اقتدار ملا تو بھوک رہے گی نہ افلاس

رائے پور// کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر صنعت کاروں کا خیر خواہ اور غریب و کسانوں کا مخالف ہونے کا سخت الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں اقتدار میں آنے پر کانگریس غریبوں کو کم از کم آمدنی کی ضمانت کا حق دے گی۔ مسٹر گاندھی نے اٹل نگر(نیا رائے پور) میں منعقد کسان آبھار کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی روزگار گارنٹی قانون (منریگا) کے ذریعہ لوگوں کو روزگار، فوڈ سیکورٹی قانون اور اطلاعات کا حق قانون کے تحت بیوروکریسی کے بند دروازوں کو کھولنے کا کام کانگریس نے کیا اور اب مزید قدم آگے بڑھاتے ہوئے 2019میں اقتدار میں آنے پر غریبوں کو وہ کم از کم آمدنی کی ضمانت کاحق دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی ملک نے ابھی تک کم ازکم آمدنی کی ضمانت کا حق نہیں دیا ہے اس تاریخی کام کو ہندوستان میں کانگریس کرے گی۔ اس کے تحت لوگوں کو بینک اکاونٹ میں ہر ماہ ایک مقررہ رقم حکومت کی طرف سے جمع کرائی جائے گی جس سے کہ غریب بھی بہتر زندگی گذار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نہ تو بھوکا رہے گا اور نہ ہی غریب۔ اسے حکومت کرکے وہ ثابت کردیں گے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ مودی دو ہندوستان بنانا چاہتے ہیں ۔ پہلا ہندوستان امبانی، میہول چوکسی’ نیرو مودی ’وجے مالیا اور ان کے صنعت کار دوستوں کا ہے ۔جنہیں زمین ، پانی، بجلی ، قرض جو بھی چاہئے مل جائے گا۔ جب کہ دوسر ہندوستان کے غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور بے روزگاروں کا بنانا چاہتے ہیں جس کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے ۔ کانگریس ایسا نہیں ہونے دیگی۔یو این آئی
 
 
 

رافیل معاملہ پرپھر مودی پر سادھا نشانہ

کہا ثبوت دستیاب ،کارروائی نہیں ہوتی

یو این آئی
 
نئی دہلی//کانگریس صدر راہل گاندھی نے رافیل معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گوا کے وزیر اعلی منوہر پاریکر کے پاس سودا سے متعلق دستاویزات موجود ہونے کے دعوے کے سلسلے میں جو ٹیپ ایک ماہ پہلے سامنے آیا تھا اس پر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ مسٹر گاندھی نے پیر کوٹوئٹ ‘‘گوا میں رافیل طیارہ سودے کے سلسلے میں جو ٹیپ سامنے آیا اسے 30دن ہوچکے ہیں۔ اس سلسلے میں نہ تو کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی کسی طرح کی انکوائری کے احکامات دئے گئے ہیں۔ نہ ہی وزیر کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے ۔’’ کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیپ اصلی ہے اس کے باوجود کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔ انہوں نے لکھا‘‘ یہ ٹیپ یقینی طور پر ثابت شدہ ہے اور گوا کے وزیر اعلی پریکر کے پاس رافیل کی رازداری سے متعلق اہم دستاویزات ہیں اور اسی کی وجہ سے وزیر اعظم پر کارروائی نہیں ہورہی ہے ۔’’ انہوں نے گوا حکومت کے وزیر وشواجیت پی رانے کا ایک بیان بھی پوسٹ کیا ہے ۔ جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ٹیپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور اسکے ذریعہ کانگریس نے وزیر اعلی اور کابینہ کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کابینہ میں مسٹر پریکر نے رافیل کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں مسٹر گاندھی نے اس ٹیپ کا معاملہ لوک سبھا میں اٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن جب اسپیکر نے ان سے ٹیپ کی صداقت کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے پارلیمنٹ میں ٹیپ نہیں چلایا اور نہ ہی اس میں درج با ت چیت کا ذکر کیا۔یو این آئی