افسانچے

روٹی
قومی تہوار کی آمد پر لوگ نہ جانے کیوں ضرورت سے زیادہ خوش ہو رہے تھے ، ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے، یہاں  تک کہ مٹھائیاں بھی بانٹ رہے تھے مگر میرے لئے کیسے یہ خاص دن ہوتا ؟ جب کہ اس دن کی مناسبت نے میرے لئے  اور بھی مشکلیں بڑھا دی تھیں۔ میں کب سے انتظار میں تھا کوئی مجھے کام کے لئے آواز دے تاکہ میرے گھر میں شام کا  چراغ جلے اور میرے عیال کو ایک وقت کی روٹی نصیب ہو جائے۔
 
برما
’’اس فلم کا کیا نام ہے؟ ‘‘
جلتے ہوئے گھر اور جھلستے ہوئے لوگ دیکھ کر میری چھوٹی سی بیٹی نے پوچھا ۔
میں لاجواب تھا۔
میں نے بات کو ٹالنا چاہا، پر بیٹی نے اصرار کیا۔
’’بولو نا  پاپا؟‘‘ 
میرے ہونٹ تھرتھرارہے تھے، میں دل ہی دل میں انسانیت پر فاتحہ پڑھ رہا تھا۔مجھے افسوس تھا کہ انسان اتنی حد تک  گر سکتا ہے۔ مجھے اس لاچاری پہ بھی ترس آرہا تھا کہ چند افراد کے ہاتھوں لوگ مر رہے تھے اور ہم کثرت کے باوجود بھی  ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تماشہ دیکھ رہے تھے۔
میری بیٹی نے پھر سے پوچھا ۔
میں نے اک آہ بھری اور کہا: ـ’’ـبرما‘‘ــ
 
بُڑھاپے کا سہارا
میرے بیٹے نے کل میری عاجِز التجا سُن کر یوں مجھے طاقتِ گفتار کا احساس دلایا کہ اُس گھر کے در و دیوار لرز اُٹھے جو ہم  نے کبھی اُس کے لئے پیار سے بنا کے رکھا تھا۔
 
رابطہ؛نوگام سوناواری،7006566516