الوداع الوداع

میری بچی !ایک زمانہ تھا جب بھارت کے اولین صدر مملکت آنجہانی راجندر پرشاد اور سابقہ پرائم منسٹر آنجہانی لال بہادر شاستری جیسی مقتدر شخصیات بھی مسلمانوں کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے پر فخر محسوس کیا کرتی تھیں مگر زمانہ اپنی دولتی مار گیا کہ آج اُنہی کردار ساز دانش گاہوں کو دہشت گرد ی کے مراکز اور ائمہ و علماء کو دہشت گرد کے نام سے بدنام کیا جاتا ہے ،مسلمان کی کوئی قدر و قیمت نہیں،اُس کو اس قدر کچلا گیا ہے کہ اُس میں دم مارنے کا یارا نہیں ،چہ جائیکہ وہ اپنی پوزیشن ،حقوق اور عزت و وقار کی بحالی کے لئے جستجو کرسکے ۔البتہ سابقہ ایام میں ہندوستان میں نہ صرف مسلمان ہی اپنے علم و عمل ،قول و فعل اور کردار میں اپنی دینی اور تہذیبی روایات پر عمل پیرا تھے بلکہ ہندو بھی بے حد خدا ترس ،شریف ،ملنسار ،مخلص اور مسلمانوں کے بہت قریب تھے ۔دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے کام آتے تھے اور بپتا میںساتھ دیتے تھے بلکہ تہوار بھی مل جل کر مناتے تھے ۔مسلمان اگرچہ اپنی دعائوں میں مخلص تھا تو ہندو بھی کچھ پیچھے نہیں تھا ۔ ہندو گھرانوں میں ہر شخص بلکہ مرد و زن صبح کو منہ اندھیرے گائتری منتر کا پاٹھ کیا کرتے تھے ۔کیا شان استغنائی تھی بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک کے لئے شبھ کامنائیں کرتے تھے ۔جیسے منتر کے الفاظ میں:-
سروے بھونتو  سُکھی ناہ
سروے سنتو نراہ میاہ
سروے بھدران ِ پشنتو 
ما کشچت دُکھ بھاگ بھوہ تاہ
 ان الفاط سے یہ آرزو کی جاتی تھی یا یہ دعا مانگی جاتی تھی:
اے مالک دوجہاں !دنیا کے تمام لوگ خوش حال اور سکھ شانتی سے رہیں ۔تمام لوگ تندرست اور صحت و عافیت اور امن و امان سے رہیں۔تمام لوگ دکھوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہیں ۔الخ
مگر اب کہاں ۔وہ زمانے عنقا ہوگئے ۔اب سمجھ میں ہی نہیں آرہا ہے کہ وہ لوگ کدھر گئے ،روایات کیوں خرافات کی نذر ہوگئیں اور اقدار کی مٹی کیوں پلید ہوگئی ۔موجودہ وقتوں میں ایسا اظہر من الشمس ہے کہ بھارت کی ایک کثیر آبادی صبح کے وقت اس منتر کا اَلاپ نہیں کرتی ، ونتی نہیں کرتی ،دعائیں نہیں مانگتی کیونکہ تعصب نے اُن کا دماغ ماؤف کردیا ہے جب کہ اس کے برعکس وہ مسلمانوں کو لٹیرے ،غیر ملکی اور پاکستانی کہتے تھکتے نہیں۔مسلمانوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں بلکہ اب اس کو ہتھیاروں کی کثرت اور سیاسی نشے کے بل پر پیٹ پیٹ کر مارا جاتا ہے ۔اس پر ہر طرح کی قدغنیں لگتی ہیں جب کہ ان کے اپنے لوگوں کے لئے مجرم ہونے کے باوجود کوئی مواخذہ نہیں ۔اس طرح سے سماجی سنتولن بگڑ کے رہ گیا ہے اور مسلمان اپنے آپ کو ہر جگہ غیر محفوظ سمجھتا ہے ۔ پاکستان جانے والی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں ،مکہ مسجد حیدرآباد میں ،اجمیر شریف میں اور ممبئی کے علاوہ کئی جگہوں پر بم وسفوٹ کرنے والوں نے ہر ایک جرم ،جرم سے متعلق میٹنگ اور تیاری ،ہر ایک بات کا اقبالی مجرم کی طرح کھلی عدالتوں میں اقرار کیا اور وہ بیان نیشنل پریس ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘مورخہ 11؍جنوری 2011ء کے شمارے میں پوری تفصیل کے ساتھ شائع ہوا، جس کو دنیا بھر میں پڑھا گیا مگر ابھی حال ہی میں اُن تمام مجرموں کو’’ باعزت بری ‘‘کرکے اُن کے اپنے سابقہ مراعات سے بھی نوازا گیا ۔ان حالات میں میری نور نظر! اگر میں نے کہا کہ تم کو انصاف نہیں ملے گا تو ایسا کہنے میں میں حق بجانب ہوں۔اسی دوران ٹی وی چینلوں نے اس کانڈ پر مین میخ نکالنا شروع کیا ہے۔تمہارا سُستا ہوا پیلا چہرہ ،نیم وا بے نور آنکھیں ،سکڑے خشک ہونٹ اور پتھر کی ضرب سے پا ش پاش مجروح سر۔۔۔میں اس بے عزت کئے ہوئے پامال جسم کو کیسے بھول سکتا ہوں ؟تم نے ،میری جان ِ جگر! کیا کیا سہا ہوگا ،اُس کا ادراک کوئی دوسرا نہیں کرسکتا ۔اُن اذیتوں کا گواہ صرف تمہارا ہی معصوم اور کم سن وجود ہے ۔
بہت سارے لوگ تمہارے جنازے کے ساتھ تھے ،لوگوں کا ایک جم غفیر ۔ تمہارا پوسٹ مارٹم سے تار تار کیا ہوا ہلکا سا جسم میرے کندھے پر تھا اور مجھے لگ رہا تھا جیسے کہ میں اپنی ہی لاش اپنے کندھے پر اٹھا کے لے جارہاہوں۔یہ کیسی ستم ظریفی تھی ، یہ کیسی آزمائش تھی اور میرے لئے یہ کتنا بڑا اور کٹھن امتحان تھا ۔میری ننھی شہیدہ! غو ر کرنے کا مقام ہے کہ اُس وقت میرے دل پہ کیا بیتی ہوگی جب میں نے تمہیں سپرد خاک کیا ۔منوں مٹی کے نیچے دفنایا ۔۔۔۔اور تم اُسی بوجھ کے نیچے دب گئی ۔۔۔۔سوگئی ۔۔۔۔کھو گئی ۔۔۔اب تمہیں کوئی نہیں دیکھ سکے گا ۔۔۔۔اب تم کسی کو نظر نہیں آئو گی ۔ہمارے ڈیرے کے بار برداری کے گھوڑوں جنہیں تم گھاس چرنے لے جاتی تھی اور دوسرے ڈھور ڈنگر کی آنکھیں تمہاری راہ تکتے تکتے پتھرا جائیں گی مگر تم لوٹ کر نہیں آئو گی ۔۔۔۔کبھی نہیں آئو گی ۔بس تمہارا ساتھ اتنی سی قلیل مدت کے لئے تھا میری لاڈو!۔۔۔
باپ ہونے کے ناطے میرے دل کا ناسور کتنا گہرا ہے ،میرے جسم و جاں کی کیا حالت ہے وہ کوئی نہیں جان سکتا ۔زبان میں دم نہیں کہ اپنے جذبات کو برملا اظہار کرسکوں مگر تصور شہادت اور تم کو اُس کے عوض ملنے والی جنت کے روشن چراغ میرے دل و دماغ میں۔۔۔۔۔جب تک میں اس دنیا میں ہوں ۔۔۔۔ہر وقت فروزاں رہیں گے ۔۔۔۔الوداع ۔۔۔۔۔میری بچی الوداع۔۔۔۔۔۔۔
ایک معصوم چھوٹی سی گڑیا تھی تُو 
اپنے با با کی خوشیوں کی پڑیا تھی تُو 
ہندو مسلم سے تجھ کو غرض کچھ نہ تھی 
جرم اتنا تھا معصوم بٹیا تھی تُو 
نوچ کر ظالموںنے تجھے 
کردیا اس جہاں سے جدا 
الوداع !!الوداع !!الوداع!! 
 عامر ؔپرتاپ گڑھی کے کلام سے بہ معذرت کچھ تحریف کے ساتھ 
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او رینگر-190001،کشمیر
  موبائل نمبر:-9419475995