افغان حکومتی وفد کی ایران میں طالبان نمائندوں سے ملاقات

دوحا// افغان حکومت کے ایک وفد نے ایرانی دارالحکومت تہران میں طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے بتائی گئی ہے۔یہ ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب امریکا اور نیٹو فورسز کی افغانستان سے واپسی کے موقع پر طالبان کی طرف سے افغانستان میں کارروائیاں اپنے عروج پر ہیں۔ افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کی اس بات چیت کے آغاز پر ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف نے امریکا کی افغانستان سے واپسی کا خیر مقدم کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ افغانستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے افغان عوام اور رہنمائوں کو مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔قبل ازیںطالبان نمائندوںنے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اور دیگر حکومتی ارکان سے اہم ملاقات کی جس میں افغانستان کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دوحا میں موجود طالبان مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن سہیل شاہین نے واٹس ایپ پر پاکستانی صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ عبداللہ عبداللہ سمیت ا فغانستان کے اہم سیاستدان دوحا آئیں اور انٹرا افغان بات چیت میں حصہ لیں تاکہ جلد از جلد افغان مسئلے کا پر امن حل نکالا جائے۔
 

برطانیہ کی بیشتر فوج کی افغانستان سے واپسی: جانسن

لندن // (یو این آئی / اسپوٹنک) وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کو کہا کہ فوج کے بیشتر اہلکار افغانستان سے واپس لوٹ چکے ہیں اور سبھی جوانوں کا واپس لوٹنا جاری ہے۔ جانسن نے برطانوی پارلیمنٹ کو بتایاکہ "افغانستان میں نیٹو مشن میں بھیجے گئے تمام برطانوی فوجی اب واپس آ رہے ہیں۔ میں اپنی روانگی کے ٹائم فریم کا انکشاف نہیں کروں گا لیکن میں ایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے بیشتر جوان پہلے ہی روانہ ہو چکے ہیں۔‘‘وزیر اعظم نے کہا کہ برطانیہ نے افغانستان میں نیٹو مشن کو کبھی کمتر نہیں سمجھا۔ انہوں نے فوجی جوانوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جانسن نے بتایاکہ "افغانستان میں بین الاقوامی فوج کی موجودگی کا ارادہ کبھی مستقل نہیں تھا۔