افغانستان سے باہر نکلنے والی سرگرمی پر نئی دہلی کو تشویش

    نئی دہلی// چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ بھارت نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کی توقع کی تھی ، لیکن اتنی جلدی صورتحال تبدیل ہوجائیگی اسکی توقع نہیں تھی۔ نئی دہلی میں’دی انڈیا،یو ایس پارٹنرشپ: سیکیورنگ دی 21 صدی‘ کے موضوع پر ایک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن تقریب سے خطاب کے دوران افغانستان کے بارے میں نئی دہلی کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنرل راوت نے کہا کہ بھارت کو تشویش ہے کہ کس طرح افغانستان سے دہشت گرد انہ سرگرمیاں بھارت میں پہنچ سکتی ہیں اور اس حد تک نئی دہلی کی ہنگامی منصوبہ بندی جاری تھی اور ملک اس کے لئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے ، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغانستان سے باہر نکلنے والی کسی بھی سرگرمی اور ہندوستان میں ایسی کسی سرگرمی سے اس طرح نمٹا جائے گا، جس طرح ہم اپنے ملک میں دہشت گردی سے نمٹ رہے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف نے مزید کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ ، اگر کوآرڈینیشن سے دہشت گردوں کی شناخت اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ سے لڑنے کیلئے کچھ انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے میں سامنے آسکتی ہے ، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ خوش آئند ہوگا۔ جنرل را وت نے کہاکہ افغانستان میںجو کچھ بھی ہوا، وہ ایسا کچھ تھا جس کی توقع کی جا رہی تھی ، صرف ٹائم لائن تبدیل ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستانی نقطہ نظر سے ، ہم طالبان کے افغانستان پر قبضے کی توقع کر رہے تھے۔تاہم انہوںنے کہاکہ قبضے کی ٹائم لائن نے ہمیں حیران کر دیا ہے کیونکہ ہم یہ توقع کر رہے تھے کہ شاید یہ کچھ مہینوں میں ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔جنرل راوت نے کہاکہ طالبان وہی ہیں جو 20 سال پہلے وہاں موجود تھے۔راوت نے مزید کہاکہ جو خبریں وہاں سے آئی ہیں وہ سب ہمیں بتا رہی ہیں کہ طالبان کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔انہوںنے کہاکہ جو کچھ ہوا وہ یہ ہے کہ شراکت دار اب بدل گئے ہیں۔ یہ ایک ہی طالبان ہے جس کے مختلف شراکت دار ہیں۔
 
 

ہوم سیکریٹری کی صدارت میں میٹنگ 

سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی//جموں کشمیر کی سیکورٹی صورتحال سے متعلق نئی دہلی میں منگل کی شام ہوم سیکریٹری کی صدارت میں ایک خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں سیکورٹی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا جبکہ ساتھ ہی کچھ عرصے سے جموںکشمیر میں عسکری سرگرمیوںمیں اضافہ کے علاوہ لائن آف کنٹرول کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ مرکزی داخلہ سیکریٹری اجے بھلہ کی سربراہی میں ہوئی میٹنگ میں پولیس سربراہ دلباغ سنگھ، اے جی ڈی پی جموں مکیش سنگھ ، آئی بی چیف کے علاوہ دیگر افسران موجود تھے ۔ میٹنگ میں لائن آف کنٹرول پر ڈرون واقعات ، جموں کشمیر میں سیاسی کارکنوں پر حملوں اور جموں کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈرونز کی نقل و حرکت روکنے کے علاوہ عسکری سرگرمیوں کو قابو میںکرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے ۔ میٹنگ میں جموں کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا بھی جائیزہ لیا گیا اور عسکری سرگرمیوں کے بارے میں بھی جانکاری لی گئی ۔ حالیہ ایام میں سیاسی کارکنوں پر ہوئے حملوں کے بارے میں بات چیت کی گئی اور سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی کہ وہ کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کیلئے متحرک رہے۔ میٹنگ میںپاکستان اور طالبان کے ممکنہ جموں کشمیر پر اثرات پر بھی غور و خوض کیا گیا اور سیکورٹی اداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں ۔