اللہ کاپسندیدہ انسانی گروہ

 
  سورہ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے محسنین کے تئیں شدید محبت کا اظہار کیا ہے۔ یہ محسنین کون ہیں؟ یہ کو ئی ملکوت نہیں، نہ آسمانی مخلوقات بلکہ زمین پر بس رہے انسانوں میں ہی کا ایک  پسندیدہ گروہ ہے‘ جس نے اپنی صداقت شعاری اور خلوص ونیک عملی سے بندگی میں ’’درجۂ احسان ‘‘ پالیا ہو: قرآن میں فرمان ِ الہٰی ہے’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی جب کہ اُن کا طرزِ عمل یہ رہا ہو کہ انہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی اور ایمان لائے اور اعمالِ صالح کئے پھر مزید تقویٰ کا اضافہ کیا اور ایمان لائے‘ پھر مزید تقویٰ اختیار کیااور احسان کی روش اختیار کیا اور اللہ (ایسے) محسنین سے محبت رکھتا ہے‘‘۔(سورہ المائدہ- 93 )
 اس آیت میں ایمان‘ اعمال اور تقویٰ کے بعد احسان کاذکر ہے، گویا کہ ایمان‘ عمل صالح اور تقویٰ کے ذریعے ہی ایک انسان درجۂ احسان کو پالیتا ہے۔ یا یوں سمجھئے کہ ایمان ‘ عملِ صالح اور تقویٰ ایک ہی سیڑھی کے تین زینے (Steps ) ہیں جن پر یکے بعد دیگرے چڑھ کر انسان بندگی کے اُس مقامِ عظیم کو پالیتا ہے جسے ’’درجٔہ احسان‘‘ کہا گیا ہے۔ درجٔہ احسان کی وضاحت ایک حدیث جبرئیل ؑ میں آنحضرت ؐ نے خود فرمائی ہے۔ یہ حدیث جبرئیل ؑ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ چند دیگر کتب احادیث میں وارد ہوئی ہے اور ’’اُم ا لسُنَُہ ‘‘ کہلاتی ہے۔ اس حدیث کے مطابق حضرت جبرئیل ؑ انسانی وضع میں خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے اوراسلام ‘ ایمان اور احسان کے متعلق استفسار ات کئے۔ اسلام اور ایمان سے صرفِ نظر احسان کے ضمن میں آنحضرتؐ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ انسان بندگی کے وقت ایسی کیفیت میں مبتلا ہوجائے کہ جیسے وہ اپنے رب کو دیکھ رہا ہو‘ اور اگر یہ کیفیت ممکن نہ ہو تو انسان کم از کم یہ محسوس کرے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہاہے۔چنانچہ مشہور عربی لغت ’’لسان العرب‘‘میں درج ہے کہ رب کا خوف اور عاجزی عبادت اور بندگی کی اساس ہے۔ گویا کہ رب کے خوف اور عاجزی کے بغیر عبادت محض ایک بے روح ڈھانچہ ہے یعنی خشوع اور خضوع سے خالی۔ ایسی عبادت اور بندگی سے انسان رب کی قربت حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنے رب کو پہچان سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:افسوس اُن نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔ (الماعون)۔اب ضروری ہے کہ بندہ اپنی بندگی اور عبادت میں پہلے خشوع اور خضوع پیدا کرے تاکہ اُسے رب کی پہچان اور قربت حاصل ہو اور وہ بندگی کے اُس مقام کو پالے جسے حدیث مذکور میں’’درجٔہ احسان‘‘ کہا گیا ہے اور وہ محسنین کے اس گروہ میں شامل ہو جائے جس کے تئیں اللہ تعالیٰ نے شدید محبت کا اظہار کیا ہے۔
جب انسان کو بندگی کا یہ مقامِ عظیم حاصل ہو جاتا ہے تو سر سے لے کر پاؤں تک اُس کا وجودِ خاکی لرزہ براندام ہو جاتا ہے جس کے بعد صحیح معنوں میں اُسے اپنے رب کی ربوبیت ِکاملہ اور وحدانیت کا شعور حاصل ہوتا ہے اور ساتھ ہی اُس کی بندگی میں اس درجہ خلوص آتا ہے کہ اسباب کی محبت یا رنجش اسے اپنے رب سے غافل نہیں کرسکتی۔ مولانا داؤد راز ؒ نے صحیح بخاری کی شرح میں امام بخاریؒ کے حوالے سے ایک واقعہ رقم کیا ہے کہ حضرت امام  ؒکو ایک دفعہ دورانِ نماز شہد کی مکھی (Bee ) نے ستر مرتبہ ڈھنک مارا مگر حضرت امام ممدوح ؒنے اُف تک نہ کی۔ غور کیا جائے تو امام بخاریؒکا یہ مختصر ساواقعہ درجۂ احسان سے عبارت جذبات اور اس کی پورے روح کا مکمل احاطہ کرتا ہے۔
رابطہ سیر جاگیر سوپور  
فون=  9858464730 
