الہ آباد میں کمبھ میلہ شروع

الہ آباد//  شہر پریاگ راج (الہ آباد) میں دنیا میں ہندوؤں کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جانے والا کمبھ میلہ سج گیا ہے اور منگل کو مقدس غسل سے میلے کا باقاعدہ آغاز بھی ہو گیا ہے۔یہ میلہ 49 دنوں تک جاری رہے گا اور چار مارچ کو اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ میلے کے پہلے دن تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد کی آمد   ۔میلے کے آغاز کے موقعے پر ضلع پریاگ راج کے تمام سکول اور کالج تین دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔شہر کو آنے والی تمام سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں اور گاڑیوں کو شہر سے باہر روک لیا گیا ہے جہاں سے لوگوں کو شٹل بسوں اور رکشوں کے ذریعے میلے کے مقام تک پہنچایا جا رہا ہے۔اندازہ ہے کہ اس میلے کے دوران کم از کم 12 کروڑ افراد الہ آباد کا رخ کریں گے اور گنگا اور جمنا کے سنگم پر جمع ہوں گے جن میں دس لاکھ کے قریب غیرملکی بھی شامل ہیں۔ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق دریائے گنگا اور جمنا کے سنگم کے مقام پر غسل کرنا ان کے گناہوں کو دھو دیتا ہے اور ان کی نجات کا ذریعہ ہے۔کمبھ کے ضلعی کلکٹر کے مطابق اس مرتبہ میلے کی سرگرمیاں 45 مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں جبکہ ماضی میں یہ علاقہ 20 مربع کلومیٹر تک ہوتا تھا۔ان کے مطابق اس پھیلاؤ کا فائدہ یہ ہے کہ سنگم کے مقام پر ہجوم کا دباؤ زیادہ نہیں ہو گا اور زیادہ اشنان گھاٹ بھی بنائے جا سکے ہیں۔اس میلے کو زمین پر انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا جاتا ہے جسے خلا سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی بھی بسائی گئی ہے۔ شہر بھر میں سڑکوں کو کشادہ کیا گیا ہے اور نئے فلائی اوورز بنائے گئے ہیں۔میلے میں 300 کلومیٹر سڑک بنائی گئی ہے۔ شہر کے چاروں طرف وسیع پیمانے پر کار پارکنگ بنائی گئی ہے تاکہ تقریباً پانچ لاکھ گاڑیوں کو پارک کیا جا سکے۔حکام کے مطابق اس سال میلے کے انتظامات پر چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت آئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے رواں برس بھی مقدس غسل کے اوقات مقرر کیے ہیں۔ میلے کے منتظم وجے کرن آنند کا کہنا تھا کہ ’پہلا مقدس غسل 15 جنوری کو صبح سوا پانچ بجے ہوا اور ہر گھاٹ پر 45 منٹ کے دورانیے کے لیے اشنان ہو گا اور یہ سلسلہ شام چار بجے تک چلا‘۔کمبھ میلہ الہ آباد میں صدیوں سے منعقد ہو رہا ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں سے یہ ایک میگا ایونٹ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔رواں سال کا میلہ 'اردھ کمبھ' یعنی نصف کمبھ ہے اور یہ دو کمبھ میلوں کے بیچ میں منایا جاتا ہے لیکن اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ سنہ 2013 میں ہونے والے پورے کمبھ سے بھی بڑا ہونا متوقع ہے۔  اس برس یہ میلہ بہت بڑا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کی ہندو قوم پرست حکومت نے اس کا انتظام ملک میں ہونے والے عام انتخابات کو نظر میں رکھ کر کیا ہے۔الہ آباد شہر اور میلے کے مقام پر وزیراعظم نریندر مودی کے بڑے بڑے اشتہاری بورڈز جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں جبکہ اشنان گھاٹوں پر بھی مودی کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔اس تہوار میں سب سے زیادہ توجہ کے حامل ’ناگا سادھو‘ ہوتے ہیں جو برہنہ جسموں پر راکھ مل کر رنگ برنگے جلوسوں میں یہاں آتے ہیں۔میلے میں آغاز سے ہی جشن کا سماں ہے اور منتظمین نے اس کے دوران موسیقی اور رقص کی محفلیں بھی سجا رکھی ہیں جن کے علاوہ کرتب دکھانے والے، لوک موسیقار اور گلوکار بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔تاہم میلے میں آنے والے زیادہ تر یاتریوں کا کہنا ہے کہ وہ ’گنگا ماں کی پکار‘ پر آئے ہیں۔ کسان پرمود شرما کا کہنا تھا کہ ’ہمارا عقیدہ ہے کہ اشنان سے ہمارے گناہ دھل جائیں گے۔‘شابھ جی راجہ نے کہا کہ ’اس پانی میں حیات بخش خصوصیات ہیں۔ یہاں نہانے سے ساری بیماریاں اور راہ میں حائل مشکلات بھی دور ہو جاتی ہیں۔‘