المواسی رفح میں اسرائیلی حملے میں 25افراد لقمہ اجل

یو این آئی
غزہ// غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح شہر میں بے گھر فلسطینیوں کے قیام پذیر المواسی علاقے میں اسرائیلی فوج کے حملے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے۔فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی خیموں پر توپ کے گولوں سے بمباری کے نتیجے میں 50 فلسطینی زخمی ہوئے۔عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ بمباری کے نتیجے میں خیموں میں آگ بھڑک اٹھی۔خان یونس اور رفح تک پھیلا ہوا الامواسی علاقہ ان “محفوظ علاقوں” میں شامل تھا جہاں اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنا چاہتی تھی۔اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے وسطی حصے میں واقع نصرت پناہ گزین کیمپ اور اس کے گردونواح پر بھی بھاری توپ خانے سے حملہ کیا، جس دوران بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔بین الاقوامی عدالت انصاف کے حملے روکنے کے فیصلے کے باوجود اسرائیلی فوج رفح پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔اسرائیلی فوج کے28 مئی کو بھی رفح شہر میں بے گھر انسانوں کے لیے “محفوظ” علاقہ قرار دیے گئے مواسی خیموں پر حملے میں 21 افراد ہلاک اور 64 افراد زخمی ہوئے تھے۔دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع غزہ شہر کے الااہلی بیپٹسٹ اسپتال میں 30 افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔اسرائیلی فوج کے غزہ کے مختلف علاقوں میں بھی پُرتشدد حملے جاری ہیں۔

فائر بندی کی ہر ممکنہ تجویز پر غور کرنے کیلئے تیار:اسماعیل ہنیہ
غزہ/یو این آئی/ حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ کو روکنے اور مزاحمت کے مطالبات کو پورا کرنے والے تمام اقدامات کے لیے تیار ہیں۔ہنیہ نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں اسٹریٹجک افکار فورم کے زیر اہتمام غزہ میں اسرائیل کی طرف سے چھیڑی گئی جنگ کے منظر ناموں پر بحث ہونے والے سمپوزیم میں شرکت کی۔حماس کے “حملوں کا مکمل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء، علاقے کی تعمیر نو، قیدیوں کا تبادلہ اور غزہ کے عوام کو امداد کی فراہمی” جیسے مطالبات پائے جانے کی یا ددہانی کرانے والے ہنیہ نے کہا’’ یہ ہماری عوام، مزاحمتی قوتوں اور اُمت کے آزاد عوام کے مطالبات ہیں ۔ حماس انہیں مطالبات پربات چیت کر رہی ہے۔ ہم جنگ بندی کے مذاکرات میں مزاحمتی قوتوں کے ان مطالبات کو پورا کرنے والی ہر پیشکش کے لیے تیار ہیں‘‘۔ہنیہ نے کہا کہ انہوں نے 6 مئی کو قطری اور مصری فریقیں کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کی منظوری دی تھی، لیکن اسرائیل نے جنگ بندی کی تجویز میں مزاحمتی قوتوں کے مطالبات کے نچوڑ کو متاثر کرنے والی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے۔اسرائیل کی مذاکراتی حکمت عملی بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر حماس پر اسرائیل کے نقطہ نظر کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر مبنی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ہنیہ نے کہا کہ اسرائیل نے ایک سیاسی جال بچھا دیا ہے جو کچھ شرائط عائد کرتا ہے۔، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے خلاف جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس میں نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ اور اس کے مغربی استعماری اتحادی بھی شریک ہیں۔تحریک حماس نے 6 مئی کو قطر اور مصری حکام کو جنگ بندی کے لیے ان کی پیشکش کو منظور کرنے کا پیغام دیا تھا ، لیکن اسرائیل نے”اپنی شرائط پوری نہ ہونے” کے جواز میں اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا‘‘۔امریکی صدر جو بائیڈن نے 31 مئی کو اعلان کیا تھاکہ اسرائیل نے تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی کی نئی تجویز پیش کی ہے۔اگرچہ بائیڈن نے اس تجویز کا تعلق اسرائیل سے ہونے کا کہا تھا، لیکن وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بیان دیا تھا کہ وہ “مقرر کردہ اہداف” کے حصول تک جنگ جاری رکھیں گے۔3 جون کو پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی سے اپنی تقریر میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کی تجویز اور بائیڈن کی تجویز کے درمیان “خلا” ہے۔

غزہ جنگ پر اختلافات | امریکی محکمہ خارجہ کے سینئرعہدے دار اینڈریو ملر مستعفی
واشنگٹن/یو این آئی/ غزہ جنگ پر اختلافات کے باعث امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدے دار اینڈریو ملر مستعفی ہوگئے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے اسرائیل فلسطین امور کے ماہر اینڈریو ملر نے استعفیٰ دے دیا، غزہ جنگ کے بعد اینڈریو ملر مستعفی ہونے والے سب سے سینئر عہدے دار ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اینڈریو ملر بائیڈن انتظامیہ کی غزہ پالیسی کے ناقد رہے ہیں، اینڈریو ملر کا کہنا ہے کہ غزہ میں 8 ماہ کی جنگ کے دوران انھوں نے اپنے خاندان والوں کو شاذ و نادر ہی دیکھا، یہ ذمہ داریاں نہ ہوں تو وہ اپنی ملازمت برقرار رکھنے کو ترجیح دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ انتظامیہ کی پالیسی سے متفق نہیں ہیں اور جس چیز پر ان کا یقین ہے اس کے لیے وہ لڑیں گے، واضح رہے کہ اینڈریو ملر سے پہلے بائیڈن انتظامیہ کے دیگر 8 اہلکار بھی اسرائیل نواز پالیسی کے خلاف استعفیٰ دے چکے ہیں۔اینڈریو ملر کا استعفیٰ اس لیے قابلِ ذکر ہے کیوں کہ وہ فلسطین اسرائیل پالیسی میں کردار ادا کرنے والے اعلیٰ ترین عہدے دادر تھے، ملر اب تک مستعفی ہونے والے سب سے سینئر امریکی اہلکار ہیں۔اگرچہ ملر نے استعفے کی وجہ خاندان کو کم وقت دینا بتایا ہے، تاہم غیر ملکی میڈیا کے مطابق وہ فلسطینی حقوق اور ریاست کے اصولی حامی ہیں اور مشرق وسطیٰ کے امور پر گہری سوچ رکھتے ہیں۔