القدس ۔۔۔امریکہ ظلم جارحیت تشدد کاحمایتی!

 بالآخراسرائیل نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردے ہی دیا اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کاآڈر بھی جاری کردیا۔اس تہلکہ آمیز موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کاکہناتھا کہ یہودی ریاست کا متحدہ ریاست ہائے امریکہ جیسا کوئی اور دوست نہیں۔ 6 ؍دسمبر 2017بدھ کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم اور عرب دنیا ، عالمی لیڈروں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر نے کا رسمی طور اعلان کیا اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ کو بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایت جاری کردی۔امریکی صدر نے مسلم اور عالمی لیڈروں کی اس حوالے سے کڑی تنقید کو یکسر نظر انداز کر دیا ۔عالمی لیڈروں نے ان کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن وسلامتی پر منفی اثرات مرتب ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی سنگین مضمرات ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب اپنی نشری تقریر میں کہاکہ’’ میں اس کے لیے پرعزم تھا کہ اب یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے اور یہ ایک دُرست اقدام ہے اور یہ تبدیلی امریکا کے مفاد میں ہے‘‘۔واضح رہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے اس وقت تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازعہ شہر قرار دیتے ہیں۔البتہ بعض ممالک کے قونصل خانے بیت المقدس میں قائم ہیں۔ان میں امریکا کا قونصل خانہ بھی شامل ہے۔
دیکھاجائے تویہ امریکاکاایک دیرینہ شرمناک منصوبہ تھا جو اب روبعمل لایا گیا۔ تاریخ کاریکارڈکھنگالا جائے توپتہ چلتاہے کہ امریکا کے 1995 میں منظور کردہ ایک قانون میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کیا جائے گا لیکن ماضی میں امریکی صدور اس قانون پر عمل درآمد کو ہر چھے ماہ بعد موخر کرتے چلے آرہے تھے ، اب ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور وہاں سفارت خانہ منتقل کرنے کے حکم پر دستخط کردئے ہیں ۔ اس ضمن میں محکمہ خارجہ کو ضروری انتظامات کی ہدایت بھی جاری کردی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور اب ٹرمپ نے اپنے اس انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہنا تے ہوئے مسلمانوں کے قبلہ اول کو اسرائیل کادارلحکومت تسلیم کردیا ۔یادرہے اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جب کہ فلسطینی بیت المقدس کومسلمانوں کاقبلہ اول اورمسلمانوں کے بین تاریخی حوالوں سے مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔بیت المقدس کی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں،یہودیوں اورمسلمانوں کے درمیان تنازعے کی اصل جڑ ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنااسرائیل کے1948 ء میں قیام سے لے کر اب تک امر یکہ یہ اقدام کرنے والا پہلا ملک ہے ۔ اس کارروائی سے وہ گویا یہ کہناچاہتاہے کہ بیت المقدس کوئی متنازعہ مقام ہے نہ یہ مسلمانوں کاہے بلکہ اس پر یہودیوں کا حق ہے۔ امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا مطلب اسرائیل کوبیت المقدس پراورالقدس کے اس سارے علاقے کا جائز حاکم تسلیم کرنا ہے۔
 تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسرائیل۔ فلسطین تنازعہ کو ہوا دینے اور اسے موجودہ نہج تک پہنچانے میں سب سے زیادہ منفی اور مکروہ کردار امریکہ نے ادا کیا۔ اس کی جانب دارانہ پالیسیوں کا رُخ ہمیشہ اسرائیل کے حق میں رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو سب سے زیادہ امریکہ نے ہی ویٹو کیا ۔اس طرح فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو دوام بخشا ۔ اس لئے یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ یہ امریکہ ہی ہے جس کی شہ پر اسرائیل نے فلسطین میں اپنے پائوں پھیلائے ، یہودی بستیاں قائم کیں ، ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے حدود ِ قبضہ کو وسعت اختیار دی ۔ اب یہی امریکہ بہادربیت المقدس میں سفارت خانہ منتقل کرکے اس تنازعہ کو ایک نئے اور پیچیدہ موڑپرپہنچاچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکا کی بھرپور حمایت اور معاونت کے بغیر اسرائیل کتنی دور جاسکتا ہے یا کتنی دیر زندہ اور توانا رہ سکتا ہے؟ ساٹھ کے عشرے تک امریکا اور اسرائیل کے تعلقات معمول کے جیسے تھے۔ سترکے عشرے میں امریکا نے اسے سرپرست کی حیثیت سے قبول کیا اور اسی کے عشرے کے ما بعد دونوں میں تعلقات کی نوعیت بدل گئی۔ امریکا نے اسٹریٹجک معاملات میں اسرائیل کے شراکت دار کی حیثیت اختیار کرلی اور تب سے اب تک تعلقات کا تنوع بڑھتا ہی گیا ہے۔اسرائیل اس قدر چھوٹا ملک ہے کہ اپنے طور پر اس کے لیے کچھ زیادہ کرنا ممکن ہی نہیں، بالخصوص سلامتی معاملات کے تعلق سے۔ اگر امریکا اس کی بھرپور معاونت نہ کرتا تو اسرائیل کے لیے خطے میں بہ حیثیت ایک قوم ومملکت قایم رہنا ممکن العمل نہ ہوتا۔ اسرائیل چاہے تو مدد کے لیے دیگر ممالک کی طرف بھی دیکھ سکتا ہے مگر اس کی بھرپور معاونت کے حوالے سے جو کردار امریکا ادا کرسکتا ہے وہ کوئی اور ملک ادا نہیں کرسکتا۔ یہی سبب ہے کہ اسرائیلی قیادت روس یا کسی اور ملک کی طرف دیکھنے سے اب تک گریز ہی کرتی آئی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے درمیان روز اول سے کوئی غیر تحریری معاہدہ لازماً  موجودہے جس کے تحت امریکا ہر معاملے میں اسرائیل کی پیالہ برداری کرتا آیا ہے اور اس نے اسرائیل کو سیاسی، سفارتی، عسکری اور اسٹریٹجک حمایت و امداد کے حوالے سے کبھی’’ ناں‘‘ نہ کہی۔ بدلے میں اسرائیل ہر معاملے میں امریکا سے مشاورت کو لازم جانتا چلاآیا ہے۔ وہ کوئی بھی عسکری یا سفارتی قدم اٹھانے سے پہلے امریکا سے پوچھنا اور امر یکی مفادات کے حوالے سے احتیاط برتنا اپنا  چھٹا کلمہ مانتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ دونوں کے تعلقات میں گرم جوشی برقرار رہی ہے۔ 1968ء میں عرب دنیا سے جنگ شروع کرنے سے قبل اسرائیل نے امریکی قیادت سے مشاورت کی تھی۔ تب دونوں ممالک کے تعلقات بہت زیادہ گرم جوشی پر مبنی نہیں تھے، تاہم اسرائیل نے امریکا کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر لنڈن جی جانسن نے اسرائیل پر واضح کردیا تھا کہ وہ آبنائے طیران کو کھلوانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ مصر نے اس آبنائے کو اسرائیلی تجارتی جہازوں کے لیے بند کردیا تھا۔ 1973ء میں ایک مرحلے پر اسرائیل نے مصر اور شام پر حفظ ما تقدم  کے طور حملے کی ٹھان لی تھی مگر آخری لمحات میں یہ فیصلہ بدلنا پڑا کیونکہ امریکا نے گرین سگنل نہیں دیا ۔ اسرائیل نے 1982ء میں لبنان پر حملے سے قبل بھی امریکا سے مشاورت کی اور کم و بیش ایک سال تک امریکا کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ معاملہ چھوٹے پیمانے کے آوپریشن تک محدود رہے گا، مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔ 1991ء میں عراق کی طرف سے میزائل حملوں کے باوجود اسرائیلی فوج کوئی کارروائی سے محترز تھی کہ امریکا نے اسے ایسا کرنے سے روکا تھا۔  2006ء میں امریکا نے اسرائیل کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف عسکری کارروائی کے دوران سویلین انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچانے سے باز رہے گاجسے تل ابیب کو ماننا پڑا۔
یہ ایک بین حقیقت ہے کہ برطانوی سامراج نے اسرائیل کی ناجائزریاست کاقیام عمل میں لایاجب کہ امریکہ نے اس کی مکمل پرورش کی ۔اب دونوںامریکہ اوراسرائیل اَٹوٹ بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔یہ بات امریکی صدورکے وردِزبان رہی کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا رابطہ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر، خاندان کے مراسم کی طرح ہے، اور ہم اس یہودی ریاست کو اپنا سب سے اہم ترین اتحادی تسلیم کرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے یہ کہتے ہوئے ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ وسیع تر فوجی تعاون اورعسکری امداد یہ کہہ کرجاری رکھی :’’ ہم چاہتے ہیں کہ یہ بات یقینی بنائیں کہ اسرائیل کو پوری صلاحیت میسر ہو جو اسرائیلی عوام کو محفوظ بنانے کے لیے درکار ہے‘‘۔اسرائیل کی سلامتی کے حوالے سے امریکا کے کردار اور اہمیت کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیل کو جب بھی خطرناک چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے ،تب امریکا ہی اس کے لیے سب سے پہلا مددگار ملک ہوتا ہے جس کی طرف وہ اپنی سلامتی یقینی بنانے کے لیے دیکھتا رہتاہے۔ ہر مشکل گھڑی میں اسرائیل نے امریکا ہی کو آواز دی اور واشنگٹن ہی نے اس کی بھرپور مدد بھی کی۔ فلسطینیوں کو روندتے ہوئے اسرائیل کی پرورش کابیڑہ اٹھائے رکھنا اور یہودی مملکت کی سلامتی یقینی بنانے سے کے تعلق سے ہر فورم میں امریکا ہی مرکزی کردار ادا کرتا چلا آیا ہے۔ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کے عوض امریکا نے اسرائیل سے جو کچھ حاصل کیا ، وہ بھی کچھ کم نہیں اور خاص طور پر اسرائیل کی خودمختاری میں رونما ہونے والی کمی کے حوالے سے اس قیمت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ امریکا پر اسرائیل کا انحصار اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب ذہنوں میں اس سوال کا ابھرنا لازم ہے کہ امریکا کی مدد کے بغیر اسرائیل برقرار بھی رہ سکے گا یا نہیں۔
امریکا نے اسرائیل کو 1949ء میں اس کے قیام سے اب تک مجموعی طور پر عسکری اور اقتصادی امداد کی مد میں125 ؍ارب ڈالر دئے ہیں۔ امریکا نے اسرائیل کو دس سالہ معاہدے کے تحت تک مزید امداد دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس معاہدے کے اختتام پر اسرائیل کے لیے امریکا کی مجموعی امداد کم و بیش180 ؍ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے زمانے میں امریکا سے سب سے زیادہ امداد وصول کرنے والا اسرائیل ہی ہے۔ اسرائیل کے لیے اسلحے کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ صرف امریکا ہے۔ اسلحہ تیار کرنے اور بیچنے والے دیگر ممالک فرانس، برطانیہ، روس اور چین میں سے کوئی بھی امریکا کی جگہ نہیں لے سکتا۔چند برسوں کے دوران امریکی امداد اسرائیل کے بجٹ کا تین فیصد اور قومی آمدن کا ایک فیصد رہا ہے۔ان اعدادوشمارکے پیش نظرکوئی دوسراملک فنڈنگ اور اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے اسرائیل کے لیے وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جو امریکا کو حاصل ہے۔ امریکا ریاستی عہد وپیمان کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کو ہرحال میں یقینی بنائے اور اسرائیل کے لیے ایسے مہلک ہتھیاروں کا بندوبست کرے جوبقول امریکہ کے اسے تمام دشمنوں، ان کے اتحاد یا غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کو ناکارہ بنانے کے لیے انتہائی کافی ہو اور اسلحے کے معیار کے حوالے سے اسرائیل کی برتری برقرار رہے تاکہ اس کا اپنا جانی و مالی نقصان کم سے کم ہو۔ یوںسلامتی کی آڑمیں اور حق ِدوام کے نام پر اسرائیل کی ہرممکن امدادکی ذمہ داری مکمل طور پر امریکا نے اپنے سر لے رکھی ہے۔ اگر مستقبل میں کبھی خطے کے ممالک کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ سر ُاٹھاتا ہے ، تب اسرائیل کے وجود کے لیے کوئی حقیقی خطرہ نمودار ہوگا، البتہ اسرائیل کو امریکی حمایت ومدافعت پربھرپوراعتمادہے ۔بالفاظ دیگرصیہونی ریاست امریکی سرپرستی کے باعث شانت ہے۔
اسرائیل کاسفارتی امور میں امریکا پر اس کا انحصار انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس نے اسرائیل کو عالمی اور علاقائی تنظیموں میں قبولیت دلانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یورپ میں تعاون کی تنظیم اور دیگر ورکنگ گروپس میں اسرائیل کے لیے قبولیت پیدا کرنے میں امریکا کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔سفارتی سطح پر بھی جوکردار اسرائیل کے لیے امریکا ادا کرتا آیا ہے، وہ انسانیت اور جمہوریت کے لئے ایک بھیانک داستان ہے۔ ہر بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کی جارحیت اور جنگ جنونی کو امریکا کی بھرپور حمایت حاصل رہتی ہے۔ آج تک امریکا نے بہت سے بین الاقوامی اداروں میں اسرائیل کو امن عمل، عسکری اور سفارتی اقدامات اور جوہری پروگرام کے حوالے سے قراردادوں اور اقدامات سے بچانے میں شیطانی کردار ادا کیا ۔ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کو’’ویٹو پاور ‘‘کے ذریعے مختلف قراردادوں اور پابندیوں سے جس قدر بچایا ہے اتنا کسی بھی بڑی طاقت نے کسی اور ملک کو نہیں بچایا ہوگا۔ امریکا نے کبھی کبھی اسرائیل کو ایسی پالیسیوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیوں سے بچایا ہے، جن سے خود اسے بھی اتفاق نہیں تھا۔ 1952ء سے 2011ء تک امریکا نے اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی  20قراردادوں کو ویٹو کیا۔ بہرصورت مشرق وسطیٰ میں امن کے معاملے میں اسرائیل کو اس کی مرضی کی صورتحال پیدا کرکے دینے کے حوالے سے جو کردار امریکا نے اسرائیل کے لیے ادا کیا ہے ،وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کی مرضی اور بالادستی کے عین مطابق ا’’من معاہدہ‘‘ قبول ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے تو یہودیوں کی جائز ریاست کے طور پر قبول کرلیا جائے مگر وہ فلسطینیوں کو ریاست کے قیام کا حق نہیں دینا چاہتا۔ اس معاملے میں امریکا اب تک اس کا کھل کر ساتھ دیتا آیا ہے۔ امریکا نے اسرائیل کی خواہش کے مطابق اس بات کا بھی اہتمام کیا ہے کہ فلسطینی اپنی سرزمین پر واپسی کے حق سے بھی محروم رہیں۔امریکا اصولی طور پر تو اس بات کا حامی ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ میں ان تمام عرب علاقوں اور عرب زمینوں پر اسرائیل نے یہودیوں کی جو بستیاں بسائی ہیں، وہ اسرائیل کا حصہ ہوجائیں۔علاقائی سطح پر اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے میں بھی امریکا پیش پیش رہا ہے۔ اس نے اردن اور مصر سے سفارتی اور دیگر روابط کے قیام میں اسرائیل کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ خلیجی ممالک اور شمالی افریقا کے خطے میں بھی اسرائیل کے لیے راہ ہموار کرنے میں امریکی قیادت پیچھے نہیں رہی۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنایا جائے اور اس کے حوالے سے پائی جانے والی مخاصمت کا گراف نیچے لایا جائے۔ اسی حوالے سے امریکا نے مصر اور اردن میں کوالیفائنگ انڈسٹریل زون کے قیام کی راہ ہموار کی۔ نتیجہ یہ کہ اسرائیل کے لیے ان دونوں ممالک سے بہتر معاشی روابط قائم رکھنا ممکن ہوسکا۔اسرائیل کی معیشت کومستحکم بنانے میں امریکا آج بھی اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس پس منظرمیںتقریبا تمام ہی معاملات میں امریکا کی طرف دیکھنا اسرائیل کی مجبوری رہا ہے۔