افغان امن کانفرنس

 ماسکو //امریکہ، روس، چین اور پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے تمام فریقین سے تشدد میں کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ طالبان سے کہا گیا ہے کہ وہ موسمِ بہار میں اپنی کارروائیوں کو ترک کر دیں تاکہ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔یہ مطالبات روس کی میزبانی میںماسکومیں ہونے والی افغان امن کانفرنس کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں سامنے آئے ہیں۔کانفرنس میں امریکہ، پاکستان اور میزبان روس کے نمائندے بھی شریک تھے۔یہ ایک روزہ کانفرنس افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بلائی گئی تھی اور اس کا انعقاد ایسے موقع پر ہوا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔کانفرنس کے مشترکہ بیان میں افغان فریقین سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الافغان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنائیں اور افغانستان کو ایک آزاد، خود مختار، پرامن، متحد، جمہوری اور خود کفیل ملک بنانے کے اقدام کی حمایت کریں اور ملک کو دہشت گردی اور منشیات سے پاک کریں۔مشترکہ بیان میں افغانستان میں خواتین، بچوں، اقلیتوں اور دیگر کے حقوق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ "ہم اسلامی امارات کی بحالی کی حمایت نہیں کرتے بلکہ افغان حکومت سے کہتے ہیں کہ اس کی قومی مفاہمتی کونسل طالبان کے نمائندوں کے ساتھ مل کر معاملات طے کرے۔"واضح رہے کہ طالبان افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے "اسلامی امارات" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان جنگ کے خاتمے اور امن کے لیے گزشتہ برس ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت یکم مئی کو تمام غیر ملکی افواج کو واپس اپنے ملک جانا ہے۔