افسرشاہی میں جمہوریت کمزور ہوتی ہے: کویندر گپتا

سرینگر//بیوروکریسی میں جمہوریت کمزور ہونے سے اتفاق کرتے ہوئے بھاجپا کے سینئر لیڈر و جموں وکشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے کہا ہے کہ اگر مرکزی حکومت یوٹی میں انتخابی عمل شروع کرکے مین سٹریم جماعتوں سے مذاکرات کرتی ہے تو اعتماد سازی کیلئے اس میں سبھی سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے۔ کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کویندر گپتا نے کہاکہ جموں وکشمیر کو مزید تقسیم کرنے کی افواہیں صرف افواہیں ہیں، ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر میں کچھ نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ اگر مرکزی حکومت مین سٹریم جماعتوں سے مذاکرات کرے گی ، تواس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ کویندر گپتا نے کہاکہ مرکز کو سوچنا ہوگا کہ اعتماد سازی کے طور پر سبھی مین سٹریم جماعتوں کی شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوںنے کہاکہ ’’ہم بھی جموں وکشمیر میں جلد سے جلد انتخابات کرانا چاہتے ہیں، ایک دفعہ جب حدبندی مکمل ہو جائیگی، ہم جموںوکشمیر میں چنائو چاہتے ہیں کیونکہ بیوروکریسی میں جمہوریت کمزور ہوتی ہے اور لوگوں کی آوازکو نہیں سُنا جاتا ہے۔ PAGDکی حالیہ میٹنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کویندر گپتا نے کہاکہ PAGDلیڈروں کا میٹنگ منعقد کرنا اپنی بقاء کیلئے ہیں اورانہیں جموں وکشمیر کے لوگوںنے پہلے ہی مسترد کردیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عوام PAGDکے اتحاد کو محسوس کرسکتے ہیں ، یہ کچھ نہیں ہے بلکہ یہ ان کیلئے بقاء ہے۔