اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس

نیویارک//اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کرتے ہوئے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین سے فوری طور پر اپنی افواج واپس بلا لے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں دو دن تک زبردست بحث ہوئی جس میں یوکرین کے سفیر نے روس پر نسل کشی کا الزام عائد کیا۔جنرل اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کے حق میں 193 میں سے 141 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ چین سمیت 35 اراکین نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔مذکورہ قرارداد کے خلاف روس کے ساتھ ساتھ شام، شمالی کوریا، اریٹیریا اور بیلاروس نے ووٹ دیا۔قرارداد میں یوکرین پر حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے جوہری افواج کو الرٹ رکھنے کے فیصلے کی بھی مذمت کی گئی۔ووٹنگ سے قبل یوکرین کے سفیر سرگئی کیسلیٹس نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ روس یوکرین کو اس کے وجود کے حق سے محروم کرنے آیا ہے، یہ پہلے ہی واضح ہو چکا ہے کہ روس کا مقصد صرف قبضہ نہیں بلکہ یہ نسل کشی ہے۔خیال رہے کہ روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے 24 فروری کو یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کیا تھا اور روس نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کے تحت اس کارروائی کو روس کا حق قرار دیا تھا۔لیکن مغربی ممالک نے اس کارروائی کو یکسر مسترد کر دیا ہے جو ماسکو پر چارٹر کے آرٹیکل 2 کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں جہاں مذکورہ آرٹیکل کے تحت اقوام متحدہ کے اراکین سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ بحران حل کرنے کے لیے دھمکی یا طاقت کے استعمال سے باز رہیں۔یورپی ممالک کی قیادت میں یوکرین کے ساتھ مل کر قرارداد کے متن میں حالیہ دنوں میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں۔اس قرارداد میں توقعات کے برعکس یوکرین پر روسی حملے کی مذمت کے بجائے روسی فیڈریشن کی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔قرارداد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اقوام متحدہ پیوٹن کے اپنی جوہری افواج کو الرٹ رکھنے کے فیصلے کی مذمت کرتی ہے۔جنرل اسمبلی کے تقریباً ہر اسپیکر نے جنگ اور فوجی کشیدگی کی مذمت کی۔امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ اگر اقوام متحدہ کا کوئی مقصد ہے تو وہ یہ ہے کہ اس جنگ کو روکا جائے۔انہوں نے روس پر الزام لگایا کہ وہ اپنی مہم میں بربریت میں اضافے کی کوشش کررہا ہے، ہم نے روسی افواج کی غیر معمولی مہلک ہتھیاروں کو یوکرین منتقل کرنے کی ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں کلسٹر گولہ بارود اور ویکیوم بم شامل ہیں جن پر جنیوا کنونشن کے تحت پابندی ہے۔اجلاس کے دوران امریکا نے اقوام متحدہ میں کام کرنے والے روسی باشندوں کو نشانہ بناتے ہوئے ان پر جاسوسی کے الزامات لگائے اور ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
 

روس کا یوکرین کے اہم شہر خرسون پر قبضہ

کیف //روسی فوجیوں نے ایک ہفتے کی تباہ کن جنگ کے بعد بڑے یوکرینی شہر خرسون پر قبضہ کر لیا۔یوکرین کے علاقائی عہدیدار نے اعتراف کیا کہ روسی قابض خرسون شہر کے تمام حصوں میں موجود تھے۔خرسون میں تین روز سے جاری محاصرے کے بعد خوراک اور ادویات کی کمی تھی اور لاشوں کو جمع کرنے اور دفن کرنے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا تھا، شہر کے میئر نے بتایا تھا کہ وہ وہ مسلح مہمانوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔اپنے ایک فیس بک پیغام میں شہر کے میئر کا کہنا تھا کہ انہوں نے حملہ آور قوتوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا، لیکن رات کے وقت کرفیو اور گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندیوں سے اتفاق کیا ہے، اب تک سب ٹھیک ہے، ہمارے اوپر جو جھنڈا لہرا رہا ہے وہ یوکرین کا ہے۔ اور اسی طرح رہنے کے لیے ان تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔دوسرے مقام پر رکے ہوئے روس نے جنوبی محاذ پر اہم پیش رفت جاری رکھی ہوئی ہے، فوجوں کے خرسون میں داخل ہونے کے ساتھ مغرب اور شمال کا راستہ کھول رہا ہے اور اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل اہم بندرگاہی شہر ماریوپول کا محاصرہ کر رہا ہے۔ دوسری جانب میئر وادیم بویچینکو نے کئی گھنٹوں تک بمباری جاری رہنے کی اطلاع دی، جس نے شہریوں کو بجلی، پانی اور جمادینے والی سردی میں حرارتی نظام کے بغیر رہنے پر مجبور کردیا ہے۔
 
 

۔498 روسی فوجی ہلاک 

۔60یوکرینی طیارے تباہ:روس 

 ماسکو/روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری اعداد وشمار میں یوکرین کے 60طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان روسی وزارت دفاع کے ایگور کوناشینکوف کے مطابق یوکرین کے 484ٹینک اور47ڈرون سمیت دیگردفاعی ہتھیار تباہ کردئیے گئے۔ مجموعی طورپریوکرین کے 1533 اثاثے تباہ کردئیے گئے ہیں۔روس نے یوکرین جنگ میں اپنے 498 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔روس کی سرکاری نیوز ایجنسی RIA نے وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین پر حملے کے دوران روس کے 498 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 1597زخمی ہوئے ہیں۔