الغوطہ کا علاقہ کئی روز سے میزائلوں اور بم حملوں کی زد میں

بیروت//ترکی کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال مغربی عفرین علاقے میں شامی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز پر حملہ کیا جس میں کم از کم 36 افراد ہلاک ہو گئے ۔سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ یہ حملہ کل کیا گیا۔کردش وائی پی جی ملیشیا کی حمایت میں شامی فورسز گزشتہ ہفتے عفرین علاقے میں داخل ہوئی تھی۔ ترکی اور اس کے حامی شامی باغی جنگجوؤں نے جنوری سے ہی اس علاقے میں مہم چلا رکھی ہے ۔آبزرویٹری کے مطابق ترکی کے فضائی حملے نے کافر جینا کیمپ کو اپنا نشانہ بنایا۔ ترکی طیاروں نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تیسری بار عفرین میں حکومت کی حمایت یافتہ سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ ان کے ملک کی فوج نے  جنگجوئوں سے راجو شہر کو آزاد کرا لیا ہے ۔آبزرویٹری نے کہا کہ ترکی فوج کا عفرین شہر کے قریب 25 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع راجو شہر کے تقریبا 70 فیصد حصے پر کنٹرول ہو چکا ہے ۔ترکی وائی پی جی کو کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کی توسیع کے طور پر دیکھتا ہے ۔ یہ تنظیم ترکی میں تین دہائی تک دہشت گردی کی جنگ میں شامل رہی ہے اور امریکہ، یوروپی یونین اور ترکی نے اسے جنگجو تنظیم قرار دے رکھا ہے ۔  اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ میں وائی پی جی امریکہ کا اہم اتحادی رہا ہے ۔ دریں اثناء شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں الغوطہ الشرقیہ کا علاقہ کئی روز سے میزائل اور حملوں کی زد میں ہے۔ دوسری جانب فرانس اور اقوام متحدہ ایک مرتبہ پھر اْس جنگ بندی کو ممکن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو شامی حکومت کی طرف سے برباد کر دی گئی۔شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے ہفتے کے روز بتایا کہ شامی حکومت کی فوج نے الغوطہ الشرقیہ کے 10% حصّے کا کنٹرول واپس لے لیا ہے۔ یہ پیش رفت کئی روز سے جاری زمینی لڑائی کے بعد سامنے آئی ہے۔سیاسی جانب فرانسیسی صدر عمانوئل ماکروں اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گویٹرس نے الغوطہ کی صورت حال پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔ پیرس میں ایلیزے پیلس کے مطابق اقوام متحدہ ابھی تک دمشق کے قریب اس محصور علاقے میں امداد پہنچانے پر قادر نہیں۔صدارتی محل کے بیان کے مطابق ماکروں اور گویٹرس نے ایک بار پھر شامی حکومت اور اس کے حلیفوں پر زور دیا ہے کہ وہ قرارداد 2401 (جو شام میں فائربندی کا تقاضہ کرتی ہے) پر بالخصوص انسانی امدادات کے پہنچنے سے متعلق امر پر عمل درامد کو یقینی بنائیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی قافلے کے ذریعے اب محصور آبادی کے لیے ضروری طبی اور غذائی امداد پہنچانے دینا چاہیے۔