الطاف نیازؔ

کہکشان ادب کی وادی حاجن کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔اس وادی میں سر سبزگل کھل چکے ہیں جن کا نام تاریخ سنہری لفظوں سے رقم کرچکی ہے۔ ان ناموں میں نامور وہاب پرے، فردوسی حاجنی ،اسد پرے حاجنی،مولانا صدیق اللہ ،پروفیسر محی الدین حاجنی اور اس کاروان میں شامل مختلف زندہ و جاوید اشخاص جو ادب کی اس زرخیز وادی کے گل رنگ ہیں اور ہر دن نئی آب و تاب کے ساتھ نہ صرف نکھر رہے ہیں بلکہ صفحہ قرطاس پر بکھر رہے ہیں اور ساتھ ہی نوجوان نسل کے ادبا ء و قلمکاروں کی جوپود تیار ہورہی ہے وہ تاریخ کے برسائے تھپیڑوں کا خوبصورت جواب بھی ہے اور جواز بھی۔ اقبال کی زبان میں یوں کہ 
 نہیں اقبال نا امید اپنی کشت ویران سے
 ذرا نم ہوتو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
 مرحوم پروفیسر الطاف نیاز فارسی مضمون میں ڈاکٹریٹ تھے اور پیشے سے محکمہ اعلیٰ تعلیم میں پروفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ قصبہ حاجن کے فرزند تھے۔ جوانی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اس طرح سے موصوف ہم سے جدا ہو گئے۔تخلیقی ادب کے میدان میں انہوں نے ایک اچھا خاصا نام حاصل کیا تھا ۔کشمیری زبان میں شاعر کی حیثیت سے معروف ہوئے۔ ان کی اکثر غزلیں ریڈیو کشمیر سرینگر سے تغزل میں سنی جاسکتی ہیں خاص کر’’یی￿مہِ شہر￿ چُھ نیرُن از نہ￿ پگاہ دامانہ￿ دِنِتھ‘‘۔
موصوف کی غزلوں اور نظموں پر مبنی ایک شعری مجموعہ ’’لگی واو گلن ہاوس ‘‘ان کی وفات کے بعد منظر عام پر آیا جس میں ان کا تمام کلام موجود ہے ۔ اس مجموعہ کلام کے مطالعے کے دوران شاعر کے یہاں روایتی قایم شدہ انسانی قدروں کی پامالی اور ان کے کھوجانے کا شدید اظہار غم نظر آتا ہے۔ ان کے مجموعے میں اکثر ایسی غزلیں اور نظمیں نظر آتی ہیں جن میں قدروں کی زوال پذیری ،احساس تنہائی ،وجودیت ،فلسفہ وجود کی گونج ،بوریت ،تنہائی،اجنبیت،خود کی ذات کو سمیٹنے کا عمل،ذات کی لایعنیت،انسان کے ہونے اور نہ ہونے کے درمیان کی معلق پذیری جیسے مسائل کو ایک مکمل موضوع کی بنیاد پر دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے موصوف جدید حسیت کے شاعر قرار پاتے ہیں۔
 جدیدیت کے کم وبیش جتنے بھی موضوعات ادب میں ملتے ہیں، ان میں سے اکثر انکے کلام میں دیکھے جاسکتے ہیں۔جدید یا جدیدیت کے تحت تخلیق ادب کے مثبت اور منفی دونوں پہلو شامل ہیں۔ اس حوالے سے الطاف نیاز کے یہاں بھی دونوں پہلو موجود ہیں ۔منفی پہلو اور مثبت دونوں موضوعات کے تحت نظر آتے ہیںنیز تکنیک اور اسلوب کے آئینے میں اکثر انسانی المیہ کی بربادی کا نوحہ شاعر گلاب ،گل وبلبل،چاند تاروں ،ندی نالوں،قبور،آسمان،پھول،قوس قزا، اور دریا وغیرہ جیسی علامات پیدا کر کے انہی سے اپنا اظہار افسوس بیان کرتے ہیں۔چند اشعار بطور نمونہ کلام پیش خدمت ہیں؛
یی￿مہ شہر￿ چُھ نیرُن از نہ￿ پگاہ دامانہ￿ دِنِتھ
 یِنہ￿ پو￿ت آلو  دِکھ پاسِ  خدا،دامانہ￿ دِنتھ
 یَتھ ما￿دانس لو￿گ گردِ اتھن من￿ز میون کُن￿ر
 ہُتھ اسمانس پھو￿ل قوسِ قزا،دامانہ￿ د￿نِتھ
 می￿ہ تہِ ل￿کہ￿ چارس یتھ موڈس پ￿ٹھ وُچھ زوٗن گندان
 ژ￿ تہِ واپس پھیر￿کھ تن تنہا، دامانہ￿ د￿نتھ
 زن￿د￿ پانہ￿ قبر ک￿ڈ چانہِ م￿کھے کم خاب ر￿چھِم
 پتہ￿ واو￿ گل￿ن ل￿گ￿ میا￿ن￿ طماہ، دامانہ￿ د￿نتھ
 الطاف نیاز کی غزلوں کا ایک وصف باقی شعرا ء سے یوں منفرد ہے کہ وہ روایتی اقدار کے کھونے کا گلہ نرم اور سادہ لہجے میں کرتا ہے اور قاری مطالعے کے دوران اس کا ذمہ دار خود کو بھی ،شاعر کو اور ہر فرد کو قرار دیتا ہے لیکن اس عمل کے دوران قاری لمبی آہیں بھرتا ہوا اپنے ماضی کے عزیز ترین دریچے وا کرتا ہوا خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں چلاجاتا ہے اور پورے شہر کے ارد گرد تخیل کی سیر کرکے جب واپس لوٹتا ہے تو الطاف نیاز کے بیان کو برحق تسلیم کرکے ہی دم لیتا ہے اور ان کی غزل زیر لب مسکراتے ہونٹوں تلے گنگناتا ہوا آگے کی طرف اپنا سفر رواں رکھتا ہے۔ملاحظ کریں یہ اشعار جن میں شاعر اپنے شہر کا گزرا کل بیان کرتے ہیں؛
 تی￿لہِ ا￿س￿ تہ￿ مُشکِن￿ دار پھ￿لان یتھ شہرس
 یی￿لہِ اوس مے￿ آد￿ن￿ یار بسان یتھ شہرس من￿ز
 کو￿ستوٗر پی￿نجن پ￿ٹھ ا￿س￿ تہِ ب￿ہان بَے دربارس
 زُنہ￿ را￿ژن تی￿لہِ اوس ما￿لہ￿ لگان یتھ شہرس من￿ز
 وَتھ ا￿س￿ کڈان تی￿لہِ یار￿ بلس تامتھ س￿ندرن
 پتھ کالہِ زِ یی￿لہِ اوس شیٖن پ￿وان یتھ شہرس من￿ز
موصوف کی تخلیقی اپچ فطری اور اسم بامسمیٰ ہے۔ یہ جیسے بولتے تھے ویسے ہی لکھتے تھے۔ ایسے کم ہی شاعر ملتے ہیں جو بولنے اور لکھنے کے دوران یکسان اسلوب سے گزرتے ہوں ۔عام بول چال کی زبان میں جو اظہار و بیان ان کے یہاں ملتا تھا وہی رویہ انکی تحریر میں ملتا ہے۔ اس طرح سے ان کے تخیل ،مشاہدے ،تجربے کا عمل واقعی فطری معلوم ہوتا ہے۔
الطاف نیاز نے غزلوں کے علاوہ نعتیہ کلام بھی لکھا ہے اور نظمیں بھی ضبط تحریر میں لائی ہیں۔ انکی نظموں میں چند ایک ضرورت کے مطابق تخلیق کی گئی ہیں ۔کسی فنکشن ،کسی واقعے،کسی مشاہدے کی بنیاد پر تحریر کی گئی ہیں ۔ اکثر نظمیں فن کا بہترین نمونہ پیش کرتی ہیں ۔ فنی اور تکنیکی لحاظ سے بھی کچھ نظمیں قابل داد ہیں ۔نظم ’’اکھ خواب ‘‘ اور ’’اکھ خط ‘‘ اس زمرے میں رکھی جاسکتی ہیں ۔ نظم ’’سیاہ شب ‘‘ میں شاعر نے جدید انسان کے ان اوہام اور خدشات پر بات کی ہے جن سے ایک جدید انسان شب و سحر جو جھتا رہتا ہے ۔ بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہونگے کہ الطاف نیاز نے نوا کدل زنانہ کالج کے لیے ترانہ لکھا ہے اور بارہمولہ زنانہ کالج کا ترانہ بھی انہی کی تخلیق ہے ۔آج بھی دونوں کالجوں میں یہ ترانے نشر کیے جاتے ہیں ۔ نواکدل زنانہ کالج کے ترانے میں انہوں نے اس کالج کو ایک سینٹرل پلیس قرار دیا ہے جس میں وادی کے اطراف و اکناف سے آنے والی لڑکیاں تعلیم کے نور سے منور ہوجاتی ہیں اور گویا ان کے لیے یہ کالج میکے کی سے حیثیت رکھتا ہے ۔ملاحظہ کریں ترانے کا پہلا بند:
یہِ چُھ آر￿ وَلن ہُن￿د باد سحر
یہِ چُھ کا￿شر￿ ک￿ر￿ن مالی￿ن￿ بر
یتھ گُل ب￿ستی کم مُشک عنبر
یہِ چُھ کا￿شر￿ ک￿ر￿ن مالی￿ن￿ بر
مختصر طور پر کہاجاسکتا ہے کہ موصوف کشمیر ی زبان کا ایک نمائندہ شاعر رہا ہے جس کی تخلیقی پر وازیں اپنے آپ میںا یک کارہائے نمایاں تھیں اور جدید ادب میں ایک امتیاز کا وصف تھا جو قبل از وقت اپنے قارئین سے جدا ہوگیا ۔اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔آمین 
ای میل۔[email protected]