں میں سے کچھ پایاگیا توخیانت شمار ہوگی۔ اسی طرح اگر مزدور وملازم سے پانچ چھ گھنٹے کام کرنے کا وقت طے ہوجائے اور پھر کام کر نے والا وقت میں چوری کرے ، وقت کے بعد آئے یا متعین وقت سے پہلے چلا جائے تو یہ بھی خیانت ہے، ایک مسلمان ملازم جو کائنات کے مالک کو سمیع وبصیر سمجھتا ہے اور اس پر پورا یقین رکھتا ہے، اسے احساس ہو نا چاہیے کہ اگر چہ میرا مجازی مالک اور ذمہ دار مجھے نہیں دیکھ رہا، لیکن رب تو مجھے دیکھ رہا ہے، اس کی گرفت سے جوبچ گیا ،وہی کامیاب اورفلاح پانے والا ہے ، اسی طرح کام میں سستی اورٹال مٹول کر نا بھی خیانت ہے، وہ کام جو پانچ گھنٹے میں ہوسکتا تھا، اسے دس گھنٹے میں تکمیل کرنا، تاکہ مزید پیسے ملتے رہیں اوراس کے معاش کا مسئلہ حل ہو تا رہے ، یہ بری سوچ اورناپسندیدہ عمل ہے، امانت داری کا تقاضا ہے کہ مکمل تندہی سے کام کو انجام دیا جائے پورا وقت اورپوری طاقت اس کے لیے صرف کی جائے، ورنہ وہ مالک کے ساتھ خیانت کر نے کا مرتکب ہوگا اوراس کا بھی حساب روزمحشر دینا ہوگا۔