امام بارگاہ پونچھ میں عشرہ محرم الحرام کی تیسری مجلس عزامنعقد

پونچھ// امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں عشرہ محرم الحرام کی تیسری مجلس بھی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی جس کے بعد نعت، منقبت، قصیدہ ، سلا و نوحہ کا نذرانہ عاشقان محمد و آل محمد نے پیش کیا ۔اپنے خطاب میں بیرون ریاست سے آئے ہوئے مولانا تصدیق حسین زیدپوری نے سورہ حمد کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی اکثریت آج بھی اس شک میں مبتلا ہے کہ قرآن آسمانی کتاب اور خدائی کا کلام ہے یا نہیںجبکہ قرآن کریم اعلان کر رہا ہے کہ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کتاب لکھنے والا یہ دعوی نہیں کرتا کہ اس کی کتاب ہر زمانے میں صحیح رہے گی لیکن واحد کتاب قرآن مجید ہے جس کے قیامت تک صحیح ہونے کا اور ہر زمانے کے لوگوں کی ہدایت کرنے کی گارنٹی دیتاہے۔ انہوں نے کہا کہ فقہ جعفریہ اس بات کا یقین رکھتی ہے کہ قرآن کریم میں زبر اور زیر اوپر نیچے نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی حفاظت کی زمہ داری خدا نے خود لے رکھی ہے۔انہوں نے کہا جو لوگ قرآن میں ترمیم کے قائل ہیں وہ یہودیت کے پروردہ ہیں ان کا مسلک اہلبیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیت کو بدنام کرنے کے لئے یہود نْصیرا ہمیں میں کچھ لوگوں کوزر خرید غلام بنا کراستعمال کر تے ہیں۔انہوں نے کہا قرآن کو یکجا کرنے میں حضرت علی علیہ السلا کا سب سے زیادہ حصہ رہا ہے۔ سورہ حمد قرآن مجید کا پیش لفظ ہے۔ انہوں نے اسرار بسم اللہ بیان فرماتے ہوئے کہا کہ نقطہ بائے بسم اللہ جس کے متعلق حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ تمام آسمانی کتب کے اسرار قرآن میں ہے اور تمام قرآن کا علم سورہ فاتحہ میں اور سورہ فاتحہ کا علم بسم اللہ الرحمن الرحیم میں اور بسم اللہ کا علم بائے بسم اللہ میں اور بائے بسم اللہ کا علم با کے نقطہ میں پس میں وہ نقطہ میںہوں جو بائے بسم اللہ کے نیچے دیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا مولا علی علیہ السلام کے بارے میں رسول اللہؐ نے فرمایا "میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے"۔ انہوں نے کہا یہاں رسول بتانا چاہتے ہیں کہ اگر تم کو مجھ سے رسائی کرنی ہے تو علی ؑکے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا پیغمبر ہی کا فرمان ہے کہ قرآن و اہلبیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے؎ اور جو کوئی ان کو جدا کرے وہ ہم میں سے نہیںہوسکتا۔ مجلس کے دوران کشمیر مرثیہ پڑھا گیا اور نوجوانوں نے ماتم بھی کیا اور عالم انسانت کے لئے دعائیں طلب کی گئی۔