افغانستان کی مسجد اور سکول پر حملہ

حسین محتشم
پونچھ//انجمن جعفریہ پونچھ کی جانب سے بعد نماز جمعہ احاطہ مرکزی جامعہ مسجد علی علیہ السلام پونچھ میں ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ عمل میں لایا گیا۔اس احتجاجی مظاہرے کے دوران افغان حکومت، آئی ایس آئی، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سخت نعرہ بازی کی گئی۔مظاہرین نے افغانستان میں ہو رہے خود کش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور نمازیوں اور سکول کے بچوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران امام جمعہ و جماعت علی جامع مسجد پونچھ مولانا ظہور علی نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے مسلمان دشمن ہیں جو مسجدوں اور سکولوں پر حملے کر کے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مسلمانوں کا چہرہ مسخ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان حکومت کی مذمت کی جو اس طرح کے حملوں پر قدغن لگانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے شیخ سجاد پونچھی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ دنیا خاموش ہے اور لوگ بے گناہ مارے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں لگاتار مساجد سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنا کر ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور کوئی اس کے خلاف آواز بلند نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔شیعہ فیڈریشن پونچھ کے جنرل سیکریٹری نجم جعفری نے اس دوران افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ نمازیوں اور اسکول کے بچوں کا قتل عام ہورہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بالکل منقطع کریں اور افغانستان حکومت پر دباؤ بنائیں کہ وہ اس طرح کے حملوں پر قدغن لگائے اور اقلیتی طبقوں کو تحفظ فراہم کریں۔