اقلیتی طالبات کے لئے سکالرشپ سکیمیں

داخلوں کے بعد ہمارے طلبہ کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ فیس اور دیگر تعلیمی اخراجات کا ہوتا ہے۔ معاشی طور پر پسماندہ لیکن ذہین اور اچھے نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے حکومت اور نجی ادارے کئی سکالر شپ (وظائف) تقسیم کرتے ہیں ۔ موجودہ وقت میں ان کی درخواست کا طریقہ کار بھی آسان ہے۔ لیکن لاپرواہی اور تساہلی کی بناء پرہمارے کئی طلبہ حقدار ہوتے ہوئے بھی اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس بات سے بھی انکار نہیں ہے کہ حکومت کی پالیسیوں بھی بعض اوقات اثر انداز ہوتی ہیںلیکن ہمارے طلبہ کو یاد رکھنا ہوگا کہ ایک سال سکالرشپ نہ ملنے سے بد دل ہوکر اگر آئندہ ہم نے درخواست نہیں دی تو مذکورہ سکیموں کی رقم لوٹا دی جاتی ہے اور آئندہ کے لیے اس کے کوٹے میں بھی کمی ہوجاتی ہے۔ اس لیے بالخصوص ابتدائی و ثانوی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کو اس ضمن میں ذاتی دلچسپی لے کر اقدامات کرنے چاہئیں۔ 
مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن (وزارت برائے اقلیتی امور) 
بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ  
(نہم تا بارہویں جماعت میں زیر تعلیم طالبات کے لیے )
http://bhmnsmaef.org/maefwebsite/     (آخری تاریخ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۰؁ء )
 وزراتِ اقلیتی امور، حکومت ہند کے تحت ’’جماعت نہم تا بارہویں کی طالبات ‘‘ کو یہ سکالرشپ دی جاتی ہے۔ نہم اور دہم کی طالبات کو سالانہ یکمشت پانچ ہزار روپئے اور گیارہویں بارہویں کی طالبات کو سالانہ یکمشت چھ ہزار روپئے اسکالرشپ دی جاتی ہے۔ امیدوار طالبہ کا گذشتہ جماعت میں ۵۰ فیصد یا اس سے زائد مارکس ہونا چاہیے اور خاندان کی کل آمدنی دو لاکھ روپئے سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ درخواست فارم صرف آن لائن بھرنا ہے ہارڈ کاپی بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فائونڈیشن کی ویب سائٹ  www.maef.nic.in پر دی گی لنک کے ذریعے یا پھر براہِ راست http://bhmnsmaef.org/maefwebsite/  اس لنک پر New Registrationکے تحت پہلے   مکمل فارم بھرنا ہے۔ فارم Submitہونے پر ’’سکول ویری فکیشن فارم (School Verification Form)‘‘ پرنٹ کرکے طالبات اس پر اپنا فوٹو چسپاں کریں اور سکول کے ہیڈس سے تصدیق کروائیں۔ سکول کے ہیڈ کی تصدیق، آمدنی کا ثبوت (ہندی یا انگریزی میں) ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنا لازمی ہے۔ اسی طرح آمدنی کے ثبوت کے طور پر متعلقہ حکام یا پھر پردھان، سرپنچ، میونسپل بورڈ، کائونسلر/کارپوریٹر، ایم ایل اے، ایم پی یا کسی بھی گزیٹیڈ آفیسر کا دستخط شدہ ہندی یا انگریزی میں انکم سرٹیفکیٹ بنوا لیں۔ فارم بھرتے وقت تمام دستاویزات کو اپلوڈ کرنا ہے۔ اگر انکم سرٹیفکیٹ ہندی یا انگریزی کے علاوہ کسی اور زبان میں ہے تو اسے ہندی یا انگریزی میں ترجمہ کرکے نوٹری کروالیں۔ فارم بھرتے وقت سکول کا DISE Code   درکار ہوگا جو سکول سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سکول کے ذمہ داران سے بھی درخواست ہے کہ ویب سائٹ پر ان کے ادارے کا DISE کوڈ درست ہے یا نہیں اس کی جانچ کرلیں۔ ایک گھر کی دو سے زیادہ طالبات کو سکالرشپ نہیں دی جائے گی۔ ایک سے زائد فارم بھرنے کی صورت میں درخواست ریجیکٹ کردی جائے گی۔ سکالر شپ کی رقم براہ راست طالبات کے بینک اکائونٹ میںمنتقل کی جائے گی۔
درکار دستاویزات 
٭طالبات کی گذشتہ جماعت کی مارکس شیٹ ٭ بینک اکائونٹ کی تفصیل ٭انکم سرٹیفکیٹ (آمدنی کا تصدیق نامہ) ٭آدھار کارڈ ٭اقلیتی طبقہ کا ثبوت ٭اسکول ویری فکیشن فارم
اسکالرشپ کے لیے درخواست دیتے وقت یاد رکھیں 
٭  تمام اسالر شپ کی درخواست صرف آن لائن ہی دینا ہے۔ ٭ درخواست دینے سے پہلے ویب سائٹ پر دی گئی گائیڈ لائنس کو بغور پڑھ لیں۔ ٭ آن لائن طریقے پر مختلف دستاویزات، فوٹو ووغیرہ کو اپلوڈ کرنا ہوتا ہے انھیں پہلے سے تیار رکھیں۔ ٭ تمام سکالرشپ کی رقومات طلبہ کو براہِ راست اکائونٹ میں ٹرانسفر کی جاتی ہے۔ اس لیے فارم بھرنے سے قبل کسی بھی نیشنلائزڈ بینک میں اکائونٹ کھول لیں۔ ٭موبائیل نمبر اور ای میل آئی ڈی خود کا استعمال کریں۔ ٭آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں وقت سے فارم پہلے بھردیں۔ 
تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے درخواست 
ہمارے بہت سے تعلیمی اداروں میں سکالرشپ کی ذمہ داری اساتذہ کو تفویض کی جاتی ہے۔ کئی اداروں میں یہ کام بحسن و خوبی جاری ہے لیکن اب بھی ہمارے کئی ادارے اس ضمن میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہے ۔ بہت سے افراد کی یہ شکایت ہے رہتی ہے کہ فارم بھرنے کے باوجود اسکالرشپ نہیں مل رہی، کچھ حد تک یہ بات درسٹ بھی ہے لیکن حکومت کی بھی اس میں محدودات ہیں۔ ہماری کوشش زیادہ سے زیادہ مستحق طلبہ کے فارم بھرنا ہونا چاہیے تاکہ آئندہ سکالر شپ کے کوٹے میں اضافہ ممکن ہوسکے۔ گذشتہ برسوں کے مقابلے میں درخواست کا مرحلہ انتہائی آسان ہوگیا ہے تھوڑی سی محنت سے ہم اپنے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ 
دیگر سکالرشپ سکیمیں جس میں تیس فیصد سکالرشپ طالبات کے لیے مختص ہیں۔
نیشنل سکالر شپ پورٹل  (National Scholarship Portal) 
موجودہ حکومت نے گذشتہ برسوں میں اقلیتی طلبہ(مسلم، سکھ، عیسائی، بدھسٹ، جین، پارسی)کے لیے مختلف سکالر شپ سکیموں کو الگ الگ ویب سائٹ سے یکجا کرکے ایک ہی نیشنل پورٹل کے ذریعے درخواست دینے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس پورٹل (ویب سائٹ)  www.scholarships.gov.in  پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف سکالرشپ سکیموںکے لیے درخواست دی جاسکتی ہے۔ 
مرکزی حکومت کے تحت مختلف سکالرشپ سکیمیں
مرکزی حکومت کے تحت ملک میں اقلیتوں کو تعلیمی وظائف کے لیے مختلف سطح پر سکالر شپ سکیموں کا اعلان کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں۔ 
درخواست دینے کا ابتدائی مرحلہ کسی بھی سکالرشپ کی درخواست دینے کے لیے سب سے پہلے اس پورٹل پر طالب علم کو اپنا رجسٹریشن کرانا لازمی ہے۔ رجسٹریشن کے لیے طلبہ کے تعلیمی دستاویزات، بینک اکائونٹ کی تفصیل، آدھار نمبر، اسکول بونافائیڈ، تاریخ پیدائش کا ثبوت، موبائیل نمبر(پری میٹرک کے لیے والدین کا) وغیرہ لازمی ہیں۔ سب سے پہلے طلبہ کو New Registration  لنک کے ذریعے اپنا رجسٹریشن کرانا ہوگا۔ طلبہ کو ان کے موبائیل نمبر پر ایک ’’ون ٹائم پاسورڈOTP‘‘ دیا جائے گا۔ ایک موبائیل نمبر صرف ایک طالب علم کے لیے ہی قابل قبول ہے۔ پری میٹرک سکالرشپ(پہلے تا دہم جماعت) کے طلبہ کے لیے والدین کا موبائیل نمبر قابل قبول ہوگا جو زیادہ سے زیادہ دو بچوں کے رجسٹریشن کے لیے قبول کیا جائے گا۔
٭  پری میٹرک سکالر شپ  (آخری تاریخ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۰؁ء )  :  پہلی سے دسویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ طالبات اس سکیم کے تحت درخواست دے سکتے ہیں۔ گذشتہ جماعت میں ۵۰ فیصد یا اس سے زائد مارکس اور خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپئے سے کم ہونا اس کی بنیادی شرط ہے۔ کسی بھی نیشنلائزڈ بینک میں اکائونٹ ہونا لازمی ہے۔ درخواست صرف آن لائن ذریعے سے ہی دی جاسکتی ہے۔ ہاسٹل اور ڈے اسکالر کو سکیم کی شرائط کے مطابق اسکالرشپ براہِ راست ان کے بینک اکائونٹ میں جمع کی جائیگی۔ ۳۰ فیصد اسکالر شپ طالبات کے لیے مختص ہیں۔ 
٭  پوسٹ میٹرک سکالر شپ  (آخری تاریخ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۰؁ء )  :  میٹرک (دسویں) کے بعد کے ہائیر سیکنڈری، کالج اور یونیورسٹی کے ایسے کورسز جن کا دورانیہ کم از کم ایک سال ہو ، اس کے علاوہ گیارہویں اور بارہویں کی سطح کے پالی ٹیکنیک، آئی ٹی آئی کے کورسیس میں زیرِ تعلیم طلبہ بھی اس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ گذشتہ جماعت میں ۵۰ فیصد یا اس سے زائد مارکس ہونا چاہیے اور خاندان کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپئے سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ آرٹس ، سائنس ،کامرس، بی ایڈ، جرنلزم، ذراعت، فاضل ، مولوی، ڈپلوما (ایک سال یا اس سے زائد)، انڈرگریجویٹ لاء، انڈرگریجویٹ مینجمنٹ و کمپیوٹر، نرسنگ ، پالی ٹیکنک، ایم فل ، پی ایچ ڈی، آئی ٹی ٹی وغیرہ کے کورسزکے لیے یہ سکالر شپ دی جاتی ہے۔ کورسیس کی مکمل تفصیل مائناریٹی افئیرس کی ویب سائٹ www.minotiryaffairs.gov.inپر دستیاب ہے۔ ۳۰ فیصد سکالر شپ طالبات کے لیے مختص ہیں۔ 
٭  میرٹ کم مینس سکالرشپ (آخری تاریخ ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۰؁ء )  :  انڈر گریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ سطح کے ٹیکنیکل اور پروفیشنل کورسیس کے طلبہ اس سکالرشپ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ گذشتہ جماعت میں ۵۰ فیصد یا اس سے زائد مارکس ہونا چاہیے اور خاندان کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپئے سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ملک کے ۸۵ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی مکمل فیس اس سکیم کے تحت ادا کی جاتی ہے ان اداروں میں قومی سطح کے تمام ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور دیگر ادارے شامل ہیں جن کی تفصیل مائناریٹی افئیرس کی ویب سائٹ www.minotiryaffairs.gov.inپر دستیاب ہے۔  اس سکیم کے تحت جن کورسز کے لیے سکالرشپ دی جاتی ہے ان میں میڈیکل، انجینئرنگ، فارمیسی، انتظامیہ(مینجمنٹ)، آرکیٹیکچر، ہوٹل مینجمنٹ، اپلائیڈ آرٹس، پیرا میڈیکل کورسیس، ویٹیری نیری، چارٹرڈ اکائونٹینسی، کمپنی سیکریٹری، کاسٹ اکائونٹنگ ، ایل ایل بی اور ایل ایل ایم وغیرہ کورسیس شامل ہیں۔ ۳۰ فیصد سکالر شپ طالبات کے لیے مختص ہیں۔ 
رابطہ۔ 9970809093