افسانچے

آنے دو جانے دو
دیہات کی ایک کچی اور تنگ سڑک پہ مسافروں سے کھچا کھچ بھری بس ہچکولے کھاتی ہوئی اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھی۔ جتنے لوگ بس کے اندر تھے اتنے ہی بس کے اوپر سوار تھے۔اچانک دوسری جانب سے اشیائے خوردنی سے لدا ٹرک بس کے بالکل قریب آکے رک گیا ۔بس والے ڈرائیور کو مجبورا" ٹرک والے ڈرائیور کو راستہ دینے کے لیے بس رورس (REVERSE)کرنا پڑی۔کنڈیکٹر بس سے نیچے اترا اور اس نے بس والے ڈرائیور کو بس رورس کرنے کے لیے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے زور زور سے کہنا شروع کیا 
        "آنے دو—–آنےدو—-آنے دو"
        بس چڑھائی سے اترائی کی طرف آہستہ آہستہ کھسکنے لگی۔ کنڈیکٹر نے لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد پھر زورزور سے کہنا شروع کیا
       "آنے دو–آنےدو—آنےدو"
        دیکھتے دیکھتے جب بس کے پچھلےدونوں پہیے سڑک سے باہر جانے لگے تو کنڈیکٹر نے چیختے ہوئے کہنا شروع کیا
          "جانے دو–جانے دو—جانے دو—آگے جانے دو" چشم زدن میں بس ڈرائیور کے کنٹرول سے نکل گئی اور بے شمار دلدوز چیخوں کے ساتھ دور ایک نالے میں جاگری ۔مقام حیرت یہ کہ ڈرائیور اور کنڈیکٹر جائے پناہ کی تلاش میں بھاگنے لگے**
 
سیکولر ازم
         طاہر سیدھے سادے اور سچے کھرے آدمی ہیں ۔سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کہنا انھیں نہیں آتا ہے ۔ سنی سنائی باتوں کے بجائے وہ آنکھوں دیکھی چیزوں پہ زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ایک روز جب وہ  اپنے بچوں کے اسٹیٹ سبجیکٹ سرٹیفکیٹ بنوانے سے متعلق اہم کاغذات لے کر تحصیل آفس میں پہنچے تو متعلقہ کلرکوں میں وہ جس کلرک کے پاس گئے وہ انگریزی لباس میں ملبوس ، کلین شیوتھا، گلے میں سونے کی چین،ایک ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی اور دوسرے ہاتھ کی انگلی میں پکھراج کی انگوٹھی تھی ۔طاہر صدیقی نے اس کلرک کی وضع قطع دیکھی اور کہا
"نمستے"
کلرک کے چہرے پہ خفگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے بڑے کرخت لہجے میں کہا
"میرا نام محمد امین ہے "
طاہر بولے "مجھے معاف کیجئے ۔مجھ سے گستاخی ہوگئی"یہ کہتے ہوئے انھوں نے اسے اپنے کاغذات دکھائے اور دوسرے کلرک کی طرف قدم  بڑھائے ۔دوسرا کلرک سفید ململ کا کرتا پاجامہ زیب تن کیے ہوئے تھا اور مٹھی بھر سیاہ ڈاڑھی اور لمبی ذلفوں نے اسے خاصا پر کشش بنا دیا تھا۔طاہر نے اسے دیکھتے ہی کہا
"اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ"
کلرک کے ہونٹوں سے ہلکی سی مسکان ابھری اور پھر اس نے کہا 
  "مجھے رام رتن کہتے ہیں" طاہر ششدر سے رہ گئے انھیں اپنا آپ اس بلی کی مانند معلوم ہونے لگا جو کھسیانی ہونے کے بعد کھمبا نوچتی ہے***
 
کمان
         ایک ضعیف العمر شخص کہ جو زندگی کی نوے بہاریں دیکھ چکا تھا ۔برف کی مانند سفید بال، جھریوں بھرا چہرہ، ہاتھوں میں رعشہ اور کمر اس قدر خمیدہ تھی کہ دیکھنے سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بقچی پیٹھ پہ لیے جارہا ہو۔وہ دھیرے دھیرے سر جھکائے ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ تین نوجوان لڑ کوں نے اسے دیکھا ۔وہ تینوں اس بوڑھے آدمی کی جھکی ہوئی کمر پہ ہنسنے لگے ۔ ان میں سے ایک منچلے نوجوان    نے اونچی آواز میں اس بوڑھے آدمی سے پوچھا
            "دادا ۔آپ نے یہ کمان کتنے میں خریدی ہے؟" 
         اس بوڑھے آدمی نے آہستہ سے اپنے سر کو جنبش دی۔ لڑ کے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا اور اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنے قریب بلایا۔تینوں نوجوان بوڑھے کے قریب آگئے۔تب اس بوڑھے آدمی نے اس نوجوان کو جواب دیا
     "بیٹا جب تم میری عمر کو پہنچو گے تو تمہیں یہ کمان مفت میں ملے گی"
 
موبائل نمبر09419336120۔۔۔[email protected]