افغانستان : بحران ٹلنے کے کتنے امکان؟

افغانستان  ۱۹۷۰ء کے بعد سے تباہ کن جنگوں کی لپیٹ میں رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ تباہی کا شکار ہے۔۱۹۱۹ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں مختلف نظامِ حکومت آزمائے جا چکے ہیں۔ ان میں کمیونسٹ حمایت یافتہ جمہوریت سے لے کر آمرانہ طرز کی اسلامی امارات اور پھر امریکا سے درآمد شدہ جمہوریت بھی شامل ہے۔لیکن کوئی بھی نظامِ حکومت داخلی لڑائی اور جنگوں کے بغیر معاشرتی،نسلی اور ثقافتی حوالے سے متنوع اس ملک کو چلانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب جب کہ موجودہ افغان جنگ کے تمام فریق ملک میں قیام امن کے لیے رضامند دکھائی دیتے ہیں،تو انھیں ماضی کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ایک پر امن اور پائیدار نظام حکومت کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔بدقسمتی یہ ہے کہ ملک اب مستقل طور پر سیاسی افراتفری، تنازعات اور لڑائی جھگڑوں کا شکار ہو چکا ہے۔ اس بحران میں قومی اور عالمی کرداروں کے عمل دخل کی وجہ سے مستقبل قریب میں کسی بھی منصوبے پر اتفاق ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے۔کیوں کہ اس جنگ کا ہر فریق چاہے وہ ملکی ہو یا غیرملکی، خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور کنٹرول میں اضافے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے ملک مستقل عدم استحکام کا شکار ہے۔
غیر ملکی حملے، انقلاب اور بغاوتیں:
ملک کے پہلے صدر ’’محمد داؤد خان‘‘کا قتل اور ’’انقلابِ ثور‘‘ کو ملک کے موجودہ مسائل کا نقطہ آغاز تصور کیا جا تا ہے۔۱۹۷۳ ء میں داؤد خان نے افغانستان میں بغیر خون خرابے کے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور اس کی جگہ ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ جو کہ بظاہر اصلاحی اور ترقی پسند دکھائی دیتا تھا،لیکن کمیونسٹ جماعتوں سے اختلافات ان کے قتل کا موجب بنے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کے ارکان نے ان کو قتل کردیا۔ پھر PDPA اقتدار میں آئی،لیکن اندرونی تنازعات نے اسے کسی بھی قسم کی پیش رفت نہ کرنے دی، اس دوران مقامی شورشوں نے سوویت یونین کو دسمبر ۱۹۷۹ء میں اپنی اتحادی حکومت بچانے کے لیے حملے کا جواز فراہم کر دیا۔اس حملے کے نتیجے میں مجاہدین نے سوویت یونین کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے۔ نہ صرف مجاہدین کی مقامی خطے کے بارے میں مکمل معلومات اور ان کی بہادری نے سوویت افواج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، بلکہ ان مجاہدین کو امریکا، پاکستان، ایران اور سعودی عرب جیسے ممالک نے وسائل کی مد میں اور مالی لحاظ سے بھرپور امداد دی۔ ۱۹۸۸ء میں سوویت یونین کی فوج نے افغانستان سے نکلنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔لیکن اس وقت تک ملک کی تقریبا ۹ فیصد آبادی اس جنگ کا شکار ہوچکی تھی یعنی دس سے پندرہ لاکھ لوگ اس جنگ میں مارے جا چکے تھے۔ مارے جانے والوں میں سے نصف کا تعلق فوج سے نہ تھا۔۱۹۸۶ء تک پچاس لاکھ کے قریب افغانی اپنے پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران کی طرف ہجرت کر چکے تھے۔
خانہ جنگی:
افغانستان، امریکا، سوویت یونین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے نتیجے میں ایک تنازع کا تو خاتمہ ہو گیا،لیکن بہت جلد ہی ملک دوسرے تنازعات کی لپیٹ میں آ گیا۔ سوویت یونین کی حمایت یافتہ کٹھ پتلی حکومت، جس کی سربراہی افغان خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ محمد نجیب اللہ کر رہے تھے،نے اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے بہت جدوجہد کی۔کمزور نظام حکومت کی وجہ سے مجاہدین جو کہ اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دے چکے تھے، اب چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہو کر ملک کے اہم حصوں پر قابض ہونے لگے۔ نجیب اللہ حکومت کے خاتمے پر پشاور میں مجاہدین کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں نگراں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا۔لیکن یہ حکومت داخلی لڑائی کی وجہ سے آغاز ہی سے مشکلات کا شکار رہی، بعد ازاں جمعیت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نگراں حکومت کے صدربرہان الدین ربانی نے اپنی تین ماہ کی مدت پوری ہونے پر استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا،جس کے نتیجے میں حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار نے کابل پر چڑھائی کر دی۔ یاد رہے کہ حزب اسلامی نے پشاور میں ہونے والے معاہدے میں فریق بننے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ ان کے گروہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔کابل پر کنٹرول کے لیے مجاہدین کے درمیان چار سال تک شدید لڑائی جاری رہی۔ انفراسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ ساتھ بہت سے عام شہری بھی اس خانہ جنگی کا شکار ہوئے۔ ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۶ء جاری رہنے والی اس خانہ جنگی میں گلبدین حکمت یار کے گروہ نے بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا، اس بنیاد پر انھیں “Butcher of Kabul” بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے نمایاں مخالف احمد شاہ مسعود تھے جو ’’پنجشیر کے شیر‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں سوویت یونین سے لڑائی کی وجہ سے احمد شاہ مسعود مشہور ہوئے اور پھر نگراں حکومت میں وزیر دفاع بھی رہے۔ جمعیت اسلامی اور حزب اسلامی نے افغان خانہ جنگی میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ دونوں گروہ آپس میں لسانی بنیادوں پر لڑتے رہے تھے۔ جمعیت اسلامی میں اکثریت تاجکوں کی تھی(تاجک افغانستان کی دوسری بڑی لسانی اکائی ہیں)۔ جب کہ حزب اسلامی پشتون اکثریتی جماعت تھی۔ بھارت، جو کہ سوویت افغان جنگ سے دور رہا تھا، نے صدر ربانی کی نگراں حکومت سے اپنے تعلقات مضبوط کرنا شروع کر دیے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ بھارت نے بھی طالبان مخالف شمالی اتحاد کے رہنما احمد شاہ مسعود کی مکمل حمایت کی۔ احمد شاہ مسعود نے ۲۰۰۱ء کے شروع میں یورپی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے کہا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغان عوام کی مدد کریں، مزید یہ کہ پاکستان اور اسامہ بن لادن کی حمایت کے بغیر طالبان ایک سال بھی اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس خطاب کے دوران احمد شاہ مسعود کے ساتھ افغانستان کی تمام لسانی اکائیوں کے راہنما بھی موجود تھے۔ شروع میں پاکستان نے پشتون اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے حزب اسلامی کی حمایت کی لیکن بعد ازاں طالبان کی مالی اور فوجی امداد کرنے لگا۔
طالبان اور امریکی حملہ:
جس دوران حزب اسلامی، جمعیت اسلامی اور مجاہدین کے دیگر گروہ آپس میں لڑ رہے تھے اس دوران سرحد پار پاکستان میں طالبان مضبوط ہو رہے تھے۔ ملا عمر نے پاکستانی مدرسوں میں پڑھنے والے طالب علموں اور پرانے مجاہدین کو بھرتی کیا، جن میں سے اکثر پشتون تھے۔ طالبان کا بنیادی مقصد افغانستان میں اسلامی قوانین کا سختی سے نفاذ اور ملک سے تمام غیر ملکی عناصر کا صفایا کرنا تھا۔ طالبان نے کئی دہائیوں کی جنگ، غیر ملکی مداخلت اور ناکام حکومتوں سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ افغان خانہ جنگی کے دوران طالبان پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے افغان علاقوں پر قبضہ کرتے گئے اور آخر کار ستمبر ۱۹۹۶ میں طالبان نے کابل میں قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد طالبان نے اپنے طرز کی اسلامی امارت افغانستان قائم کرنے کا اعلان کیا، جسے صرف پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا۔
احمد شاہ مسعود کو شمالی افغانستان تک محدود کر دیا گیا، اور وہاں سے انھوں نے طالبان کے خلاف شمالی اتحاد کے نام سے مزاحمت جاری رکھی۔ طالبان کے نافذکردہ سخت گیرقوانین کو دنیا مختلف مواقع پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی،لیکن ۱۱ ؍ستمبر کے حملوں کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔۱۱ ؍ستمبر کے حملوں کے بعد جب طالبان نے اُسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو امریکا نے افغانستان پر حملوں کا آغاز کیا اور طالبان کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد یہاں ایک نگراں حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا،لیکن اس کے ساتھ امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہی۔ اگرچہ طالبان اپنی حکومت تو نہ بچا سکے لیکن اب بھی ملک کے پچاس فیصد حصے پر ان ہی کا کنٹرول رہا ہے۔ اب بھی افغانستان کے بہت سے علاقوں میں طالبان کو ہی جائز حکمران تسلیم کیا جاتا ہے،کیوں کہ طالبان عوام کو وہ تمام سہولیات مہیا کر رہے ہیں، جن کی فراہمی میں کابل حکومت ناکام رہی۔ طالبان نے انصاف کی فراہمی کے لیے شرعی عدالتیں قائم کیں اور اب تو لڑکیوں کے لیے بھی تعلیمی سہولیات مہیا کر رکھی ہیں لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ طالبان تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ملک میں اپنی عسکری کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان کا خوف اور اثر و رسوخ برقرار رہے۔ اس کے علاوہ ان کے ملک میں موجود دیگر عسکری تنظیموں سے بھی مضبوط تعلقات ہیں۔ طالبان کی مستقل مزاحمت کے باوجود امریکا اب اس۱۸ ؍سالہ طویل جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کا خواہاں ہے، اسی سلسلے میں ایک امن معاہدے کے لیے اس نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کار اس پر حیر ت زدہ ہیں کہ چار دہائیوں کی تباہی اور جنگ کے بعد کیا اب بھی افغانستان میں امن کا انحصار طالبان پر ہی ہے؟
امریکا طالبان مذاکرات:
قومی اتحاد کی کمی، دہائیوں سے جاری خانہ جنگی،لسانی بنیادوں پر معاشرے کی تقسیم اور عالمی و مقامی قوتوں کے آپس میں متصادم مفادات کے ہوتے ہوئے کسی مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہونا تقریبا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔فی الحال ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل میں جو دو مقامی طاقتیں اہم کردار ادا کریں گی وہ طالبان اور اشرف غنی کی حکومت ہوگی۔ لیکن اب تک تو ان دو طاقتوں کے درمیان خاطر خواہ روابط قائم نہیں ہو سکے ہیں،کیوں کہ طالبان اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور نہ ہی افغان حکومت طالبان کے دیگر ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ طالبان کے غیر ملکی حکومتوں اور افغان عمائدین کے ساتھ مذاکرات سے ان کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے،جب کہ ان اقدامات سے افغان حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔قطر میں طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ اگرچہ دونوں فریق ۱۸ سالہ جنگ کا جلد از جلد خاتمہ چاہتے ہیں،تاہم فریقین کے درمیان امریکی فوج کے انخلا کے معاملے پر واضح اختلاف پایا جا تا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ اس وقت تک فوجی انخلا شروع نہیں کرنا چاہتی، جب تک طالبان ملک میں موجود دیگر جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی کے حوالے سے کوئی واضح موقف اختیار نہ کرلیں۔ امریکا کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ فوجی انخلا سے پہلے طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں۔
(بقیہ منگل کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)