افطار پارٹی نہیں زخموں پر نمک پاشی

سرینگر// حریت(ع) چیئر مین سید علی گیلانی نے شوپیان میں فوجی اہلکاروں کے آپریشن کے تحت عام اور نہتے لوگوں پر گولیاں برساکر 4معصوم بچیوں کو شدید زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جابروں اور غاصبوں کی ہمیشہ سے یہ خصلت رہی ہے کہ وہ محکوموںکو پہلے زخم دیتے ہیں پھر اس پر نمک پاشی کرکے ان کے درد اور کرب میں اضافہ کرتے ہوئے دلی اور ذہنی تسکین حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ فوج ہے جو عرصہ دراز سے ریاست کے طول وعرض میں بالعموم اور جنوبی کشمیر میں بالخصوص عام لوگوں کے قتل عام میں سرتاپا شامل ہے۔ پُرامن احتجاج کرنے پر اسی فوج نے اپنے بندوقوں کے دہانے کھول کر سینکڑوں ماؤں کی گود اُجاڑ دی، ہزاروں جوانوں کو موت کی ابدی نیند سُلادیا اور بے شمار لوگوں کو زندگی بھر کے لئے اپاہج اور بینائی سے محروم کردیا۔ اب یہ وردی پوش علاقوں کے ان ستم رسیدہ اور غم زدہ لوگوں کو کھجور کے چند دانے دے کر اپنی جھوٹی اور مصنوعی ہمدردی کا ڈرامہ رچانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا مبارکباد کے مستحق ہیں وہ با ایمان اور باغیرت لوگ جنہوں نے اس بھونڈی خیر سگالی کا پردہ چاک کرکے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ گیلانی نے عوام کو خبردار کیا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں فوج ہر شہر میں افطار پارٹیوں کا انعقاد کرکے لوگوں کے ساتھ رابطہ بڑھاکر اور گل مل ہوکر کشمیریوں کے خون سے رنگے اپنے ہاتھوں کو دھونے کی مذموم کوشش کریں گے، لہٰذا تمام لوگ شوپیان کے غیور عوام کی طرح ان فریبی پارٹیوں میں شامل نہ ہوں۔