افسپا پر خاموشی!

 ریاست کے حالیہ دورے کے اختتام پر مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ میڈیا سے مخاطب ہوئے ۔ اس دوران انہوں نے ’’میٹھی ‘‘ باتیں بھی کیں اور ’’کڑوی ‘‘بھی ، وعدوں کی سوغات کا بھی ذکر کیا اور پاکستان کو ہدف ِ تنقید بھی بنایا ، کشمیر کیلئے فائیو سی ( 5C)کا فارمولہ بھی پیش کیا اور علیحدگی پسندوں کو میز پر آنے کے لئے بھی کہا۔ وزیر داخلہ کی میٹھی یا کڑوی باتوں کو دل بہلانے کی حد تک پسند یا ناپسند کیا جاسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام نے ان کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں لی ۔ اس دوران ان کا یہ انکشاف کہ جن پچپن وفود نے ان سے ملاقات کی، کسی نے بھی افسپا ہٹانے کی بات نہیں کی، عوام الناس کے لئے یقینا باعث حیرت ہی نہیں بلکہ مایوس کن بھی ہے ۔ ریاست کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں اُن سے ’’درجنوں وفود‘‘ نے ملاقات کی،اس میں کوئی شک نہیں ۔ ان میں سیاست دان بھی تھے اور تاجر بھی ، سول سوسائٹی کے ممبران بھی تھے اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ۔ اگر وزیر داخلہ کی بات کو صحیح مان لیا جائے ، ویسے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ کہیں سے اس کی تردید بھی نہیں ہوئی، تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ افسپا کی اب ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رہی۔ حالانکہ یہی وہ کالا اور اندھا قانون ہے جو فورسز کی طرف سے کئے جانے والے تشدد کو جواز بخشتا ہے ، انہیںغارت گری کا لائسنس عطا کرتا ہے اور انسانی حقوق کو پائوں تلے روندھنے ، انسانی جانوں کے زیاں اور مال و اسباب کو تباہ کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ مختصراًیوں کہا جاسکتا ہے کہ افسپا ہی اصل فساد کی جڑ ہے اور اسی کے سہارے ظلم و جبر اور ماردھاڑ کے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔  سپاہی سے لے کر فوجی سربراہ تک ہر کوئی اس کے دفاع میں نہایت ہی فراخ دلی سے دلائل دینے میں پیش پیش رہتا ہے اور ملک کی فسطائی ذہنیت رکھنے والی تنظیمیں ان کی ہاں میں ہاں ملانے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ 
ریاست میں افسپا کے نفاذ کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ سیاست ہوتی رہی ہے اور نہ صرف ریاست کی سیاسی جماعتیں اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں بلکہ ملک میں بھی اس کے خلاف آوازیں اٹھتی رہی ہیں چاہے وہ گنی چنی ہی کیوں نہ ہوں۔ اب اچانک کیا ہوگیا کہ افسپا کی اہمیت اس قدر کم ہوگئی کہ اس کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ اگر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ افسپا کا ذکر خیر نہ کرتے تو شاید ہمیں بھی اس حوالے سے سوچنے کا موقعہ نہ ملتا۔ 
جہاں تک کشمیر کے سیاسی منظرنامے کا تعلق ہے تو یہ کہنا بیجانہ ہوگا کہ فی الوقت یہ جمود کا شکار نظر آتا ہے۔ دلّی کی چانکیائی سیاست نے وہ کرشمے کر دکھائے ہیں جن کی کسی کو توقع ہی نہ تھی۔ ہماری سیاسی قیادت ہمیشہ سے خوش فہمیوں کا شکار رہی ہے اور اسی سیاسی بصیرت کا بھی جواب نہیں ۔ دِلّی کی چانکیائی سیاست کا کارنامہ دیکھئے کہ این آئی اے کی چھڑی دکھا کر سیاسی قائدین کو ششدر کر دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ مزاحمتی قیادت بیک فُٹ پر ہے اور این آئی اے چھاپہ مارنے (ڈرانے دھمکانے ) کی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اب ذرا مین اسٹریم کی بات کریں تو یہاں بھی افراتفری کا عالم نظر آتا ہے ۔ حکمران پی ڈی پی پر ہر دم نشانہ سادھنے والی جماعت نیشنل کانفرنس کا حال بھی کچھ اچھا نہیں۔ صدر ،قائمقام صدر اور معاون جنرل سیکریٹری کے خیالات میں واضح تضاد نظر آتا ہے ۔ تینوں میں بھائی ، باپ ، بیٹے اور چچا کا رشتہ ہے۔ صاحب صدر کی آج کی للکار کل معذرت خواہانہ پکار بن جاتی ہے ۔ قائمقام صدر اپنا ایک الگ مقام منوانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں لیکن حالات ساتھ نہیں دیتے ۔ معاون جنرل سیکریٹری البتہ جذبات میں آکر کبھی کبھی کھری کھری سنادیتے ہیں ۔  دفعہ 370؍اور 35؍اے کے تعلق سے پارٹی نے ظاہری طور کڑا رُخ اختیا رکر رکھا ہے لیکن یہ اپنے موقف پر قائم رہے گی، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ پارٹی کے قدآور لیڈر نے اپنے دورِ اقتدار میں یہ کہہ کر سب کو ششد ر کر دیا تھا کہ دفعہ370کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ۔ ۔۔۔۔۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پارٹی کے ایک وفد نے بھی قائمقام صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کی قیادت میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی تھی ۔ تعجب ہے کہ افسپا جیسے کالے قانون کو ہٹانے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی۔ وزیر داخلہ نے میٹنگ کے دوران اپنے دائیں طرف بٹھا کر سابق وزیر اعلیٰ کی جو عزت افزائی کی ، یہ اس کا بھی اثر ہو سکتا ہے کہ انہوں نے لب سی لئے تھے اور ایسے حساس موضوع پر لب کشائی نہ کی۔ 
جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو وہ نہ صرف ریاست کی کولیشن سرکار بلکہ مرکز کی بھاجپا حکومت کوہدفِ تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی ۔ دفعہ 370؍اور 35؍اے کے حوالے سے اس کی بے چینی کو کیا نام دیا جائے، سمجھ سے بالا تر ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ریاست کے لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا ’’شُبھ آرم ‘‘ کانگریس نے ہی کیا تھا ۔ دفعہ370کو کھوکھلا کرنے اور اپنے من پسند کٹھ پتلی سیاست دانوں کو اقتدار کی کرسی پر بٹھانے کیلئے کانگریس کا گھناؤنا کردار تاریخِ کشمیر کا سیاہ باب ہے۔ افسپا جیسے کالے قانون کو ریاست میں نافذ کرنا بھی کانگریس ہی کا کارنامہ ہے ، اس لئے کانگریس سے کیونکر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ افسپا کی منسوخی کے حوالے سے وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران بات کرتی۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ کانگریس اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کیلئے یا پھر اُن فاش گناہوں ،جو اسے کشمیر میں سرزد ہوئے ہیں، پر پردہ ڈالنے کیلئے 35A؍اور دفعہ370؍کے حوالے سے سیاست کر کے کشمیریوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہے گی۔ 
تعجب ہی نہیں بلکہ حیرت وتاسف کا بھی مقام ہے کہ افسپا کو ہدف تنقید بنانے والے ممبران اسمبلی محمد یوسف تاریگامی اور حکیم محمد یاسین نے بھی وزیر داخلہ سے ملاقات کے دوران اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔ تاجروں کے جو وفود راجناتھ سنگھ سے ملے ،انہوں نے بھی افسپا کی منسوخی کے تعلق سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا اور ملاقات کو اپنے مسائل تک ہی محدود رکھا۔ 
صورت حال کے اسی پیش منظر میں وزیر داخلہ نے ریاست میں ’’حالات میں بہتری‘‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ فی الوقت کشمیر کے حالات پہلے سے بہتر ہیں اور یہ بہت جلد معمول پر آئیں گے۔ وزیر داخلہ کا کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے اظہار مسرت غلط بھی نہیں۔ بہر صورت ماردھاڑ ، ظلم وجبر ، حراستی گمشدگیاں اور اموات افسپا کی ہی مرہونِ منت ہیں، اسی لئے عوام اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاکہ فورسز اس کی آڑ میں من مانی کارروائیاں کرنے سے باز رہیں۔ اب جب کہ اس کالے قانون کی منسوخی کا مطالبہ قصۂ پارینہ لگتا ہے ،دلّی اور فورسز کے لئے یہ ڈرامائی تبدیلی مسرت کا باعث ہونا فطری امرہے۔ یقینا اب فورسز کو ’’اپنی کارروائیاں‘‘جاری رکھنے میں مزید آسانیاںہوںگی، ویسے بھی انہیں کشمیر میں کس مواخذے یا جوابدہی کا ڈر ہے ؟ 
35A؍اور دفعہ 370؍کوعدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا عمل اور این آئی کا ہوا کھڑا کر کے دلّی کی کشمیر کی سیاسی صورت حال کو بڑی حد تک تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ افسپا جیسے کالے قانون کی آڑ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات اور احتجاج کی شدت 35A؍اور دفعہ 370؍کی منسوخی کے خلاف احتجاجی نعروں میں دب کر رہ گئی ہے اور سیاسی قائدین ہی نہیں عام سیاسی کارکن بھی این آئی اے کے عتاب سے بچنے کی دعائوں میں مصروف ہیں۔ 
سیاسی جدوجہد کے دوران ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب حکمرانوں کو بیک فٹ پر کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔ اس کیلئے دور اندیشی اور سیاسی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ مہینوں میں مزاحمتی قیادت کو ایسے کئی مواقع ملے تھے لیکن وہ ان کا فائدہ نہ اٹھا سکی۔ جامع مسجد کو تسلسل کے ساتھ مقفل کر کے نماز جمعہ پر پابندی عائد کرنا سرکار ایک ایسا مکروہ عمل  کہلایا جاسکتا ہے ، جس پر اُسے گھیرا جاسکتا تھا ۔ اس کیلئے دینی جماعتوں کے علاوہ مین اسٹریم جماعتوں اور عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے جن سنجیدہ اقدامات کی ضرورت تھی، ان کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی گئی۔اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ خود کو عوام کی نمائندہ کہلانے والی جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی اس سلسلے میں کوئی خاص رول ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی ،حالانکہ اس علاقہ کے ممبر اسمبلی کا تعلق بھی نیشنل کانفرنس سے ہی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جماعت کو اس حوالے سے شرم محسوس ہوئی ہو کہ اس نے اپنے دورِ اقتدار میں یہ ’’ سنہری کارنامہ ‘‘ خود بھی انجام دیا تھا۔ 
فی الوقت صورت حال یہ ہے کہ روایتی قیادت عوام کی توقعات پر پوری نہیں اُتر رہی ہے ۔، جب کہ عوام بیزار بھی ہیں اور مایوس بھی ۔ مسائل کے سنگین ہونے کا رونا بھی روتے ہیں اور کسی مسیحا کے منتظر بھی ہے ۔ سیاسی کارکن خوف کے شکار ہیں اور دلی کی چانکیائی سیاست کی نت نئی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مزاحمتی قیادت پر خطرے کی تلوار لٹک رہی ہے ،اس میں کوئی شک نہیں لیکن مین اسٹریم قائدین خود کو محفوظ سمجھ رہے ہوں تو اسے ان کی خوش فہمی ہی سمجھا جائے گا۔ گزشتہ 17؍سال کے واقعات کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دلّی نے کشمیر میں ہمیشہ ’’کام لو اور مطلب نکل جائے تو اٹھا کر پھینک دو ‘‘ کے فارمولے پر عمل کیا ہے۔ شیخ محمد عبداللہ ، بخشی غلام محمد ، غلام محمد صادق، سید میر قاسم، خواجہ غلام محمد شاہ ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ کس کس کا نام لیا جائے، سبھی کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا گیا، ان کی تعریفوں کے پُل باندھے گئے اور پھر جب یہ ریس کے گھوڑے نہ رہے تو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا۔ دلی دربار نے انہیں دیش بھگتی کی سند بھی عطا کی اور دیش دروہی ٹھہرانے میں دیر بھی نہیں کی۔ کشمیر کی موجودہ سنگین صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ سبھی سیاسی قائدین اپنا محاسبہ کریں ، اپنی غلطیوں کا ادراک کریں اور پھر عوام کے احساسات اور جذبات کا احاطہ کرتے ہوئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دے کر اس لٹی پٹی قوم کی طوفان میں پھنسی کشتی کو ساحلِ مراد تک لے جانے کی سعی کریں کہ وہ بھی اسی قوم کا حصہ ہیں۔ قوم کی بقاء کا سوال ہو تو ہر چیز کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ قوم ہے تو قیادت بھی ہے ، قوم نہیں تو کس کی قیادت اور کہاں کی قیادت؟ 
…………..
 نوٹ : مضمون نگار ہفت روزہ ’’جبروت ‘‘ کے مدیر اعلیٰ ہیں ۔
فون نمبر9797015597