افغانستان کا قائمقام وزیر خزانہ ملک سے فرار

کابل//افغانستان میں طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اورمتعدد صوبوں پر کنٹرول کے باعث افغانستان کے شہری اور اقتدار میں شامل افراد ہی نہیں بلکہ وزیر بھی ملک سے فرار ہونے لگے ہیں۔
اے آر وائی نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل امریکی فوجیوں کے مترجموں کی بڑی تعداد خصوصی طیارے کے ذریعے واشنگٹن روانہ ہونے کی خبر آئی تھی اور اب افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
افغان وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی افغان سرزمین پر قبضے میں تیزی کے باعث خالد پائندہ نے استعفیٰ دیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ خالد پائندہ کی ملک چھوڑنے کی دوسری وجہ ان کی بیمار اہلیہ ہیں، جنہیں بیرون ملک علاج کیلئے لے جانا ضرور تھا۔
یورپی یونین کے مطابق غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک کے پینسٹھ فیصد حصے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی تیزی سے جاری ہے۔
اس سے قبل اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ہاتھوں افغان فورسز کی شکست کے بعد افغان آرمی چیف ولی محمداحمد زئی کوعہدے سے ہٹایا اور ہیبت اللہ کو نیا آرمی چیف تعینات کیا ہے۔
یاد رہے کہ طالبان نے چھ روز میں نو صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قندھار میں طالبان اور فورسزمیں جاری لڑائی میں شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔
طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ قندوز ایئرپورٹ پر افغان فورسز کے درجنوں سپاہی ہتھیار ڈال کر متعدد گاڑیوں، اسلحے سمیت طالبان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔